عید اضحی کے موقع پر اہل ایمان جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ما ہذہ الأضاحی؟ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: سنة أبیکم إبراہیم۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) یعنی تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ۔
حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کردیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔
اللہ کے منصوبے کے تحت وہ عراق کے زرخیر علاقے سے نکلے، اور اپنی بیوی ہاجرہ، اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے صحرا میں بسادیا۔ یہ گویا ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کا معاملہ تھا۔ یعنی صحرائی ماحول میں تربیت دے کر ایک نئی نسل بنانا جو پیغمبرانہ مشن کی حامل بنے۔گویا عید اضحی کی قربانی خود اپنی قربانی ہے۔ جانور کی قربانی صرف فدیہ (37:107) کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔
اس اعتبار سے غور کیا جائے تو عید اضحی کا دن وہ دن ہے جب کہ ہر مسلمان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ قربانی کی سطح پر اپنے آپ کواللہ کے مشن کے لیے وقف کرے گا۔ وہ اس پر امن دعوتی مشن کے لیے اپنے آپ کو بھرپور طور پر لگائے گا۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو اس مشن میں خرچ کرے گا۔
عید اضحی کی قربانی در اصل اس بات کا عزم ہے کہ اہل ایمان دوبارہ ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں گے۔ پیغمبر کے دعوتی مشن کو زندہ کرنے کے لیے دوبارہ وہ سب کچھ کریں گے جس کا کرنا حالات کے لحاظ سے ضروری ہو۔ اپنی اولاد کے لیے ان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوگی کہ وہ پیغمبرانہ مشن میں اپنا رول اداکریں، وہ دورِ جدید کے’’ اسماعیل اور ہاجرہ‘‘ بنیں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔