Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala september 2009
Al-Risala september 2009

روزہ: قرآن کا مہینہ

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، وہ ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا، پس تم میں سے جو کوئی اِس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے‘‘۔ (البقرۃ:185 ) اِس سے معلوم ہوا کہ روزے کا مہینہ خصوصی طورپر قرآن سے استفادے کا مہینہ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ذہنی طورپر تیار کیا جائے، تاکہ وہ قرآن کے مطالعہ اور تدبر سے زیادہ سے زیادہ حصہ پاسکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 اگست1947 کی رات میں انڈیا کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی تھی۔ اِس واقعے پر بہت سی کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب وہ تھی جس کو دو مغربی صحافیوں نے لکھا تھا۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا—نصف شب کی آزادی:

Freedom at Midnight

اِس کتاب کی تیاری کے لیے دونوں صحافی وقتی طورپر دنیا سے کٹ گئے۔ چناں چہ ایک انٹرویو میں انھوںنے کہا تھا کہ —ہم نے راہب جیسی زندگی گزاری، پھر ہم نے ’’نصف شب کی آزادی‘‘ تیار کی:

We lived like hermits, and we produced Freedom at Midnight.

نزولِ قرآن کے مہینے میں روزے کو فرض کرنے کا مقصد یہی ہے۔ روزے کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان دنیا سے صرف بقدر ضرورت تعلق رکھیں۔ وہ گویا وقتی طورپر راہبانہ زندگی اختیار کرلیں جس کی آخری صورت معتکف ہوجانا ہے۔ رمضان کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان اپنی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت بچائیں، وہ قرآن کا مطالعہ کریں، وہ قرآن کے مضامین پر غوروفکر کریں، وہ تراویح کی صورت میں حالتِ نماز میں قرآن کو سنیں۔ اِس طرح وہ سال میں کم ازکم ایک مہینہ خصوصی طورپر قرآن کے مطالعہ اور غور وفکر میں گزاریں۔ اِس مہینہ میں وہ صرف قرآن میں جئیں اور قرآن کو اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کا ذریعہ بنائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content