Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2020
Al-Risala October 2020

توبہ کی اہمیت

Urdu · 2 min read

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَہَبَ اللہُ بِکُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ یُذْنِبُونَ، فَیَسْتَغْفِرُونَ اللہَ فَیَغْفِرُ لَہُمْ(صحیح مسلم، حدیث نمبر2749)۔یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں لےجائے گااور ایسی قوم لائے گا جو گناہ کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرما دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں آدمی سے ضرور کوئی نہ کوئی غلطی صادر ہوجاتی ہے۔ اس غلطی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ فطری نظام کے تحت آدمی کے اندر غلطی کے بعد شرمندگی (repentance) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے، اور اس معاملے میں اللہ سے مدد کا طالب ہو۔

اس طرح غلطی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ذاتی اصلاح (self correction) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر نئی فکر بیدار ہوتی ہے۔ اس کی سوچ مزید شدت کے ساتھ متحرک ہوجاتی ہے۔ اس طر ح آدمی کے اندر جو عمل (process)جاری ہوتا ہے، وہ اس کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ عمل اگر طاقت کے ساتھ باربار جاری رہے تو وہ آدمی کے لیے اعلیٰ ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔

معتدل حالات میں انسان کے اندر کوئی بڑی اصلاح نہیں ہوتی۔ بڑی اصلاح، یا بڑی سوچ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو سخت قسم کا شاک (shock)لگے۔اس کے اندر برین اسٹارمنگ (brainstorming)آئے۔ آدمی کے اندر طاقت ور انداز میں محاسبہ کا مزاج پیدا ہو، اور یہی وہ چیزیں ہیں، جو غلطی کے بعد آدمی کے اندر جاگ اٹھتی ہیں۔ اس طرح غلطی انسان کے اندر اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content