← Al-Risala October 2016Al-Risala October 2016
ترکِ رُجز
Urdu · 6 min read
قرآن کی سورہ المدثر اسلام کے ابتدائی زمانے میں اتری۔ اس میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے انذار کا حکم دیا گیا۔انذار سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے ساتھ اس کا طریقہ (method) بھی بتادیا گیا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ رُجز کے معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت کا کام کرو(دیکھیے سورہ المدثر، آیات 2-5)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رُجز کے لفظی معنی گندگی کے ہیں۔ قرآن میں دوسرے مقام پر اس مفہوم کے لئے رِجس (22:30) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب آیت کے مطابق یہ ہے کہ بت پرستی کو چھوڑ دو۔لیکن سورہ المدثر میں جس رُجز کو چھوڑ نے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا تعلق خود پیغمبر کی ذات سےہے۔ پیغمبر نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔ پھر پیغمبر کے لئے رُجز کو چھوڑ دینے کا مطلب کیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی وضاحت پیغمبر کی عملی تاریخ سے ہوتی ہے۔ پیغمبر نے عرب میں دعوت الی اللہ کا کام کیا۔ اس وقت وہاں مختلف قسم کی برائیاں موجود تھیں۔ مثلا کعبہ میں 360 بتوں کی موجودگی، مکہ کے لوگوں کا شراب پینا، وغیرہ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کو جانا ، مگر اُن سےعملی ٹکڑاؤ نہیں کیا۔ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ وقت کی برائیوں سے ٹکڑاؤ نہ کرتے ہوئے، پر امن انداز میں اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ پیغمبرِ اسلام کا عملی نمونہ قرآن کی آیت کی تفسیر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ — قوم کی عملی برائیوں سے اعراض کرو، اور مثبت ذہن کے ساتھ پرامن دعوت کا کام کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورہ المدثر کی یہ آیت اسلامی مشن کا ایک اہم اصول بتاتی ہے۔وہ یہ کہ اسلامی مشن کا طریقِ کار کیا ہونا چاہئے۔یہ طریقِ کار اس اصول پر مبنی ہے کہ وقت کی عملی برائیوں سے اعراض کرنا ، اور اسلام کی آئڈیالوجی کی پرامن اندازمیں اشاعت کرنا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے کے بعد اہل ایمان کو اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ اگر اس اصول کو اختیار نہ کیا جائے تو ایسے لوگوں کو کبھی اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔
موجودہ زمانے میں اس اصول کے انطباق (application) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے، جتنا کہ اس کی اہمیت اسلام کے دورِ اول میں تھی۔ اصل یہ ہےکہ انسان کو خالق نے مکمل آزادی دی ہے۔ اس آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر ہر زمانے میں سماجی اور سیاسی برائیاں لازماً موجود رہتی ہیں۔سماجی اور سیاسی برائیوں سے پاک ماحول اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔ایسی حالت میں داعی کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی برائیوں سے اعراض کرتے ہوئے ، مواقع کو دریافت کرنا، اور ان مواقع کا استعمال کرتے ہوئے، پر امن طور پر دعوتی مشن جاری کرنا۔
مثلاً انڈیا میںاکثریتی فرقہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے، جس پر یہاں کے مسلمان برہم ہوتے ہیں، اور ٹکڑاؤ کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ سرتاسر غلط ہے۔ پیغمبر کی سنت کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ کی ناموافق باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں پرامن دعوت کا کام کیا جائے۔انڈیا کے مسلمان اس پیغمبرانہ سنت کو اختیار نہ کرسکے۔ اس لئے یہاں کے مسلمانوں کا مزاج منفی ہوگیا، اور اس کی قیمت یہ دینی پڑی کہ مسلمان اس ملک میں دعوت الی اللہ کا مطلوب فریضہ انجام دینے سے محروم رہے۔
اسی طرح اُس دنیا کا معاملہ ہے، جس کو سیکولر دنیا کہا جاتا ہے۔سیکولر لوگ فریڈم آف اکسپریشن (freedom of expression) میں یقین رکھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ ہر معاملے میں آزادانہ طور پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔یہ آزادانہ اظہارِ رائے کبھی پیغمبرِ اسلام کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔ مسلمان اس پر مشتعل ہوجاتے ہیں، اور اس کو شتم ِرسول (blasphemy)کا نام دے کر اس کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ ان کےاور سیکولر طبقے کے درمیان معتدل تعلق قائم نہیں ہوتا۔ اس بنا پر مسلمان، سیکولر لوگوں کے درمیان وہ کام نہیں کر پاتے، جو ان کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری ہے۔ یعنی دعوت الی اللہ۔
یہی معاملہ مغربی قوموں کا ہے۔ مغربی قوموں میں جو کلچر رائج ہوا ہے، وہ مسلمانوں کو اسلامی اقدار کے خلاف نظر آتا ہے۔ اس بنا پر مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ نفرت ان کو مثبت سوچ (positive thinking) سے محروم کردیتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان اور مغربی قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا معتدل رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ اس بناپر یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مغربی قوموں کے مقابلے میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے سے محروم ہوجاتے ہیں۔
یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ہر قوم کی طرح امریکا کے اپنے قومی مفادات ہیں۔امریکا اپنے قومی مفاد کے تحت اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔اس واقعے کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ امریکا کو عدو الاسلام رقم واحد کہتے ہیں۔ یعنی امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک (enemy number one) ہے۔ اس منفی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمان امریکا کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیے ہوئے ہیں۔وہ امریکا سے معتدل تعلق قائم نہ کرسکے۔اس کا یہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے کہ وہ امریکا کو ایک مدعو ملک کا درجہ نہیں دے سکے۔وہ امریکا کے اوپر اپنے دعوتی فریضے کو انجام دینے سے محروم رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورہ المدثر میں جس پیغمبرانہ اصول کو بتایا گیا، وہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ایک نامعلوم اصول بنا ہوا ہے۔مسلم علماء اور مسلم رہنما کبھی اس اصول کو دریافت نہ کرسکے کہ اسلام کے مشن کے لئے ضروری ہے کہ رُجز کو اوائڈ کرتے ہوئے، پرامن انداز میں اسلامی مشن کو جاری کیا جائے۔اس اصول سے بے خبری کی بنا پر مسلمان یہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی رُجز کو دیکھ کر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ تشدد اور ٹکڑاؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ پیغمبرانہ سنت کے مطابق یہ ایک بےحد سنگین غلطی ہے۔ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیںکہ جن کی کوئی گنتی نہیں۔ اس انحراف میں دنیا کی بھی تباہی ہے، اور آخرت کی بھی ۔
رُجز کا ظاہرہ، دراصل آزادی کے غلط استعمال کا ظاہرہ ہے۔ انسان کو یہ آزادی خود خالق نے دی ہے۔ اس آزادی کے غلط استعمال پر خالق آخرت میںیقیناً ان کی گرفت کرے گا،لیکن کسی اور کو یہ حق نہیں کہ وہ آزادی کے غلط استعمال کے حوالے سے لوگوں کے اوپرداروغہ بن جائے۔ایسا کرنا خدا کے دائرہ (domain) میں داخل ہونا ہے۔ اور کسی مخلوق کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ خدا کے دائرہ میں داخل ہوجائے۔ ایسا کرنا خود اپنے آپ کو مجرم کے مقام پر کھڑا کرنا ہے۔ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں ناکامی ہے، اور آخرت میں شدید مواخذے کا اندیشہ۔