Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2018
Al-Risala October 2018

منصوبۂ تخلیق

Urdu · 2 min read

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو بہترین ساخت کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا(التین، 95:4-5)۔اس آیت کا مطلب وہی ہے، جو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح آیا ہے: تم نے بہت سا بویا، پر تھوڑا کاٹا(حجی، 1:6)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساخت اور تخلیقی پلان میں فرق ہے۔ اس دنیا میں انسان زیادہ چاہے گا، مگر ا س کو کم ملے گا۔ انسان زیادہ کا منصوبہ بنائے گا، لیکن عملاً اس کو اپنے منصوبے سے کم ملےگا۔ انسان اجر غیر ممنون چاہے گا، لیکن اس کو صرف اجر ممنون ملے گا۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق چاہے گا، لیکن وہ اس دنیا میں رازق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اپنے حوصلے کے مطابق چاہے گا، لیکن اس کو خالق کے مقدرات کے مطابق حاصل ہوگا۔

چاہنے اور پانے میں یہ فرق کیوں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان سوچے ، وہ غور کرکے اس فرق کی حکمت کو دریافت کرے۔ انسان اگر ایسا کرے، تو وہ جانے گا کہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا کا ایک ’’آج‘‘ہے، اور اس کا ایک ’’کل‘‘ ہے۔ آج کی دنیا عمل کے لیے ہے، اور کل کی دنیا عمل کا انجام پانے کے لیے ہے۔ آج کی دنیا بونے کے لیے ہے، اور کل کی دنیا اس کا پھل کاٹنے کے لیے ہے۔

ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ خالق کے اس نقشۂ تخلیق کو جانے،اور اس کا اعتراف کرے کہ اس دنیا کو بنانے والا وہ نہیں ہے، بلکہ اس کو بنانے والا کوئی اور ہے۔ دنیا ہر حال میں خالق کے نقشے کے مطابق چلے گی، اس کے اپنے نقشے کے مطابق نہیں چل سکتی ،تو وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ وہ خدا کی دنیا میں جو کچھ پائے گا، خالق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اگر خالق کے نقشے کو مان کر چلے، تو اس کے لیے کامیابی ہے، اور اگر وہ اس نقشے سے انحراف کرے، تو وہ ہرگز کامیاب ہونے والا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content