Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala September 2005
Al-Risala September 2005

کلمۂ معرفت

Urdu · 3 min read

صحیح البخاری میں روایات کی کُل تعداد (مکرَّرات سمیت) ۷۵۶۳ ہے۔ اس مجموعہ کی آخری حدیث یہ ہے: کلمتان حبیبتان إلی الرحمن، خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان: سُبحان اللہ وبحمدہٖ، سبحان اللہ العظیم۔ (دو کلمے رحمن کو بہت محبوب ہیں، وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر وہ میزان میں بھاری ہیں۔ وہ دو کلمے یہ ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پُر اسرار خواص چھپے ہوئے ہیں اور ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہی طلسماتی طورپر ان کے یہ خواص ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں پُراسرار طورپر وزن چھپا ہوا ہے اور قیامت کے تراز و میں رکھتے ہی وہ پلڑے کو جھکا دیں گے۔ ترازو کی تَول میں ان الفاظ کا بھاری ہونا در اصل تمثیل کی زبان میں ہے، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔ اس سے مراد اس کلمہ کا معنوی وزن ہے، نہ کہ مادی وزن۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل خدا کی معرفت ہے۔ یعنی خداوندِعالّم کو شعوری طورپر دریافت کرنااور اس دریافت کا انسان کی پوری شخصیت میں اُتر جانا۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم در اصل معرفتِ خداوندی کے کلمے ہیں۔ جب ایک انسان خدا کی ذات کو اِس حیثیت سے دریافت کرتا ہے کہ وہ ہمہ تن پاک ہے، وہی ہر قسم کی تعریف اور شکر کا مستحق ہے۔ وہ تمام عظمتوں کا تنہا مالک ہے۔ یہ دریافت جب شدتِ یقین کے ساتھ کسی انسان کی زبان پر ایک شعوری اظہارکے طورپر جاری ہو جائے تو وہ کائنات کا سب سے بڑا عمل ہوتا ہے۔ وہ اتنا عظیم ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے مقابلہ میں چھوٹی قرار پائے۔

معرفت سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ شعورکی سطح پر خدا کو پالینا ہے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی آدمی کی داخلی شخصیت کے اندر وجود میں آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ جب کسی انسان کے اندر وجود میں آتا ہے تو وہ اس کے اندر ایک روحانی طوفان برپا کردیتا ہے۔ اس طوفانی تجربہ کے وقت اس کی زبان سے وہ روحانی الفاظ جاری ہوجاتے ہیں جن کا ذِکر اوپر کی حدیث میں کیاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ کلمہ کے بارہ میں حدیث میں بتایا گیا ہے کہ وہ زبان سے کہنے میں ہلکے ہیں مگر وہ اجر کے اعتبار سے بھاری ہیں۔ میرے علم کے مطابق، شارحین اس بیان کی زیادہ بامعنٰی تشریح نہ کرسکے۔ اصل یہ ہے کہ اس کلمہ کا بھاری ہونا اس لیے نہیں ہے کہ خود یہ کلمہ بھاری ہے۔ اس کا تعلق کلمہ سے نہیں ہے بلکہ معرفت سے ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم کے الفاظ میں کوئی پُراسرار صفت ہے۔ اس لیے وہ میزان میں بھاری ہوجاتے ہیں۔ اس کا تعلق کلمہ کی داخلی حقیقت سے ہے، نہ کہ کلمہ کے ظاہری الفاظ سے۔ یہ کلمہ معرفتِ الٰہی کا کلمہ ہے۔ معرفتِ الٰہی اور اس کا اظہار بِلا شبہہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ جن کلمات میں یہ معرفت شامل ہو جائے ان کلمات کو وہ ناقابلِ بیان حدتک عظیم بنادیتی ہے۔

مزید یہ کہ ان کلمات کو محض زبان سے ادا کرنا کسی کو مذکورہ عظیم اجر کا مستحق نہیں بناتا۔ اس عظیم اجر کا مستحق صرف وہ شخص ہے جس نے مطلوب عارفانہ کیفیت کے ساتھ اُس کو ادا کیا ہو۔ ان کلمات کی ادائیگی کا معاملہ بھی وہی ہے جو دوسرے دینی اعمال کامعاملہ ہے۔ کوئی بھی دینی عمل اپنی کیفیت کے اعتبار سے عظیم یا غیر عظیم بنتا ہے۔ اسی طرح یہ کلمات بھی اُسی وقت عظیم ہیں جب کہ وہ داخلی کیفیت کے ایک فطری اظہار کے طورپر زبان سے نکلے ہوں۔ عارفانہ کیفیت کے بغیر صرف زبان سے الفاظ کی ادائیگی کوئی دینی قدر وقیمت نہیں رکھتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content