Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Al-Risala October 2013
Al-Risala October 2013

خبرنامہ اسلامی مرکز224 -

Urdu · 10 min read

1- صدر اسلامی مرکز کی کتاب ــ ـ" مذہب ــاور جدید چیلنج"کا فرانسیسی ایڈیشن پیرس کے الازہر (Librairie Al Azhar)سے اپریل 2013 میں شائع ہو گیا ہے۔یہ کتاب 302صفحات پر مشتمل ہے۔ عربی اور انگریزی ایدیشن کی مدد سے اِس کتاب کا فرنچ ترجمہ (L’ISLAM ET LES DÉFIS DE LA SCIENCE) حسب ذیل دو افراد نے تیار کیا ہے:

Translator: Mr Menaoum Saine, Editor: Ms Shahnaz Benbetka

2- سہارن پور(یوپی) کے جین ڈگری کالج میں 24 مئی 2013 کو امر ُاجالاگروپ کی طرف سے ایک بڑا پروگرام ہوا۔اِس موقع پر سہارن پورٹیم کے ممبران نے بڑے پیمانے پر یہاںلوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔مثلاًسہارن پورکے ڈی ایم مسٹر اَجے کمار سنگھ،وغیرہ کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔

3- ایس بی اے (Sales Bar Association) کی طرف سے اس کے ہیڈ آفس (آئی ٹی او، نئی دہلی) کے ہال میں 28 مئی 2013 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام صرف صدر اسلامی مرکزکے خطاب کے لئے رکھا گیا تھا۔اس پروگرام میں ایس بی اے کے تقریباً 300 ممبران نے شرکت کی۔ اِس کا موضوع تھا: آدمی بننا کتنا آسان؟ صدر اسلامی مرکزنے یہاں موضوع پر ایک گھنٹے تقریر کی۔یہ تقریر اردو زبان میں تھی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ دوسرے خطابات کی طرح صدر اسلامی مرکزکا یہ خطاب بھی سی پی ایس کے ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے:cpsglobal.org/content/maulanas-addressals-0

4- سہارن پور کے ہوٹل کلارک میں22-23جون 2013 کے دوران ’دینک جاگرن‘ گروپ کی طرف سے ایک ایجوکیشنل فیر ہوا۔ اِس موقع پر سہار ن پو رٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شریک حاضرین کو یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

5- سہارن پور کے ارپت ڈائگناسٹک (Arpit Diagnostic) میں 25 جون 2013 کو ٹیم کے ممبران نے جاکر وہاں کے اسٹاف سے ملاقات کی اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

6- سہارن پور کے مہا راجا پیلیس میں 26 جون 2013 کو ’دَینک ہندستان‘ کی طرف سے ایک ایجوکیشنل بک فیر ہوا۔ اِس میں ہندستان کے اہم کالج کے طلبا اور اساتذہ کے علاوہ، دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔اِس موقع پر سہار ن پو رٹیم کے ممبران نے یہاں اپنا ایک بک اسٹال لگایا۔ حاضرین نے بڑے پیمانے پر اسٹال پر وِزٹ کیا اور یہاں سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچرحاصل کیا۔

7 - سہارن پور کے پیس ہال میں 30 جون2013 کو ٹیم کے ممبران کی میٹنگ ہوئی۔ اِس موقع پر ممبران کے علاوہ، بعض دوسرے حضرات بھی اس میں موجود تھے۔ انھوں نے اپنے تاثرات بیان کیے-مثلاً سوامی امَرپال سنگھ(ہریانہ)۔ سوامی جی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ایک بات یہ کہی کہ ’’: مولانا وحیدالدین خاں کی کتابوں کا اَدّھین کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کی آدمی کو شانتی والا جیون حاصل ہوجاتا ہے اوروہ خدا کو پا لیتا ہے۔‘‘

8- سہارن پور کے پیس ہال میں 28 جولائی 2013 کو اِفطار کا ایک پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔ یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔

9- نوئڈا کے فلم سٹی (Time Centre) میں 31 جولائی 2013کوگوگل ویبینار (The Google Webinar) گروپ نے آرگن ڈونیشن (Organ Donation Seminar) کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ یہاںسی پی ایس کی طرف سے، لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ (https://www.speakingtree.in/events/organ-donation-seminar-23003)

10- یکم اگست 2013 کو سویڈن کی اُمیا یونی ورسٹی (Umea University, Sweden) میں نفسیات کے پروفیسر تھامس لندگرین (Tomas Lindgren ) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اسلام اور امن کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویوریکارڈ کیا ۔ پروفیسر تھامس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

I’m writing a book right now about religion, nonviolence and peace building, based on interviews with peace activists in South and Southeast Asia. I’m deeply impressed by your publications and the work you have done. I would like to know so much more about your ideas, visions and the work you have done over the years.

11- نئی دہلی کے ہوٹلـ شنگریلا (Shangri-La) میں 14 اگست 2013 کو ایک انٹرنیشنل پروگرام (Health Skill Summit) ہوا۔ اس کی دعوت پر ڈاکٹر محمد اسلم خاں (سہارن پور) نے اس میں شرکت کی اور گڈورڈ بکس سے خرید کر یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔

12- نئی دہلی کے ادارہ ’مانو درشن انوسندھان‘ کی طرف سے ، دین دیال رسرچ انسٹی ٹیوٹ(نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 15 اگست 2013 کو ایک سمپوزیم ہوا۔ اِس سمپوزیم کا موضوع یہ تھا:

’بھارت کا وِبھاجن اور پاکستان کا اَستِتّو‘ (ہندستان کی تقسیم اور پاکستان کا وجود)

اِس کی دعوت پر سی پی ایس انٹر نیشنل کی طرف سے مولانا محمد ذکوان ندوی نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر طرح کے فساد کی جڑ نفرت ہے،خواہ وہ کوئی ملکی معاملہ ہو یا بین اقوامی معاملہ۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک نظریاتی بات نہیں ہے، بلکہ امن کی آئڈیالوجی پر مبنی سی پی ایس کے لٹریچر کی بنیاد پر، دوسرے ملکوں کے علاوہ، خود کشمیر اور پاکستان کے بے شمار افراد کے اندر مثبت اور تعمیری ذہن پیدا ہوا ہے- انھوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کےلوگ ماضی کی تلخ یادوں کو ُبھلا کر، مثبت ذہن کے تحت، اپنے ملک کو تعمیر وترقی کے میدان میںآگے بڑھائیں۔ اِس سمپوزیم میں دو اسپیکر اور تھے۔ اُن کے نام یہ ہیں:مسٹر روی شنکر پرشاد (سابق یونین منسٹر)، پروفیسرآنند کمار (جواہرلال نہرو یونی ورسٹی،نئی دہلی)۔ سی پی ایس کی طرف سے یہاں تمام حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔

13- گڈورڈ بُکس (نئی دہلی) کی طرف سے یروشلم اور مسجداقصیٰ (فلسطین) میں آنے والے غیرمسلم زائرین تک، نیز مسجد کے باہر کے دوسرے ٹورسٹ مقامات اور ہوٹل وغیرہ پر آنے والے زائرین تک، اسی طرح فلسطین کے دوسرے شہروں — بیت لحم(Bethlehem)، الناصرہ (Nazareth)، الخلیل (Hebron)میں آنے والے زائرین تک انگریز ی کتاب (What Is Islam) اور قرآن کا ترجمہ بڑی تعداد میںمقامی مسلم نوجوانوں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔اِس سلسلے میں گڈورڈبکس کی طرف سے مذکورہ دعوتی لٹریچر فلسطین کے ’المستقبل پریس‘(رَملہ) سے چھپوا کر زائرین کے درمیان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح استنبول (ترکی) کی تاریخی مساجد — سلطان احمد (Blue Mosque) ، رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque)میں آنے والے زائرین تک مسجد کی انتظامیہ کے ذریعے گڈورڈ بکس کی طرف سے قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر پہنچایا جارہا ہے-واضح رہے کہ صرف مسجد سلطان احمد میں روزانہ آنے والے غیر ملکی ٹورسٹس کی تعداد تقریباً دس ہزار ہوتی ہے-

14- حیدرآباد (انڈیا) کی ٹیم کے ممبران ،مسٹر اعجاز عادل اور اُن کے دوسرے ساتھیوں نے تلگو زبان میں صدراسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن چھاپ کر شائع کردیا ہے۔ یہ ترجمہ تلگوزبان کے مشہور مترجم مسٹر محمد عزیزالرحمٰن حیدرآبادی نے کیا ہے۔

15- ہمارے ساتھی ،خاص طور پر مسٹر محبوب ، بمبئی میں وہاں کی فلم انڈسٹری کے لوگوں سے مل کر مسلسل طور پر اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر پہنچا رہے ہیں۔اِسی طرح امریکا میں مقیم ہمارے ساتھی وہاں کے مختلف طبقوں کے درمیان دعوت کا کام کررہے ہیں-یہ لوگ کس طرح ہرجگہ قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچا رہے ہیں، حال میں اُس کی ایک مثال سامنے آئی۔وہ یہ کہ امریکا کی مشہورفلمی دنیا ’ہالی ووڈ‘ کے اسٹار مسٹر رَسل برانڈ(Russel Brand) کے ہاتھ میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن دیکھا گیا۔ ملاحظہ ہو:

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=458270127596790&set=

a.161532850603854.36854.161530600604079&type=1&theater

رَسل برانڈ نے اِس سلسلے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوے یہ الفاظ لکھے ہیں:

"I've read some of the Quran and nothing in it has compelled me to do violence." (www.russellbrand.tv/2013/05/woolwich)

16- کشمیر کے مختلف مقامات پر الرسالہ کے ممبران وہاں کے مختلف طبقوں تک بڑے پیمانے پر دعوتی لٹریچر پہنچا رہے ہیں- اِس میں دوسرے اعلی تعلیم یافتہ افراد کے علاوہ، سرکاری عہدے داران اور فوجی افسران بھی شامل ہیں- اِن لوگوں تک خاص طور پر ’’صبح کشمیر‘‘ (Dawn Over Kashmir)اور قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا جارہا ہے-

17- رمضان (1434 ہجری) میں دہلی اور دہلی کے مختلف اجتماعی مقامات — ہوٹل، مساجد، ٹورسٹ پلیس، آڈی ٹوریم، کلچرل سنٹرس، وغیرہ میںہمارے ساتھیوں نے جاکر وہاں کے لوگوں کے ساتھ انٹرایکشن کیا اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا- جمشید پور (جھارکھنڈ) کی ٹیم کے ممبران نے اِس دوران، دوسرے دعوتی پروگرام کے علاوہ، ڈور ٹو ڈور دعوہ ورک(Door to Door Dawah Work) بھی کیا-

18- نئی دہلی کے آن لائن میگزین )’نیو ایج اسلام‘ 24 اگست 2013 (میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون (What does it mean to admonish someone with the help of the word of God?) شائع ہوا ہے-اس کو میگزین کے ویب سائٹ (newageislam.com)پر دیکھا جاسکتا ہے-

19- ٹائمس آف انڈیا( نئی دہلی) میں اسپیکنگ ٹری (The Speaking Tree) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے مضامین مسلسل طورپر شائع ہورہے ہیں- یہ تمام مضامین حسب ذیل ویب سائٹ پر موجو د ہیں:

http://cpsglobal.org/articles/speakingtree

20- الرسالہ مشن اور اس کے دعوتی لٹریچرسے متعلق قارئین کے چند تاثرات درج ذیل ہیں:

— After linking with Al-Risala mission, there is a sea change in my overall personality. Previously, I was highly inclined towards worldly name and fame, but linking myself with this mission helped me in getting away from evil temptations. Earlier, I organised various conferences and other public events for material gains but now, I have learnt to use the same platform for dawah work. I run a medical college in Saharanpur (U.P.) In the past, my college was just a source of income for me but now it has also become a centre of dawah for students. ( Dr. M. Aslam Khan, Principal, National Medical IGNOU Community College, Saharanpur (U.P.)

— I really like your english translation which is very easy to understand compared to other enlish translations. (Hameeda Abbassi, Canada)

— I found your book “ Woman Between Islam and Western Society” very insightful. I'm re-reading it and enjoying learning about women’s status in Islam, their right and duties as Muslimahs in the light of Islamic history. I'm using this book as a guide to teach Ayesha Islamic values plus life skills. (Soghra Aziz Hasan, Bangkok, Thailand)

21- چنئی (مدراس)میں 18 اگست 2013 کوڈاکٹر وی عبد الرحیم کے بدست گڈورڈ بک اسٹور کا افتتاح کیا گیا-یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) کی تمام مطبوعات دستیاب ہیں-اس افتتاحی پروگرام کی تفصیل درج ذیل ہے:

Goodword Books, an Islamic publishing house, opened its bookstore and dawah center in Chennai on August 18, 2013. The bookstore was inaugurated by the well-known Islamic scholar, Dr. V. Abdur Rahim, director of the King Fahad Quran Printing Complex and former Professor of Arabic at the Islamic University of Madinah, Saudi Arabia. In his address, Dr. V. Abdur Rahim, applauding the efforts of the publishing house, he said that its products were known for “high quality and authenticity.” The director of Goodword Books, Saniyasnain Khan, also present at the inauguration, hoped that the bookstore would help in furthering the mission of the publishing house. He said: “Goodword Books is not just a publishing house but it is a dawah mission.” The launch drew Islamic scholars, publishers and writers from Chennai and other states, such as the director of Darussalam, Maulana Ilyas Vaniyambadi, Zabeehulla Baig , Tamil writers Mr. Ibrahim Mohiddin, Ibrahim Rasool, M. K. Abdul Quddoos and others.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.