Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

جنت اورجہنم

Urdu · 2 min read

اسلام کی تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا ایک عارضی دنیا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کے بعد آخرت کی دنیا میں پہنچے، جہاں لوگوں کو ان کے عمل کے مطابق یا جنت میں جگہ ملے گی یا جہنم میں۔

اس تعلیم کے مطابق ، جنت اور جہنم دونوں زندہ حقیقتیں ہیں۔ دونوں اسی طرح ایک زندہ واقعہ ہیں، جس طرح تاج محل ایک زندہ واقعہ ہے، یا لال قلعہ ایک زندہ واقعہ ہے۔ اسلام جب لوگوں کے اندر اپنی اسپرٹ کے ساتھ زندہ ہوتو اسلام کو ماننے والا ہر آدمی جنت اور جہنم کو حقیقی واقعہ سمجھتا ہے۔ اس کے اندر جنت کا زندہ اشتیاق موجود ہوتا ہے، اور جہنم کا زندہ خوف۔

مگر جب امت پر زوال کا دور آجائے، اس وقت امت کے افراد میں جنت اور جہنم کا زندہ تصور موجود نہیں رہتا۔ اس کے افرادرسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا کہ جنت ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا ہوا ہو، اور جہنم کا خوف ان کے سینے میں ایک زلزلہ بن کر سمایا ہوا ہو۔ ان کا حال عملاً وہی ہوجاتا ہے جو حیوانات کا حال ہوتا ہے۔ حیوانات کے اندر نہ جنت کا شوق ہوتا ہے، اور نہ جہنم کا خوف۔ یہی حال زوال یافتہ لوگوں کا ہوجاتا ہے۔ وہ رسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن زندہ عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم ان کے ذہن کا جزء نہیں ہوتا۔

قرآن میں ہے : وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133) یعنی اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طر ف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ اس کے برعکس، جہنم کا تذکرہ قرآن میں بار بار اس طرح ہولناک انداز میں کیا گیا ہے کہ اگر آدمی سوچے تو اس کا چین اور سکون ختم ہوجائے۔ لیکن دورِ زوال میں امت کے افراد کے اندر نہ جنت کا شدید اشتیاق موجود رہتا ہے، اور نہ جہنم کا شدید خوف۔ دورِ زوال کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content