Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2018
Al-Risala October 2018

مشورے کی اہمیت

Urdu · 2 min read

مشورے کی اہمیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کَانَ أَبُو ہُرَیْرَةَ یَقُولُ:مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَکْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِہِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4872)۔ یعنی ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں پایا جو اپنے اصحاب سے اتنا زیادہ مشورہ کرتا ہو، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مشورہ فطرت کا ایک حکیمانہ اصول ہے۔ مشورہ بظاہر دوسرے سے کیا جاتا ہے، لیکن نتیجےکے اعتبار سے مشورہ کا مطلب ہے، خود اپنے ذہن (mind) کے بند گوشوں کو کھولنا ہے۔ مشورہ کا مقصد اپنے ذہن کو متحرک (active) کرنا ہے۔ مشورہ کوئی یک طرفہ عمل نہیں ۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشترک ڈسکشن (mutual discussion) ہے۔ مشورے کا مقصد اپنے سوچنے کے دائرے کو بڑھانا ہے۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اپنے آپ کو انفرادیت کے دائرے سے نکال کر آفاقیت کے دائرے میں لانا ہے۔ مشورہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔مشورہ اپنے تجربے میں دوسرے کے تجربے کو شامل کرنا ہے۔

مشورے کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ مشورے سے تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشورہ اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی خول (cell) میں رہنے والا نہ بنے۔مشورہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ انفرادی عقل (individual wisdom) کے دائرے سے نکل کر عالمی عقل (universal wisdom) میں جینے والا بن جائے۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے : کان یتعلم من کل احد۔ یعنی وہ ہر ایک سے سیکھتے تھے۔ تعلم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشورہ ہے۔ اس روایت کو لفظ بدل کر اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کان یشاور من کل احد۔یعنی وہ ہر ایک سے مشورہ کرتے تھے۔ مشورے کا مطلب اپنی عقل میں دوسرے کی عقل کو شامل کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content