ایک بار ایک سفر میں ایک صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے پاس پاکٹ سائز کا ایک معرى قرآن ہے۔ جہاں موقع ملتا ہے، وہ اس کی تلاوت کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرا یہ معمول تقریباً پندرہ سال سے ہے۔ اِس طرح ہر مہینے میں ایک بار میں پورا قرآن پڑھ لیتاہوں۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ ماشاء اللہ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اِس اعتبار سے کبھی غور نہیں کیا۔ میں قرآن کو ثواب کی نیت سے پڑھتا ہوں-یہی عام طورپر لوگوں کا حال ہے۔ لوگ قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن اُن کا پڑھنا برائے تلاوت ہوتا ہے، برائے تدبر نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر عام طورپر اسی قسم کی تلاوتِ قرآن کا رواج ہے۔ مگر اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس قسم کی تلاوت قرآن کا رواج نہ تھا۔ ایک بار حضرت عائشہ سے ایسے کچھ لوگوں کا ذکر کیاگیا جو معنوی تدبر کے بغیر صرف الفاظ کی تلاوت کے طورپر قرآن کو پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا: اولئک قرءوا ولم یقرءوا (شعب الإیمان، رقم الحدیث: 1925) یعنی انھوں نے قرآن کو پڑھا، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پڑھا-
اِس سلسلہ میں قرآن میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ اِس پہلو سے قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے۔ جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اِس سے نصیحت حاصل کریں-قرآن کے نزول کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کو تبرک کے طورپر لیں۔ اور اُس سے پراسرار ثواب حاصل کریں۔ بلکہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اس کی آیتوں پر غور کیا جائے۔ اِس سے زندگی کے اصول معلوم کئے جائیں۔ اُس سے کامیابی اور ناکامی کا راز دریافت کیا جائے۔ اُس سے امتوں کے عروج وزوال کا قانون دریافت کیا جائے۔ قرآن سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے آپ کو اس طرح تیار کیا جائے جو آدمی کو اللہ کی رحمت وسعادت کا مستحق بنائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔