Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala september 2009
Al-Risala september 2009

خوف ِخدا کی پہچان

Urdu · 2 min read

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اِس طرح دریافت کرے کہ وہ اُس سے ڈرنے والا بن جائے۔ خدا کا خوف بلا شبہہ کسی کے دین دار ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ خوفِ خدا کی پہچان کیا ہے، اس کو کتاب اللہ کے مطالعے سے جانا جاسکتا ہے۔ اِس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: ولا یجرمنّکم شنئٰان قوم علیٰ ألا تعدلوا، اعدلوا ہو أقرب للتقویٰ (المائدۃ: 8 ) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اخلاقی اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں— ایک، معتدل حالت۔ اور دوسری، غیر معتدل حالت۔ معتدل حالت میں ہر انسان با اخلاق ہی ہوتا ہے۔ معتدل حالت کسی آدمی کے صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان نہیں ہوسکتی۔ صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی غیر معتدل حالت میں کس قسم کی روش کا اظہار کرتاہے۔ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات ہوں۔ ایسے حالات آپ کے تقویٰ کا امتحان نہیں ہوتے۔ تقویٰ کے امتحان کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کی اَن بن ہوجائے، جب کہ آدمی آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرے جو آپ کے لیے شکایت کا باعث بن جائے۔ جب آدمی کی کسی روش پر آپ مشتعل ہوجائیں، یہی وقت دراصل کسی شخص کے تقویٰ کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔

جو آدمی اختلاف کے وقت اعتدال پر قائم رہے، جو دشمنی کے وقت انصاف کی بولی بولے، جو منفی تجربے کے وقت بھی مثبت ردّ عمل کا اظہار کرے، وہی متقی انسان ہے۔ وہی وہ انسان ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہے۔ یہ ڈر اُس کے لیے اِس بات کا ضامن بن گیا ہو کہ وہ ہر حال میں تقویٰ کی روش پر قائم رہے، کسی کا ناروا سلوک اُس کو تقویٰ کی روش سے ہٹانے نہ پائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو اللہ کے یہاں متقی انسانوں میں شامل کیا جائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content