ایک حدیث میں آیا ہے :خیر الأمور أوساطہا(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر6176)۔ یعنی معاملات میں بہترین روش درمیانی روش ہے۔ دین میں اعتدال کی بہت اہمیت ہے، مگر اعتدال کی اہمیت با اعتبار ابدی اصول نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت عملی حکمت (practical wisdom)کی بنا پر ہے۔ دوسرے الفاظ میںاعتدال کا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ عملی ضرورت کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔
ایک یہ کہ اعتدال کا تعلق عقائد سے نہیں ہے بلکہ معاملات سے ہے۔ اعتدال اصولی معاملات میں نہیں ہوتا بلکہ اعتدال عملی معاملات میں ہوتا ہے۔ جہاںتک اصول یا عقیدہ کا معاملہ ہے اس میںہمیشہ معیار (ideal) مطلوب ہوتاہے۔ اور معیار کے معاملہ میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ اس میں کوئی متوسط راستہ یا غیر متوسط راستہ نہیں ہوتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اعتدال کی اہمیت عملی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو فکر کی آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر انسانوں کے درمیان عملی اختلافات پیدا ہوتےہیں۔ ان اختلافات کو ختم کرنا اور سارے انسانوں کوایک طریقہ کا پابند بنانا ممکن نہیںہوتا۔ اس بنا پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس طرح کے معاملہ میںاعتدال وتوازن (balance) کا طریقہ اختیارکرو کہ لوگوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو اور زندگی کا نظام پرامن انداز میں چلتا رہے۔
عقیدہ کا معاملہ ہمیشہ ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ عقیدہ کے معاملے میں آدمی اپنے ذاتی فیصلہ کے مطابق ایک اصول کو اختیار کرسکتا ہے۔ لیکن عملی معاملہ ایک اجتماعی معاملہ ہوتا ہے۔ عملی معاملہ ہمیشہ کئی افراد سے متعلق ہوجاتا ہے۔ اس لیے زندگی گزارنے کے لیےکامیاب فارمولا یہ ہے کہ آدمی اپنے عقیدہ کے معاملہ آئڈیلسٹ (idealist)بنے، اور اجتماعی زندگی میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے پریگمیٹک (pragmatic) بن جائے۔ اس طرح زندگی کا دونوں پہلو پرامن طور پر چلتا رہے گا۔انفرادی زندگی معیار پسندی کے اصول پر، اور اجتماعی زندگی لوگوں کے رعایت کے اصول پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔