Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala October 2013
Al-Risala October 2013

کتابِ مہجور

Urdu · 3 min read

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ہجرانِ قرآن کے بارے میں آئی ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں: وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا (25:30) یعنی رسول کہے گا کہ اے میر ے رب، بے شک میری قوم نے اِس قرآن کو ایک متر وک کتاب بنا دیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن ایک ابدی کتاب ہے- قرآن کی تعلیمات ہر دور کے انسانوں پر بلا تفریق منطبق ہوتی ہیں- قرآن اُسی طرح مسلمانوں کی حالت پر بھی اپلائی (apply) ہوتا ہے جس طرح غیر مسلموں کی حالت پر- مسلمان اگر قر آن کو کتابِ مہجور (abandoned book) بنا دیں تو وہ بھی یقیناً اِس آیت کا مصداق بن جائیں گے-قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے بعد کے زمانے میں اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا: نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ڎ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (2:101)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کتاب کو چھوڑنا کیوں کر ہوتا ہے- اِس کا جواب یہود کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے- یہود کے پاس اللہ کی کتاب آئی تھی، لیکن بعد کے زمانے میں ایسا ہوا کہ یہود کے علما نے بطور خود کتاب الہی کی جو تشریح وتعبیر کی، وہی یہود کے لیے اُن کے دین کا اصل ماخذ بن گئی- کتاب الہی کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب کے طورپر مانتے تھے، لیکن عملاً وہ اپنے علما کے وضع کردہ دین پر قائم تھے-

یہی بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا بھی حال ہوا ہے، بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب (Holy Book) کی حیثیت اختیار کرچکا ہے- ان کے علما نے فقہ اور کلام اور فلسفہ اور تصوف کی صورت میں دین کا جو ورژن (version)تیار کیا ہے، وہی کتابی صورت میں مدوّن ہو کر عملی طورپر ان کے لیے دین کا ماخذ بن گیا ہے-

کتاب مہجور کا ظاہرہ کوئی انوکھا ظاہرہ نہیں ہے، یہ ہر مذہبی گروہ میں بعد کے زمانے میں پیش آتا ہے- قدیم زمانے میں یہی واقعہ یہود ونصاری کے ساتھ پیش آیا تھا- یہود ونصاری نے کلی معنی میں اپنے مذہب کوکبھی نہیں چھوڑا، لیکن مذکورہ معنوں میں ہر ایک نے اپنے مذہب کو چھوڑ رکھا ہے- یہود ونصاری کا دین اصلاً اللہ کی طرف سے آیا ہوا دین تھا، جو اُن کو اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملا تھا- لیکن بعد کو اُن کے علما اپنی تشریح وتعبیر کے ذریعے اس میں تبدیلی اور اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے یہاں ایک متوازی مذہب (parallel religion) تیار ہوگیا- اب یہود ونصاری اِسی متوازی مذہب پر ہیں، نہ کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملے ہوئے اصل خدائی مذہب پر-

حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لتتبعن سنن من کان قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى ولو دخلوا جحر ضب تبعتموہم (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7320) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کروگے- قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی وہاں داخل ہوجاؤگے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیثِ رسول کی یہ پیشین گوئی آج پوری طرح واقعہ بن چکی ہے- آج مسلمان عملاً جس دین پر ہیں، وہ اصلاً قرآن اور سنت والا دین نہیں ہے- وہ ایک متوازی دین ہے جو اُن کے علمااور مشائخ نے بعد کے زمانے میں اسلام کے نام پر تیار کیا- یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اگرچہ بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، وہ دین کہیں نظر نہیں آتا جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں پایا جاتا تھا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب ہے، لیکن وہ اُن کے لیے رہنماکتاب نہیں ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قومی فخر کا ذریعہ ہیں، لیکن وہ ان کے لیے اسوۂ حیات نہیں- یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے قرآن کو ایک کتاب مہجور بنادیا ہے، لیکن یہ ہجران بہ اعتبار عمل (in terms of practice) ہے، نہ کہ بہ اعتبار عقیدہ (in terms of belief)- قرآن کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب مانتے ہیں، لیکن ان کی عملی زندگی سے قرآن کا کوئی تعلق نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content