ایک حدیثِ قدسی کے مطابق، اللہ تعالی نے فرمایا: الکبریاءُ رِدائی، والعظمة إزاری، فمن نازعنی واحداً منہما قذفتہ فی النار (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 3570)یعنی کبر میری چادر ہے، اور عظمت میری ازا ر ہے، پس ان دونوں میں سے کسی میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا
اِس حدیث میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیاہے کہ ہر قسم کی بڑائی اور ہرقسم کی برتری صرف ایک خدا کا حق ہے- جو شخص اس معاملہ میں کلی یا جزئی طورپر خدا کا ہمسربننا چاہے، وہ نہ صرف دنیا میں ذلیل ہوگا، بلکہ آخرت میں اُس کو شدید تر عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا-
مثال کے طورپر خدا کی عظمت وکبریائی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہی عزت دینے والا ہے اور وہی ذلت دینے والا، وہی کسی کو رزق دیتا ہے اور وہی کسی کو رزق سے محروم کردیتا ہے- اس کے سوا کسی کو یہ طاقت نہیں کہ کسی کوکچھ دے یا اس سے کوئی چیز چھین لے-
مثلاً ایک شخص کو کسی آدمی پر غصہ آگیا- یہ غصہ انتقام تک پہنچ گیا، یہاں تک کہ وہ اِس کے درپے ہوگیا کہ مذکورہ آدمی کو بے عزت کرے، وہ اُس کے رزق کا ذریعہ اس سے چھین لے، وہ اس کو اس کے ماحول میں بے جگہ بنادے- کسی شخص کی طرف اِس قسم کی تخریبی کوشش خدا کی عظمت وکبریائی سے گویا نزاع کرنا ہے- یہ نعوذ باللہ، خدا کے اختیارات کو اُس سے چھیننے کی جسارت کے ہم معنی ہے-
اِس قسم کا فعل حد درجہ سنگین ہے- جو شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے، وہ بظاہر اپنے حریف کے ساتھ یہ فعل کررہا ہے ہوتا ہے، مگر حدیث کی زبان میں، وہ براہِ راست خدا سے نزاع کررہا ہے- وہ خدا کے اُس نظام میں دخل دینے کی کوشش کررہاہے جس میں خدا نے کسی کسی دوسرے کو شرک نہیں کیا- یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش کرنا ہے، اور خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش بلا شبہہ ایک ایسا جرم ہے جو ہر گز قابلِ معافی نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔