اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہوجائے تو اس کے لیے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے- جسمانی بیماری کا علاج ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے، لیکن بے چینی یا اضطراب (anxiety) اِس قسم کی کوئی بیماری نہیں- اضطراب ایک نفسیاتی مسئلہ ہے- اضطراب کا علاج آدمی کو خود کرنا چاہئے- کوئی دوسرا شخص آپ کے اضطراب کا علاج نہیں کرسکتا-
اضطراب کا سبب ہمیشہ بے بنیاد اندیشہ ہوتاہے- کبھی ماضی میں کسی کھوئی ہوئی چیز کا غم اور کبھی مستقبل میں کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آجانے کا اندیشہ- اضطراب کا سبب اکثر یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ ذہنی تناؤ کا شکار رہتےہیں-
یہ دونوںچیزیں ہمیشہ سوچ (thinking)کی سطح پر پیدا ہوتی ہیں اور سوچ کی سطح پر ہی ان کا علاج ممکن ہوتاہے- اضطراب کا علاج کسی خارجی کلینک میں نہیں، اضطراب کا علاج خود اُس شخص کے ذہن میں ہے جو اضطراب کا شکار ہوا ہے-
اضطراب کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) - حقیقت پسندانہ سوچ کے فقدان سے آدمی اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ ہر قسم کے اضطراب کا خاتمہ کردینے والی ہے- غیر حقیقت پسند انسان ہمیشہ مفروضات میں جیتا ہے، حقیقت پسند انسان وہ ہے جو حقائق میں جینے والا ہو-
غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی میں مبتلا کردیتی ہے- اِس کے مقابلے میں، حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی سے باہر لاتی ہے- غیر حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی صرف اپنے جذبات کو جانتاہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی خارجی حقیقتوں کو جان لیتاہے— غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کے لیے قاتل ہے اور حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو زندگی عطا کرنے والی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.