Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2014
Al-Risala October 2014

موت کا تجربہ

Urdu · 2 min read

ایک حدیث رسول اِن الفاظ میں آئی ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات الموت(صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 2992) یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت ہر شخص کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ ہر آدمی اپنی بساط کے مطابق، اپنے لئے ایک چھوٹا یا بڑا محل بناتا ہے۔ ہر آدمی اپنی تمام کوشش کر کے اپنی ایک دنیا تعمیر کرتا ہے، لیکن بہت جلد وہ وقت آتاہے جب کہ موت اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔ موت ہر انسان کے لیے اس کی بنائی ہوئی دنیا کی نفی (nullification) کے ہم معنی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ ہو تو موت کی یاد ہی اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ اس کا دنیا پرستانہ ذہن ختم ہو جائے اور وہ کامل اعتبار سے،آخرت پسند انسان بن جائے۔ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ صرف ایک ہے اور وہ ہے موت کو حذف کرکے سوچنا۔ اور تمام اچھائیوں کا سرچشمہ یہ ہے کہ آدمی اِس احساس کے ساتھ جئے کہ وہ ایک دن مرنے والا ہے اور اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ موت سے غفلت آدمی کو غیر سنجیدہ بناتی ہے اور موت کا یقین آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتاہے-

موت کا تصور انسان سے سرکشی کا جذبہ چھین لیتاہے۔ موت کا تصور آدمی کو یاد لاتاہے کہ وہ صرف ایک عاجز مخلوق ہے۔ موت آدمی کو انسانِ اصلی (man-cut to size) بناتی ہے۔ موت آدمی کے اندر سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک متواضع (modest) بنا دیتی ہے۔ یہ صفات آدمی کے اندر ایک داخلی محرک پیدا کردیتی ہیں جو بلاشبہ انسان کی اصلاح کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ ہے۔

موت کی یاد آدمی کو اپنی زندگی کے بارے میں آخری حد تک ذمہ دار بنادیتی ہے۔ موت کی یاد بلاشبہہ انسان کے لیے سب سے بڑی مصلح کی حیثیت رکھتی ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content