← Al-Risala October 2011Al-Risala October 2011
Main Content
Urdu · 81 min read
اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اُسی وقت سے شروع ہوگیا جب کہ انسان کو پیدا کرکے اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا گیا ہے۔ آدم، پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی (3: 23)۔ اِس کے بعد ہر دور اور ہر نسل میں مسلسل طورپر پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کا پیغام دیتے رہے (23: 44)۔ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ پر خدا نے اپنی کتاب قرآن اتاری۔ اِس کتاب میں یہ اعلان کردیاگیا کہ محمد، اللہ کے رسول ہیں، اور اِسی کے ساتھ وہ نبیوں کے خاتَم (33: 40) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خاتم، یاسیل (seal) کے معنیٰ کسی چیز کو آخری طورپر مہر بند کرنے کے ہیں، یعنی اس کا ایسا خاتمہ جس کے بعد اس میں کسی اور چیز کا اضافہ ممکن نہ ہو
Seal: To close completely
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ختمِ نبوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایاکہ لا نبيّ بعدي (صحیح البخاري، کتاب الأنبیاء ) یعنی میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔
hadithQuotes a hadith
ختم نبوت کا مطلب ختم ضرورتِ نبوت ہے۔ محمد ِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اِس لیے ختم کردیا گیا کہ اس کے بعد نئے نبی کی آمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ جیسا کہ معلوم ہے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ استثنائی طورپر ایسا ہوا کہ وہ کامل طورپر محفوظ ہوگیا۔ اور جب دینِ خداوندی محفوظ ہوجائے، تو اس کے بعد یہی محفوظ دین، ہدایت حاصل کرنے کا مستند ذریعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی ہدایت کو جاننے کے لیے اصل ضرورت محفوظ دین کی ہے، نہ کہ پیغمبر کی۔قرآن کی ایک آیت میں اِس حقیقت کو واضح طور پر بیان کردیاگیا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن کی سورہ المائدہ میںایک آیت ہے، جس کے بارے میں صحیح روایات میںآیا ہے کہ وہ قرآن کی آخری آیت ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں۔ الیوم أکملتُ لکم دینکم، وأتممتُ علیکم نعمتی، ورضیتُ لکم الإسلام دیناً (5:3)قرآن کی اِس آیت کے تین جُز ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1 - آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا، یعنی یہ آیت قرآن کی آخری آیت ہے ۔ اِس آیت کے ساتھ قرآن کا نزول مکمل ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کردیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔
Qur'anQuotes the Qur'an
3 - اور میں نے اسلام کو بحیثیت دین تمھارے لیے پسند کرلیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دین ِ خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اِس بنا پر اِن پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعداُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چناں چہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میںعرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنواسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی۔ اِس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میںاِس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— وہ دس ہزار قُدسیوں کے ساتھ آیا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی صدی ہجری میں مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ ہجرت (622 ء) کے آٹھویں سال آپ فاتحانہ طور پر دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ موجود تھے۔ اِس کے بعد اپنی وفات سے تقریباً ڈھائی مہینے پہلے جب آپ نے آخری حج ادا کیا اور عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا، اُس وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اِس کے بعد 632 عیسوی میں جب مدینہ میںآپ کی وفات ہوئی، اُس وقت عرب کے تقریباً تمام لوگ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور آپ کے اصحاب کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طورپر یہ معاملہ ہوا کہ آپ کواتنی بڑی تعداد میں قابلِ اعتماد رفقا حاصل ہوگئے۔ یہ ایک انتہائی طاقت ور ٹیم تھی۔ مورخین کی شہادت کے مطابق، اِس ٹیم کا ہر فرد ایک ہیرو (hero) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت عرب کے باہر دو بڑے ایمپائر موجود تھے— بازنطینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر (Byzantine Empire & Sassanid Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اسلامی مملکت کے خلاف ہوگئے۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اِس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہلِ اسلام کو جیت ہوئی اور دونوں ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہوگئے۔ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کو بائبل میں بطور پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگئے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3: 6)
اِس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت جلد بعد ایک عظیم مسلم سلطنت بن گئی جو اسلام کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اصحابِ رسول اور اہلِ اسلام کا یہ سیاسی غلبہ تاریخ کا ایک استثنائی واقعہ تھا۔ مؤرخین نے عام طورپر اِس کا اعتراف کیا ہے۔ انڈیا کے ایک مورخ ایم این رائے (وفات 1954 ) کی ایک کتاب (The Historical Role of Islam) پہلی بار1939 میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اِس کتاب میںانھوںنے اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے اُس کو تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرار دیاہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب، قرآن کی حفاظت کے کام میں مسلسل طورپر مشغول ہوگئے۔ قرآن کو یاد کرنا، قرآن کو لکھنا، قرآن کا چرچا کرنا، یہی اُن کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ اِس طرح، اصحابِ رسول کی جماعت گویا کہ ایک زندہ کتب خانہ بن گئی۔ پھر جب مسلم سلطنت قائم ہوئی تو حفاظتِ قرآن کی مہم کو ایک سیاسی طاقت کی تائید بھی حاصل ہوگئی۔ حفاظتِ قرآن کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک غیر منقطع طورپر چلتا رہا۔ یہ کسی کتاب کی حفاظت کا ایک استثنائی معاملہ تھا جو قدیم زمانے میں کسی بھی کتاب کے ساتھ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دنیوی کتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔
حفاظتِ قرآن
پچھلے زمانے میں انسانوں کی رہ نمائی کے لیے جو پیغمبر آئے، وہ سب اپنے ساتھ خدا کی کتاب اور صحیفے لائے۔ مگر یہ کتابیں اور صحیفے بعد کو محفوظ نہ رہ سکے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی پیغمبر کے گرد اُس کے ساتھیوں کی کوئی مضبوط ٹیم اکھٹا نہ ہوسکی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھ استثنائی طورپر ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے پیروؤں (followers)کی ایک مضبوط ٹیم حاصل ہوگئی۔یہ ٹیم قرآن کی حفاظت کی ضامن بن گئی۔
ایک مستشرق (orientalist) نے اِس معاملے کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے فوراً بعد آپ کے اصحاب، حفاظتِ قرآن کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انھوںنے اِس مقصد کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے بعد قرآن کی حفاظت میں کسی قسم کا احتمال سرے سے باقی نہیں رہتا۔
other sourceWords of another person or source
632 عیسوی میںمدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں کی تعداد میںایسے اصحابِ رسول موجود تھے جن کو پورا قرآن بخوبی طورپر یاد تھا۔ نیز یہ کہ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا توآپ اُسی وقت اُس کو قدیم طرز کے کاغذ (قرطاس) پر لکھوا دیتے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ زید بن ثابت الانصاری (وفات 665 ء) کی قیادت میں ایک ٹیم بنائی۔ اِس ٹیم نے قرآن کی تمام تحریروں کو اکھٹا کیا۔ اِس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے تحریری ذخیرے کا تقابل حافظے سے کیا، اور حافظے کا تقابل تحریری ذخیروں سے کیا۔ اِس ڈبل چیکنگ کے بعد انھوں نے قرآن کا ایک مستند نسخہ (authentic copy)لکھ کر تیار کیا۔ یہ نسخہ چوکور صورت میں تھا، اِس لیے اُس کو رَبعہ (square) کہاجاتاتھا۔ یہ ربعہ، قرآن کا مستند نسخہ قرار پایا۔لوگوں نے اِس نسخے کی مزید نقلیں تیار کیں۔ اِس طرح وہ مسلم دنیا میں ہر طرف پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام مسلسل طورپر ایک زندہ موضوع بن گیا۔ اہلِ اسلام، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک بڑے رقبے میں ہر جگہ پھیل گئے ۔
اِن لوگوں کی تقریر اور تحریر کا موضوع اسلام تھا۔ قرآن کی کتابت، قرآن کی تفسیر، حدیث کی تدوین، حدیث کی شرح، پیغمبر اسلام کی سیرت، اصحابِ رسول کے حالات، اسلام کی تاریخ، فقہ کی ترتیب وتدوین، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سیکڑوں سال تک یہ موضوعات لاکھوں اہلِ اسلام کے درمیان تقریر اور تحریر کاموضوع بنے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام قرآن ہی کے ذریعے کیا جاتا تھا، اِس لیے دعوت و تبلیغ کے دوران بھی مسلسل طورپر قرآن کو پڑھنے اور سنانے کا عمل جاری رہا۔ یہ ایک ڈبل حفاظت کا معاملہ تھا۔ اِس عمل کے دوران ایک طرف، قرآن اور حدیث کی حفاظت ہوئی اور اسی کے ساتھ عربی زبان ایک زندہ اور محفوظ زبان بنتی چلی گئی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میںپرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ فرانس کا حکم راں نپولین (وفات 1821 ) 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی لے آیا۔ اِس سے پہلے کاغذ سازی کی صنعت 751 عیسوی میں سمرقند میں آچکی تھی۔ اِس طرح، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ایک ہزار سال بعد قرآن اور علوم قرآن کی حفاظت پرنٹنگ پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے دستیاب ہونے لگے۔ دورِ طباعت میں داخل ہونے کے بعد قرآن آخری طورپر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اِس کے بعد قرآن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
ختم نبوت کے حق میں یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد استثنائی طورپر ایسے اسباب پیدا ہوئے جو خدا کی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یقینی تدبیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تدبیر اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی، یعنی قرآن کامل طورپر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اور جب خدا کی ہدایت کتاب کی صورت میں محفوظ ہوجائے تو ایسی کتاب پیغمبر کا بدل بن جاتی ہے۔ اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
رسول کی بعثت کا مقصد
ایک روایت کے مطابق، دنیا میںایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اِن تمام پیغمبروں کا مقصد صرف ایک تھا— انسان کو خدا کے تخلیقی پلان(creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ تمام پیغمبروں نے مشترک طورپر یہی ایک کام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ خدا نے کیوں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اِس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات (pre-death period) میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دورِ حیات(post-death period) میںاس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اِسی کو قرآن میںاِنذار اور تبشیر کہاگیا ہے۔ یہی انذار اور تبشیر تمام پیغمبروں کا مشترک مشن تھا۔ اِس کے سوا کوئی چیز اگر کسی پیغمبر کی زندگی میںنظر آتی ہے، تو وہ اس کی زندگی کا ایک اضافی پہلو (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی پہلو(real part) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا میں انسان کی دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مادّی ضرورت، جس کی تکمیل فزیکل سائنس (physical science) کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ اُس کے پاس وہ خدائی ہدایت(divine guidance) موجود ہو جس کا اتباع کرکے وہ آخرت میںکامیاب زندگی حاصل کرے۔ اِس دوسری ضرورت کی تکمیل پیغمبرانہ الہام سے ہوتی ہے۔ تقریبِ فہم کے لیے اس کو ہم ریلجس سائنس (religious science) کہہ سکتے ہیں۔
فزیکل سائنس میںآخری سائنٹسٹ (final scientist) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ فزیکل سائنس میں مسلسل طورپر ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اِس لیے اِس میدان میں کوئی سائنٹسٹ آخری سائنٹسٹ نہیںہوسکتا۔ اِس کے برعکس، ریلجس سائنس ایک ہی خدائی ہدایت (divine guidance) پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ خدائی ہدایت غیر متغیر طورپر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ اِس لیے ریلجس سائنس میںیہ ضروری ہوجاتا ہے کہ کوئی آخری پیغمبر (final prophet) ہوجو انسان کو خداکا آخری کلام(final word) دے دے، اور انسانیت کا قافلہ اس کی رہ نمائی میں بھٹکے بغیر مسلسل طورپر اپنے سفرِ حیات کو جاری رکھے۔
خدا کی طرف سے آنے والا ہر پیغمبر ایک ہی ابدی ہدایت لے کر لوگوں کے پاس آیا۔ لیکن بشری تقاضے کے تحت جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی خدائی ہدایت محفوظ نہ رہ سکی۔ اِس لیے بار بار یہ ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آئے او روہ انسان کو دوبارہ مستند ہدایت عطا کرے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی لائی ہوئی خدائی ہدایت، قرآن اور سنت کی شکل میں کامل طورپر محفوظ ہوگئی، اِس لیے آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔
پیغمبر کا آنا ایک بے حد سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ جب ایک زندہ پیغمبر موجود ہو تو اُس وقت انسان کے لیے ایک ہی انتخاب (option) باقی رہتاہے، یہ کہ وہ پیغمبر کا اقرار کرے۔ اقرار نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کے معاصرین کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اِس لیے خدا کی یہ اسکیم نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ایک زندہ پیغمبر موجود رہے۔ خدا کی اسکیم کے مطابق، اصل مطلوب یہ ہے کہ خدا کی ہدایت ہمیشہ محفوظ اور غیر محرَّف حالت میںموجود رہے۔ جب خدائی ہدایت کا متن (text) محفوظ ہوجائے اوراُس میں تحریف کا امکان باقی نہ رہے، تو زندہ پیغمبر کا موجود ہونا، غیر ضروری ہوجاتا ہے۔ یہی واقعہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ خدا کی کتاب انسان کے لیے ایک بک آف ریفرنس (book of reference) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ایک محفوظ بک آف ریفرنس دستیاب ہوجائے، تو اس کے بعد نئے پیغمبر کی بعثت اپنے آپ غیر ضروری ہوجاتی ہے۔
پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت
پیغمبر کے ذریعے خدا کی جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ قرآن میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہہ دی گئی ہے (33: 46)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی ٔ زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادّی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں ہے۔ زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتاہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔مثلاً مسح علی الخفّین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا۔ اب صنعتی ریشوں سے تیار کئے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اِس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اِسی کا نام اجتہاد ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اِس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا مابہذا بُعثتُ إلیکم (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، جلد 1 ، صفحہ 316) یعنی میںتمھارے پاس اِس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I have not been sent to you for this purpose.
اِسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو وہاں کے حالات کے اعتبار سے بعض مسائل پیدا ہوئے، جو باغ بانی (horticulture) سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے اِس معاملے میں آپ سے مشورہ حاصل کرنا چاہا۔ آپ نے دوبارہ ان کو وہی جواب دیا جو آپ مکہ کے لوگوں کو دے چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ أنتم أعلم بأمر دنیاکم (صحیح مسلم، کتاب الفضائل) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
You know better about your worldly matters.
آب پاشی، باغ بانی، فنِ تعمیراور صنعت جیسی چیزوں کا تعلق انسانی تہذیب سے ہے۔ تہذیب کا عمل ہمیشہ انسانی تحقیق وجستجو پر مبنی ہوتا ہے۔ اِس معاملے کو خدا نے انسان کے اپنے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ تاہم جہاں تک ہدایت کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق خدائی وحی سے ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے لیے خدا نے وحی ونبوت کا سلسلہ جاری کیا۔
مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر الکسس کیرل (وفات 1944 ) نے 1935 میںایک کتاب شا ئع کی۔ اِس کتاب کا نام— انسانِ نامعلوم (Man the Unknown) تھا۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اِس کتاب کانام— ہدایت نامعلوم (Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امورِ غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امورِ غیب کا علم رکھتا ہے۔ اِس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہ نمائی انسان کو دی جاتی رہی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب اِس خدائی رہ نمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اِس مستند کلامِ الٰہی (word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہ نمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جئت فختمتُ الأنبیاء (صحیح مسلم، کتاب الفضائل) یعنی میںآیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دلیلِ نبوت
پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں 570 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو 610 ء میں خدا نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ پر قرآن اتارا۔ آپ کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اِس مشن کے لیے آپ نے تقریباً 23 سال تک کام کیا ۔ اِس کے بعد 632 ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ نے استثنائی طورپر اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت بنائی، جس کواصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ اصحابِ رسول کی اِس جماعت نے آپ کے مشن کوتکمیل کے درجے تک پہنچایا۔
رسول اور خاتم الانبیا
قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیاء بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیا ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر ِ خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیا ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے۔ مثلاً کارل مارکس (وفات 1883 ) نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر یہ اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ انقلاب سب سے پہلے فرانس میںآئے گا، مگر اُس کا یہ اعلان واقعہ نہ بن سکا۔ اِسی طرح تاریخ میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں، جنھوںنے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کی جرأت کی، مگر اِس قسم کی ہر پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی، وہ تاریخی واقعہ نہ بن سکی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس عموم میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ آپ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں مدینہ میںیہ اعلان کیا کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات حیرت انگیز طورپر تاریخ کا ایک واقعہ بن گئی۔ یہ استثناء بلا شبہہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے اور اِسی کے ساتھ نبیوں کے خاتِم بھی۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان قرآن میںبار بار کیاگیا ہے۔ مثلاً فرمایا ماکان محمدٌ أبا أحدٍ من رّجالکم، ولکن رّسولَ اللہ وخاتَم النبیین (33: 41)۔ اِس آیت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بھی تھے اور خدا کے آخری پیغمبر بھی۔ اِسی طرح خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ أنا النّبیّ لاکذب (صحیح البخاری، کتاب الجہاد؛ صحیح مسلم کتاب الجہاد) یعنی میںنبی ہوں، اِس میںکوئی شک نہیں۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا أنا خاتم النبیین (صحیح البخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل؛ أبوداؤد، کتاب الفتن؛ التّرمذی، کتاب الفتن؛ مسند احمد) یعنی میںآخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوائے نبوت نہیں
یہ بات نہایت اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے تاریخی دور میں ساری دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنی زبان سے اِن الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کرے کہ—میں خدا کا پیغمبرہوں، بالکل اُسی طرح جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے
I am the prophet of God in the same sense in which Moses and Jesus and Muhammad claimed they were prophets of God.
اور جب کوئی شخص اِن الفاظ میں، نبوت کا دعویٰ کرنے والا نہیں اٹھا تو پیغمبر اسلام کا یہ دعویٰ اپنے آپ ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آپ کے اِس اعلان کے بعد تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی شخص ایسا نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ اعلان کرے کہ — میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس طرح آپ کا دعویٰ گویا کہ بلا مقابلہ اپنے آپ ثابت ہوگیا۔
اِس سلسلے میں کچھ نام بتائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھوںنے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ مثلاً کہاجاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے مُسیلمہ (وفات 633 ء) نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کسی مستقل نبوت کا دعویٰ نہیںکیا تھا۔ اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیاگیا ہوں۔ اِس طرح اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حیثیت دے دی۔ اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرکتِ نبوت سے انکار کیا تو اُس کا دعویٰ اپنے آپ ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح آپ کے زمانے میں یمن میںایک اور شخص پیدا ہوا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص اسود العَنسی (وفات 632 ء) تھا۔ تاہم تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے خود اپنی زبان سے یہ کہا تھا کہ— میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ میرے مطالعے کے مطابق، اُس کا کیس ارتداد اور بغاوت کا کیس تھا، نہ کہ دعوائے نبوت کا کیس۔
اِسی طرح آپ کے بعد ابو المتنبّی (وفات 965 ء) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ المتنبّی ایک شاعر تھا اور نہایت ذہین آدمی تھا۔ اُس نے مزاحیہ طورپر ایک بار اپنے کو نبی جیسا بتایا، بعد کو اس نے اپنے اِس قول کو خود ہی واپس لے لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح کہاجاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے دو افراد پیدا ہوئے، جنھوں نے مذکورہ الفاظ میں،اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا— بَہاء اللہ خاں (وفات 1892) اور مرزاغلام احمد قادیانی (وفات 1908 )، مگر تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔
بہاء اللہ خاں نے صرف یہ کہا تھا کہ — میںمظہرِ حق ہوں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میںخدا کا پیغمبر ہوں۔ اِسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں، جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوںنے صرف یہ کہا تھا کہ میںظلِّ نبی ہوں، یعنی میںنبی کا سایہ ہوں۔ اِس طرح کے قول کو ایک قسم کی دیوانگی تو کہا جاسکتا ہے، لیکن اس کو حقیقی معنوں میں دعوائے نبوت نہیںکہا جاسکتا۔
ہندوگروؤں کی مثال
موجودہ زمانے میں ہندوؤں میںکچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرنکاری بابا گُربچن سنگھ (وفات 1980 ) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرنکاری بابا کو وقت کا پیغمبر (prophet of the time) لکھاگیا تھا۔ میںاُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرنکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرنکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیںکیا کہ — میں خدا کا پیغمبر ہوں۔
اِسی طرح کیرلا (تری وندرم) میںایک مشہور ہندو گرو تھے۔ اُن کا نام برہما شری کروناکرا (وفات 1999) تھا۔ تری وندرم میںان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام ’شانتی گری آشرم‘ ہے۔ اُن کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ اِس کے بعد میںنے خود کیرلا کا سفر کیااور تری وندرم میںان کے آشرم میں ان سے ملا۔ میںنے ان کے معتقدین سے پیشگی طور پر بتادیا تھا کہ میں کس مقصد سے وہاں جارہا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے یہ سفر فروری 1999 میںکیا تھا۔ شانتی گری آشرم میں پہنچ کر میںاُن سے ملا۔ مجھے ایک خصوصی کمرے میں لے جایا گیا، جہاں بابا جی کے ساتھ اُن کے تقریباً پچاس معتقدین موجود تھے۔ گفتگو کے دوران میںنے بابا جی برہما شری کرونا کرا سے ایک سوال کیا۔ اس کا جواب انھوںنے واضح لفظوں میں دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا
Q: Do you calim that you are a prophet of God in the same sense in which Moses, and Jesus, and Muhammad claimed they were prophets of God.
A: No, I don’t make any such claim.
اِس گفتگو میںمیںنے ڈائریکٹ طورپر ان سے پوچھا کہ کیا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ انھوںنے صاف طورپر کہا کہ نہیں، میںایسا دعویٰ نہیںکرتا۔ جب انھوں نے اِس طرح کہہ دیا تو اُس کے بعد میرا سوال و جواب ختم ہوگیا۔ اُس کے بعد میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتا رہا اور پھر چلا آیا۔ اِس سفر میں شانتی گری آشرم میں میں نے دو دن قیام کیا۔
کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میںخدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس پرغور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ایسا کلام اتنا زیادہ غیر معمولی ہے کہ کوئی غیر پیغمبر اس کو اپنی زبان سے ادا نہیںکرسکتا۔
جس طرح خدا کے سوا کوئی اور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میںخدائے ربّ العالمین ہوں، اِسی طرح کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میںخدا کا بھیجا ہوا پیغمبر (Prophet of God)ہوں۔ پیغمبری کا دعویٰ صرف کوئی سچا پیغمبر ہی کرسکتا ہے۔ کوئی غیر پیغمبر شخص دوسرے دوسرے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ— میںخدا وند ِ عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔
پیغمبر ایک تاریخی استثنا
پیغمبر کے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) ہوتاہے۔ خدا کی طرف سے جتنے بھی پیغمبر آئے ، سب کے سب درجے کے اعتبار سے یکساں تھے (2: 185)، لیکن رول کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا۔ پچھلے پیغمبروں کا رول زمانی رول تھا، اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا رول ابدی رول تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن اور حدیث کی تصریح کے مطابق، کسی پیغمبر کو دوسرے پیغمبر کے اوپر شخصی فضیلت حاصل نہ تھی۔ پیغمبر ہونے کے اعتبار سے ایک کا جو درجہ تھا، وہی دوسرے کا درجہ بھی تھا۔ لیکن کارِ مفوّضہ کی نسبت سے ہر ایک کی ضرورتیں الگ الگ تھیں۔ اِس بنا پر ہر ایک کو مختلف نوعیت کے ذرائع دیے گیے۔ مثلاً حضرت موسیٰ کی نصرت قوتِ عصا کے ذریعے کی گئی، تو حضرت مسیح کی نصرت قوتِ شفا کے ذریعے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے نبیوں کے درمیان ایک واضح فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام پیغمبر روایتی دورِ تاریخ میںآئے اور روایتی دورِ تاریخ ہی میں ان کا پیغمبرانہ رول ختم ہوگیا۔ اِس کے مقابلے میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ آپ تاریخ کے روایتی دور میں آئے ، لیکن توسیعی معنوں میں آپ کی نبوت تاریخ کے سائنسی دور تک جاری رہی۔ اِس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عطیات برائے نصرت دیے گیے، وہ پچھلے اَدوار کی نسبت سے مختلف تھے۔
رول کے اِسی فرق کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیا کے درمیان دلائل کی نسبت سے فرق پایا جاتا ہے، یعنی پچھلے انبیا کے یہاں اگر روایتی نوعیت کے دلائل ہیں تو پیغمبراسلام کے یہاں سائنسی نوعیت کے دلائل۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب تاریخ کے روایتی دور میں آئے۔ اِس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام، تاریخ کے اُس دور میں آئے جب کہ سائنسی دور شروع ہونے والا تھا۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ دوسرے پیغمبروں کو حِسّی معجزے دیے گیے۔ یہ معجزے صرف پیغمبر کے معاصر (contemporary)لوگوں کے لیے دلیل تھے۔ اِن معجزوں کی استدلالی حیثیت مشاہدے پر مبنی تھی۔ پیغمبر کے بعد وہ معجزہ ختم ہوگیا، اِس لیے وہ بعد کی نسلوں کے لیے دلیل بھی نہ رہا۔معجزے کا دلیل ہونا اُن معاصر لوگوں کے لیے ہے جو اس کو دیکھیں، وہ اُن غیر معاصر لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جو اس کو صرف سنیں یا پڑھیں، مگر انھوں نے اِس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان اگر چہ درجے کے اعتبار سے فرق نہ تھا، لیکن پیغمبر اسلام ایک ایسے دورِ تاریخ میں آئے، جب کہ آپ کی دعوت اور آپ کی زندگی سے متعلق ہر چیز محفوظ (preserve)رہ سکتی تھی— اِس بنا پر ایسا ہوا کہ آپ کی نبوت ایک مسلسل نبوت بن گئی۔ ہر پیغمبر کو خدا کی طرف سے پیغمبری کے ساتھ دلیل بھی دی جاتی تھی جس کو قرآن میں ’’بُرہان‘‘ کہاگیا ہے۔ یہ دلیل پچھلے پیغمبروں کے لیے حسی معجزہ (physical miracle) کی صورت میں ہوتی تھی، لیکن پیغمبر اسلام کے لیے یہ دلیل تاریخ کی صورت میں ہے، ایک ایسی استثنائی تاریخ جو کسی اور انسان کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نبوتِ محمدی کا ثبوت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت، دوسرے پیغمبروں کی طرح، یہ ہے کہ آپ کی زندگی ایک تاریخی استثنا (historical exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی یہی استثنائی حیثیت ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ’مقامِ محمود‘ (praised state) بتایا گیا ہے (18: 79)۔ مقامِ محمود سے مراد مقامِ اعتراف ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انسانوں کے درمیان اعترافِ کامل کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ کے گرد ایسی استثنائی تاریخ اکھٹا ہوگی کہ خود انسان کے اپنے مانے ہوئے معیار کے مطابق، آپ کی نبوت ایک مسلّمہ نبوت بن جائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں ’مقامِ محمود‘ کی آیت سے مراد، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں مشہور امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ — آپ تاریخ کے واحد شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He was the only man in history who was supremly successful on both the religious and secular levels.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوویسٹ پوائنٹ (lowest point) 610 ء کے بعد آیا، جب کہ مکہ کی ایک غیر مسلم خاتون اُمِّ جمیل نے آپ کے پاس آکر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مُذمَّماً أبینا، یعنی تم ایک قابلِ مذمت شخص (condemned person) ہو، ہم تم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اِس کے تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال بعد 1978 میں آپ کی زندگی کا ہائیسٹ پوائنٹ (highest point)آیا، جب کہ امریکا کے ایک غیر مسلم اسکالر ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے 570 صفحے کی ایک کتاب (The 100) میں اعلان کیا کہ— محمد پوری انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful)کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میںاِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری انسانی تاریخ میںایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہر لحاظ سے آپ تمام انسانوں کے درمیان کامل طورپر ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مستقبل کی تصدیق
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اترا۔ اُس وقت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں یہ اعلان کیاگیا کہ — عن قریب، ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر کھُل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41: 53)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا نے جس صداقت کا اعلان کیا ہے، وہ ایک ابدی صداقت ہے۔ بعد کو آنے والی تاریخی تبدیلیاں اُس کو رد نہیں کریں گی، بلکہ وہ اس کی تصدیق کرتی چلی جائیں گی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اعلان پوری طرح سچا ثابت ہوا۔ ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی تبدیلیاں ہوئیں اور پھر علومِ سائنس کا دور آیا، جوگویا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب تھا۔ مگر بعد کو پیش آنے والے اِن انقلابات نے دینِ محمدی کی جُزئی یا کُلّی طورپر تردید نہیں کی، بعد کے زمانے میں پیش آنے والے تمام واقعات دینِ محمدی کی صداقت کا ثبوت بنتے چلے گیے— اِس قسم کا استثنا (exception) لمبی تاریخ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں ہم اِس تاریخی واقعے کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔
توحید کی صداقت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کے طور پر یہ اعلان کیا کہ خدا صرف ایک ہے۔ خدا کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی اس کا شریک۔ اُس وقت ساری دنیا میں انسان کے ذہن پر شرک کا تصور غالب تھا۔ لوگ مخلوقات میں تعدّد دیکھتے تھے، اِس لیے انھوں نے مان لیا کہ خدائی میں بھی تعدّد ہے، یعنی مختلف چیزوں کو مختلف خداؤوں نے بنایا ہے۔ مثلاً پانی کو کسی اور خدا نے بنایا، اور پہاڑ کو کسی اور خدا نے بنایا، اور سورج کو کسی اور خدا نے بنایا،اور چاند کو کسی اور خدا نے بنایا، وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسانی علم مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کرتا رہا۔ اِس مطالعے میں سیکڑوں سال بیت گیے۔ یہاں تک کہ سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727 ) کے زمانے میں یہ تعدّد گھٹ کر چار تک پہنچ گیا۔ نیوٹن کے زمانے میں سائنس دانوں نے یہ مان لیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں بہت سی نہیں ہیں، بلکہ صرف چار طاقتیں ہیں جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں
1 - قوتِ کشش (gravitational force)
2 - برقی مقناطیسی قوت (electormagnetic force)
3 - طاقت ور نیوکلیر قوت(strong nuclear force)
4 - کم زور نیوکلیر قوت(weak nuclear force)
مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ نیوٹن کے زمانے سے کائنات کا جو سائنسی مطالعہ شروع ہوا تھا، اُس سے دن بدن یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ وسیع کائنات میںاگرچہ ان گنت چیزیں ہیں اور سب کی سب متحرک ہیں، لیکن اِن تمام متحرک اور متنوع چیزوں کے درمیان حیرت ناک حد تک ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ تمام چیزیں کامل توافُق کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ ہم آہنگی اور توافق اُس وقت ممکن نہیں ہوسکتی جب کہ کائنات کو متعدد طاقتیں کنٹرول کررہی ہوں۔ چناں چہ سائنس داں مسلسل اِس کوشش میں تھے کہ وہ اِس معاملے میںتعدّد کو توحّد تک پہنچائیں۔ آخر کار برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ کام اطمینان بخش طورپر انجام دیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسٹفن ہاکنگ، نظریاتی فزکس کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے خالص سائنسی متھڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی صرف ایک طاقت ہے۔ اِس نظریہ کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہاجاتا ہے۔ اِس طرح اِس معاملے میں سائنسی نقطۂ نظراور توحید کا اسلامی نقطۂ نظر دونوں ایک ہوگئے۔ توحید کا نقطۂ نظر جس کائنات کا تقاضا کررہا تھا، کائنات کی وہی نوعیت سائنسی مطالعے سے ثابت ہوگئی۔
علمِ قلیل
قرآن کی سورہ الاسراء میںاعلان کیاگیا تھا کہ انسان کو صرف علمِ قلیل حاصل ہے(17: 85) ۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ انسان تخلیقی طورپر محدودیت (limitations) کا حامل ہے۔ اپنی اِس فطری محدودیت کی وجہ سے وہ صرف علمِ قلیل تک پہنچ سکتا ہے، علمِ کثیر کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میںانسان کو خدا کے پیغمبر کے اوپر ایمان لانا چاہیے۔ پیغمبر وحیِ الٰہی کے ذریعے اُس بات کو جان لیتا ہے جس کو انسان اپنی محدودیت کی بناپر نہیں جان سکتا۔ اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی ہدایت پیغمبر کے ذریعے حاصل کرے۔ اِس معاملے میں انسان کے لیے اِس کے سواکوئی اور انتخاب (option) موجود نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میںیہ بات ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں کہی گئی تھی۔ اُس وقت انسان اِس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ قرآن کی اِس تنبیہہ کے باوجود بڑے بڑے فلسفیانہ دماغ علمِ کُلّی کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ آخر کار کئی ہزار سال کی ناکام کوشش کے بعد جدید سائنس ظہور میںآئی۔ جدید سائنس نے دور بین اورخورد بین جیسے بہت سے طریقے دریافت کیے۔ اب یہ یقین کیا جانے لگاکہ سائنسی مطالعے کے ذریعے انسان اُس مطلوب علم تک پہنچ جائے گا، جہاں تک پچھلے زمانے کا انسان نہیں پہنچ سکا تھا۔
یہ تلاش نیوٹن کے بعد سے عالمِ کبیر (macro world) کی سطح پر چلتی رہی۔ آخر کار آئن اسٹائن (وفات 1955 ) کا زمانہ آیا، جب کہ انسانی علم عالمِ صغیر(micro world) تک پہنچ گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ جس مادّے کو پہلے قابلِ مشاہدہ (visible)سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اپنے آخری تجزیے میں قابلِ مشاہدہ نہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ مان لیا گیا کہ سائنسی طریقہ انسان کو علمِ کُلی تک پہنچانے میں حتمی طورپر ناکام ہے۔
سائنس کی یہ علمی ناکامی پہلے صرف عالمِ صغیر کی حد تک دریافت ہوئی تھی، مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ خود عالمِ کبیر بھی انسان کے لیے حتمی طورپر ناقابلِ مشاہدہ ہے۔ سائنس کے آلات مادی دنیا کے بارے میں انسان کو کلی علم تک پہنچانے سے عاجز ہیں۔ انسان جس طرح عالمِ صغیر کے بارے میں علمِ قلیل رکھتاہے، اُسی طرح وہ عالمِ کبیر کے بارے میں بھی صرف علم قلیل کا حامل ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ نظریہ بلیک ہول (Black Hole) کی دریافت کے بعد سامنے آیا۔
ایمسٹرڈم (ہالینڈ) میںماہرینِ طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس 2007 میں ہوئی۔ اِس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک امریکی سائنس داں جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ— ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ ڈارک میٹر (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتی، اِس لیے ہم اُس کو ڈائرکٹ طورپر نہیں دیکھ سکتے۔ موجودہ آلات کے ذریعے ہم اُن کا حاطہ نہیں کرسکتے
Dark matter cannot be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation — or not enough to be picked up by available tools. (The Times of India, New Delhi, September 23, 2007, p. 20)
other sourceWords of another person or source
جیمس واٹسن نے اپنے مذکورہ بیان میں مزید کہا کہ — ہم سمجھتے تھے کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر معلوم ہواکہ ہم کائنات کے صرف چار فی صد حصے ہی کو براہِ راست طورپر جان سکتے ہیں
other sourceWords of another person or source
We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything.
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ علم کے بارے میں مستقبل نے اُسی بات کی تصدیق کی جو بہت پہلے اُس کتاب میں کہہ دی گئی تھی جو پیغمبر اسلام، خدا کی طرف سے لائے تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ اِس یقین کے ساتھ اپنی تلاش میںلگے ہوئے تھے کہ وہ علمِ کُلی تک پہنچ سکتے ہیں، مگر قرآن میں پیشگی طورپر یہ اعلان کیاگیا کہ اپنی محدودیت کی بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود اپنی کوشش سے علمِ کلی تک پہنچ سکے۔ آخر کار خود انسانی علم نے قرآن کے بیان کی تصدیق کردی۔ مستقبل نے انسانی مفروضے کو رد کردیا اور قرآن کے بیان کی کامل تصدیق کردی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیائے فانی کا نظریہ
قرآن میں واضح الفاظ میں موجودہ دنیا کے بارے میں یہ تصور دیاگیا تھا کہ یہ زمینی سیّارہ جس پر انسان آباد ہے، اس کی ایک محدود عمر ہے۔ یہاں انسان اپنے لیے جنت (paradise) کی تعمیر نہیں کرسکتا۔ یہ دنیا عارضی طورپر امتحان کے لیے بنی ہے اور اس کے بعد یہاں سے اُن تمام چیزوں کا خاتمہ کردیا جائے گاجس کی مدد سے انسان یہاں زندہ رہتا ہے اور اپنے لیے اپنی مطلوب دنیا بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہاں اِس سلسلے میں دو آیتیں نقل کی جارہی ہیں
1 - یوم تبدّل الأرض غیر الأرض والسمٰوات، وبرزوا للہ الواحد القہّار (14: 48)یعنی جس دن یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب ایک زبردست اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - إنّا جعلنا ما علی الأرض زینۃً لہا لنبلوہم أیّہم أحسن عملاً۔ وإنّا لجاعلون ما علیہا صعیداً جُرُزا (18: 7-8) یعنی جو کچھ زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے، تاکہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنادیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق، موجودہ سیّارۂ زمین پر جو زندگی بخش حالات ہیں، وہ حتمی طورپر ختم ہونے والے ہیں اور مسلسل ان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے۔ لیکن بڑے بڑے انسانی دماغوں نے اِس کے برعکس نظریہ قائم کیا۔ سُقراط اور افلاطون اور ارسطو سے لے کر موجودہ زمانے کے رہنماؤں تک ہر ایک نے یہ نظریہ قائم کیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو آئڈیل دَور کی طرف لے جارہے ہیں— آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل سماج اور آئڈیل نظام، وغیرہ۔ اِس معاملے میں لوگوں کا واہمہ (obsession) اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بار بار برعکس نتیجہ نکلنے کے باوجود انھوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔
چارلس ڈار ون (وفات 1882) کا عضویاتی ارتقا (organic evolution)کا نظریہ سامنے آیا تو اس کے وسیع تر انطباق کے تحت یہ یقین کرلیا گیا کہ انسان کی تمدنی تاریخ مسلسل بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صنعتی سائنس کے ظہور کے بعد اِس نظریے کو مزید تقویت ملی اور یہ یقین کرلیاگیا کہ موجودہ دنیا کو جنّتی دنیا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
اَلوِن ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک(Future Shock) پہلی بار 1970 میں چھپی ۔ اِس کتاب میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دنیا ترقی کرکے انڈسٹریل ایج (industrial age) میں پہنچی تھی۔ وہ مزید ترقی کرکے سپرانڈسٹریل ایج (super industrial age) کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکا کو اسپیس ٹکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی تو اُس نے اعلان کردیا کہ اب ہم زمینی تہذیب سے آگے بڑھ کرخلائی تہذیب (space civilization) کے دور تک پہنچ رہے ہیں۔ اب ہم زمین سے چاند تک سفر کریں اور وہاں سے مرّیخ (Mars) تک پہنچ جائیں گے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
We want to build a space civilization for tomorrow from where humans can travel to the Moon and from there to Mars (The Times of India, September 26, 2007, p. 21).
other sourceWords of another person or source
یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ہماری زمین پر وہ اختتامی دور شروع ہوگیا جس کو گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحت، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا ۔ اِس پینل میںڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے۔ اِن سائنس دانوں کا تعلق دنیا کے ایک سو تیس (130)ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی پررسرچ کے لیے تھا۔ اِس پینل نے اپنی رسرچ مکمل کرکے اس کی تفصیلی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے حوالے کردی ہے۔
یہ کسی ایک کانفرنس کی بات نہیں۔ آج کل تقریباً ہر روز میڈیا میںاِس قسم کی خبریں آرہی ہیں۔ تمام دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے اسباب کا مسلسل خاتمہ ہورہا ہے۔ کئی انواعِ حیات (species)اب تک ناموافق موسم کی وجہ سے ختم ہوچکی ہیں۔ اِس سلسلے کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (3 جنوری 2007 ) میں شائع ہوئی۔ اُس کا عنوان یہ تھا— انتباہی نشانیاں (Warning Signs) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے کا ایک اور حوالہ یہ ہے۔ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050 ء تک سطحِ ارض کا بڑا حصہ خشک ہوچکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہوجائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں، جب کہ ایک ایک کرکے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو اِس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جو کچھ ہونے والا ہے، اُس میں اگر بیس فی صد آدمی بھی زندہ بچ جائیں تو وہ بہت خوش قسمت انسان ہوں گے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We are on the edge of the greatest die-off humanity has ever seen. We will be lucky if 20% of us survive what is coming. (The Times of India, May 18, 2007, p. 22)
other sourceWords of another person or source
گلوبل وارمنگ (global warming)کا موضوع موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ برننگ ٹاپک (burning topic)بن چکاہے۔ اِس موضوع پر کثرت سے رپورٹیں اور مضامین اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ کسی کو مزید تفصیل جاننا ہو تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہ آسانی یہ تفصیلات جان سکتا ہے۔
غیر معمولی کامیابی
ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے اپنی کتاب (The 100) میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام نے نہ صرف مذہبی سطح پر، بلکہ سیکولر سطح پر بھی استثنائی کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اعلیٰ کامیابی کے معاملے میں پوری انسانی تاریخ میں محمد کا کوئی ہم سر نہیں۔ اِس سلسلے میں اُن کے چند جملے یہ ہیں
other sourceWords of another person or source
The most astonishing series of conquests in human history (p. 35). The largest empire that the world had yet seen (p. 35). The most influential political leader of all time (p. 39). It is this unparalleled combination of secular and religious influence which I feel entitles Muhammad to be considered the most influential single figure in human history (p. 40).
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی محمد کی کامیابی پوری تاریخ میںعجیب ترین سلسلۂ فتوحات کی حیثیت رکھتی ہے۔انھوںنے نے اور اُن کے ساتھیوں نے تاریخ کا سب سے بڑا ایمپائر قائم کیا۔ وہ پوری تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر سیاسی رہ نما تھے۔ مذہبی اور سیکولر دونوں اعتبار سے ان کی اِس بے نظیر کامیابی کا تقاضا ہے کہ ان کو پوری تاریخ کا واحد سب سے زیادہ کامیاب انسان قر ار دیا جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نظیر کامیابی کا اعتراف مؤرخین نے عام طورپر کیا ہے۔ یہاں ہم ایک اور اقتباس نقل کرتے ہیں۔ انڈیا کے ایک ہندواسکالر ایم این رائے (وفات 1954 ) نے انگریزی زبان میں 91 صفحات کی ایک کتاب لکھی تھی، جو پہلی بار دہلی سے 1939 میں چھپی۔ اِس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا— اسلام کا تاریخی رول
The Historical Role of Islam
اِس کتاب میںمصنف نے اسلام کے غیر معمولی تاریخی رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— اسلام کی سیاسی توسیع بلا شبہہ تمام معجزات میں سب سے زیادہ بڑا معجزہ ہے
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حقیقت اتنی زیادہ بدیہی ہے کہ عام طورپر مورخین نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے ایمپائر قائم ہوئے۔ مثلاً یونانی ایمپائر، رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر، برٹش ایمپائر، مگر کوئی بھی ایمپائر اسلامی فتوحات کے برابر نہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہ تاریخی استثنا ابھی تک قائم ہے۔ یہ اُن دلائل میںسے ایک دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ اور آپ کو خدا کی خصوصی مدد حاصل تھی۔ خدا کی مدد کے بغیر کوئی بھی شخص اِس قسم کی استثنائی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔
نظریۂ امن
امن کے بارے میں انسان ہمیشہ سوچتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں امن ایک قسم کا انتظامی معاملہ سمجھا جاتا تھا، یعنی امن ایک ایسی چیز تھی جس کو حاکمانہ اختیار کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ اِس نظریے کے تحت ارباب اختیار نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پیکس رومانا(Pax Romana)، پیکس برٹانکا (Pax Britanica)، پیکس امریکانا(Pax Americana)، وغیرہ۔ مگر اِس قسم کا سیاسی امن صرف جُزئی طورپر کسی سماج کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ اِس لیے وہ اہلِ علم کے درمیان مطلوب امن کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔
بیسویں صدی کے آغاز سے امن پر مبنی ایک باقاعدہ نظریہ(ideology) وجود میں آیا۔ اِس کو عام طورپر پیسی فزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ پیسی فزم کے نظریے کے تحت موجودہ زمانے میں متعدّد مفکرین پیدا ہوئے۔ مثلاً سموئل کانٹ (Samuel Cant) ، مارکس اریلیس (Marcus Aurelius) اور مہاتما گاندھی وغیرہ۔ اِس نظریے کی حمایت میں بہت سے مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں۔ انسائکلو پیڈیا برٹانکا میں اِس موضوع پر تقریباً دس صفحے کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اِس موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں ہم صرف تین کتابوں کا نام درج کرتے ہیں
1. Raymon Raymond Aron, Peace and War, 1966
2. E.L. Alen, Francis E. Pollard, The Case for Pacifism and Conscientious Objection, 1946
other sourceWords of another person or source
3. Aldous Huxley, An encyclopaedia of Pacifism, 1937
لیکن امن کے رہنما اور مفکرین کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام افراد جس امن تک پہنچے، وہ صرف ایک منفی امن (negative peace) تھا۔ جہاں تک مثبت امن (positive peace) کا تعلق ہے، وہاں تک کوئی بھی شخص نہ پہنچ سکا۔ امن کے تمام مفکرین جس امن کی بات کرتے ہیں، وہ جنگ اور تشدد کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ چناں چہ امن کی تعریف جنگ اور تشدد کی غیرموجود گی (absence of war and violence) سے کی جاتی ہے۔ اِسی تصور کی بنا پر یہ تمام افراد مفروضہ دشمنانِ امن کے خلاف اقدام کرتے رہے۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک اِن دشمن طاقتوں کے خاتمے سے دنیا میں امن قائم ہوتا تھا۔
اِس نظریۂ امن میں امن کو مثبت قدر (positive value)کا مقام حاصل نہ ہو سکا۔اِس نظریۂ امن میں امن کو صرف ایک طریقۂ کار (method) کا درجہ حاصل ہوا، نہ کہ وسیع تر معنوں میں ایک نظریۂ حیات (ideology) کا درجہ۔
پیسی فزم (pacifism)کے معاملے میں مہاتما گاندھی کا نام نمایاں طورپر شامل ہے۔ لیکن ان کا نظریۂ امن بھی ایک منفی نظریۂ امن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک خصوصی سیمنار ہوا۔ اِس سیمنار کی مکمل روداد نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’دی پائنیر‘ (26 جنوری1997 ) میں شائع ہوئی۔ اِس سیمنار میں راقم الحروف کے علاوہ حسب ذیل افراد شریک ہوئے — رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبراتا مُکھرجی، کے آر ملکانی۔ اِس سیمنار کا موضوع یہ تھا — کیا گاندھی آج کامیاب ہوتے
Could Gandhi have succeeded today?
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گاندھی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، پھر وہ آج کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی کا مقصد ایک پُرامن انقلاب لانا تھا، مگر اپنے پیشِ نظر مقصد کے مطابق، وہ کوئی پُرامن انقلاب نہ لاسکے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ انقلاب نہ تھا، بلکہ محدود معنوں میں صرف حکم رانوں کی تبدیلی (coup) تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ناگہانی انقلاب (coup) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی انقلاب۔ میری یہ تقریر لفظ بہ لفظ مذکورہ اخبار میں چھپی۔ میری تقریر کے ایک جملے کو لے کر اخبار نے اُس کا عنوان اِن الفاظ میں قائم کیا تھا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Gandhi presided over a non-violent coup, he didn’t usher in a revolution.
یہی معاملہ ہر اُس رہنما اور مفکر کا ہوا جو امن (peace) کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پر امن واقعے کو ظہور میںلانے کے لیے ایک پُرامن آئڈیا لوجی (peaceful ideology) درکار ہے۔ چوں کہ کوئی شخص پُرامن آئڈیالوجی کو دریافت نہ کرسکا، اِس لیے وہ پُرامن زندگی کی تشکیل بھی نہ کرسکا۔
رہنماؤں کی اِس ناکامی کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر ایک امن کو سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا، ہر ایک نے وقت کے سیاسی اقتدار کو امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھا، ہر ایک اِس طرح سوچتا رہا کہ اگر امن کو حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی اقتدار کی رکاوٹ کو ختم کرنا ہوگا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن کی ہر تحریک وقت کے سیاسی اقتدار سے ٹکرا گئی۔ فطری طور پر اربابِ اقتدار نے بھی اپنی طاقت کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بد امنی اور انارکی (anarchy)تھی۔ اِس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے ’’گاندھیائی انڈیا‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا۔ اِس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیاگیا تھا۔ اِسی لیے قرآن میںاُس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امن کا فارمولا
امن کا یہ فارمولا جو خدا نے اپنے علم کے تحت بتایا، وہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ہرمسئلہ کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اِس لیے تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو
Ignore the problem, and avail the opportunities.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی رہنمائی سے اِس فارمولے کو سمجھا اور اس کو حدیبیہ ایگری مینٹ (628 ء) کی شکل میں استعمال کیا۔ حدیبیہ ایگری مینٹ گویا کہ امن فارمولے کا ایک کامیاب مظاہرہ (demonstration) تھا۔ (حدیبیہ ایگری مینٹ کی تفصیلات میری تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ’’دعوہ ایکٹوزم‘‘، الرسالہ، فروری 2007 )۔
امن کا یہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی شخص دریافت نہ کرسکا۔آپ نے اگرچہ اپنی زندگی میں اِس فارمولے کو نہایت کامیاب طور پر استعمال کیا تھا، لیکن میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اِس کو حقیقی طورپر سمجھ نہ سکا، حتی کہ خود مسلمان بھی اِس فارمولے کو سمجھنے سے مکمل طورپر عاجز رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ مسائل (problems) سے لڑ رہے ہیں۔ وہ اِس حقیقت کو جان نہ سکے کہ مسائل کے باوجود اُن کے لیے نہایت اعلیٰ مواقع موجود ہیں۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے، لیکن اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اِس حکمت کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
پیغمبر اسلام کے اِس امن فارمولے نے تاریخ میںایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اِس نئے دور کو ایک لفظ میں ڈی سنٹرلائزیشن آف پولٹکل پاور (decentralization of political power) کہاجاسکتا ہے۔ اِس بات کو قرآن میں وأخریٰ تحبّونہا (61: 13) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی اقتدار صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ اولین چیزیں وہ ہیں جو سیاسی اقتدار کے باہر پائی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں انسٹی ٹیوشن (institution) کا تصور اِسی تاریخی پراسس (historical process) کا اگلا مرحلہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں ایسا ہوا ہے کہ سیاسی اقتدار کے باہر مختلف مقاصد کے لیے انسٹی ٹیوشن بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً تعلیم کے لیے، صنعت وتجارت کے لیے، سماجی فلاح کے لیے اور مشنری ورک کے لیے، وغیرہ۔ اِن اداروں کے ذریعے اتنے بڑے بڑے کام لیے جارہے ہیں کہ لوگوں نے حکومتی اقتدار (political power)کے بغیر مختلف عنوانات سے اپنے ایمپائر بنا رکھے ہیں۔ اِس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چناں چہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
ایک غلط فہمی
کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بہت سے دوسرے لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے مانے جانتے ہیں۔ مثلاً ہندو لوگ رام اور کرشن کو پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں۔ اِسی طرح مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا خصوصی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جہاں تک رام اور کرشن کا تعلق ہے، اِس بحث کے ذیل میں اُن کو زیر غور لانا ممکن نہیں۔اِس کا سبب یہ ہے کہ رام اور کرشن ایک افسانوی شخصیت (mythological figure) کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ انڈیا کے کسی بھی مستند تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رام اور کرشن کوئی حقیقی شخصیت تھے۔ رام اور کرشن کا کوئی ریفرنس نہ انڈیا کی تاریخ میں پایا جاتا ہے اور نہ عالمی تاریخ میں۔
مثال کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم خالص تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ وہ 570 ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے 610 ء میں مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 622 ء میں آپ مکہ کوچھوڑ کر مدینہ چلے گیے اور وہاں انھوںنے اسلام کی پہلی اسٹیٹ (city state)قائم کی۔ 632ء میںآپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور وہیں پر آپ دفن کیے گیے۔ آپ کی قبر اب بھی مدینہ میں موجود ہے۔ اِس قسم کی تاریخی معلومات (historical data)نہ رام کے بارے میں دست یاب ہیں اور نہ کرشن کے بارے میں۔
یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح ہے کہ خود ہندو اسکالر اس کو مانتے ہیں۔ ہندو مصنفین نے اِس موضوع پر مقالات اور کتابوں کی صورت میں بہت زیادہ لکھا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو
The JNU historians reject the Ramayana as a source of historiography: “The events of the stroy of Rama, originally told in the Rama-Katha which is no longer available to us, were rewritten in the form of a long epic poem, the Ramayana, by Valmiki. Since this is a poem and much of it could have been fictional, including characters and places, historians cannot accept the personalities, the events or the locations as historically authentic unless there is other supporting evidence from sources regarded as more reliable by historians. Very often historical evidence contradicts popular beliefs.” (Koenraad Elst: Ram Janmabhoomi Vs Babri Masjid, Voice of India, New Delhi, 1990 p. 14)
quoted sourceQuoted from another author or source
تحریکوں کی تاریخ
لارڈ ایکٹن (John Emerich Edward Dalberg Acton) مشہور مغربی مفکر ہے۔ وہ 1834ء میں پیدا ہوا اور 1902 ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سیاست اور حکومت کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر اس نے سیاسی اقتدار (political power)کے بارے میں کہا کہ — اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے
Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely.
یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جب بھی اقتدار ملتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ دوسروں کی سیاسی بُرائی بتانے والے، اقتدار پاتے ہی خود بھی اُسی قسم کی برائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنی بڑائی کا احساس نہایت گہرے طورپر موجود ہے۔ اقتدار اِس احساس کو غذا دیتا ہے، وہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار تک پہنچتے ہی تمام لوگ بگڑ جاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں تاریخ کی چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں
1 - تحریکوں کی تاریخ میں بہت سے مشہور لوگوں کے نام آتے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اِن لوگوں کو سیاسی ہنگامہ کرنے والے تو بہت سے لوگ ملے، لیکن اِن میں سے کسی کو بھی قابلِ اعتماد ساتھی نہ مل سکے۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال ہے۔ وہ یونان میں 384قبل مسیح میں پیداہوا اور 322 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاہِ یونان الیگزنڈر دی گریٹ (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ وہ آئڈیل اسٹیٹ اور فلاسفر کنگ میںیقین رکھتا تھا۔
اس نے اِس مقصد کے لیے الیگزنڈر کی تعلیم و تربیت اُس وقت کی، جب کہ وہ ابھی شہزادہ تھا۔ ارسطو کو یقین تھا کہ الیگزنڈر ایک فلاسفر کنگ بنے گا اور اس کے خوابوں کی آئڈیل اسٹیٹ قائم کرے گا۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد جب الیگزنڈر 336 قبل مسیح میں باقاعدہ بادشاہ بنا تو اس نے ارسطو کے راستے کو چھوڑ دیا اور عالمی فتوحات کے لیے نکل پڑا۔ اس کا سیاسی خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں بیمار ہو کر بابل (عراق) میں مرگیا۔
2 - یہی معاملہ کارل مارکس(Karl Marx) کا ہے۔ وہ 1818 ء میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883 ء میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے افکار کی بنیاد پر بہت بڑی کمیونسٹ تحریک اٹھی۔ 1917 ء میں کمیونسٹ پارٹی روس میںحکومت کرنے میں کامیاب ہوگئی، لیکن مارکس کے تمام ساتھی اصل مارکسی راستے سے ہٹ گیے۔ ایک کمیونسٹ مسٹر میلوون جیلاس (Milovan Djilas) کے الفاظ میں، طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے نام پر کمونسٹ گروہ خود ایک نیا طبقہ (new class) بن گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ٹراٹسکی (Leon Trotesky) روس میں 1879 ء میں پیدا ہوا اور 1940ء میں میکسکوسٹی میں اس کو قتل کردیا گیا۔ ٹراٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن کے بعد نمبر دو کا لیڈر تھا، مگر 1917 ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہوگئے۔ اس نے انقلاب سے غدّاری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اِس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروںنے اس کو ہلاک کردیا۔
3 - یہی منظر خود انڈیا میںنظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ ایک بھیڑ اکھٹا ہوگئی، لیکن 1947 ء میںآزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گیے۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947 ء کے بعد اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا— اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اِس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ — ’’اب میری کون سنے گا‘‘۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی آئی۔ اس کے بعد 30 جنوری 1948 ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
ہیرؤوں کی جماعت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو استثنائی واقعات جمع ہوئے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جیسی ٹیم پوری تاریخ میںکوئی نہ بنا سکا۔ اِس واقعے کا اعتراف مورخین نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔ مثلاً مشہور برطانی مستشرق ڈیوڈ سموئل مارگو لیتھ (David Samuel Margoliouth) 1885 میں لندن میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربک ڈپارٹمنٹ کا پروفیسر تھا۔ اُس نے عرب تاریخ اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انسائکلو پیڈیا برٹانکا نے اُس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— اُس کے بارے میںیہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو اسلامی موضوعات پر بہت سے عرب علماء سے بھی زیادہ واقفیت حاصل تھی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He came to be regarded as more knowledgeable on Islamic matters than most Arab scholars.
اسلام اور عرب تاریخ کے موضوع پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ اس کی ایک کتاب وہ ہے جو 1905 میں چھپی۔ یہ کتاب اسلام کے ظہور کے موضوع پر ہے اور اس کا نام یہ ہے
Muhammad and the Rise of Islam
اِس کتاب میںپروفیسر مارگولیتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اصحابِ رسول کا گروہ ایک ایسا گروہ تھا، جیسا گروہ تاریخ میں کسی اور شخص کے گرد اکھٹا نہیں ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح فلِپ ہِٹّی (Philip K. Hitti) مشہور اسکالر ہیں۔ وہ 1886 میں لبنان میں پیدا ہوئے اور امریکا میں1978 میںان کی وفات ہوئی۔ وہ عربی زبان اور اسلامی علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ امریکا کی کئی یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور مشرقی علوم کے پروفیسر رہے ہیں۔ ان کی ایک مشہور کتاب عرب تاریخ پر ہے۔ اُس کا نام یہ ہے History of the Arabs
ان کی یہ کتاب پہلی بار 1937 میں چھپی۔ اِس کتاب میںانھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions)کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ — پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے عرب کی بنجر زمین جادو کے ذریعے ’’ہیروؤں کی نرسری‘‘ میںتبدیل کردی گئی ہو، ایسے ہیرو جن کے مِثل، تعداد یا نوعیت میں، کہیں اور پانا سخت مشکل ہے
After the death of the prophet sterile Arabia seems to have been converted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom, both in numbur and quality, is hard to find anywhere. (p. 142)
other sourceWords of another person or source
مستقبل کی دنیا
موجودہ زمانے میں دو مختلف آئڈیالوجی اُبھری— سیکولر آئڈیالوجی اور مذہبی آئڈیا لوجی۔ سیکولر آئڈیا لوجی سے مراد وہ آئڈیا لوجی ہے جو خالص انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اِس کے مقابلے میں، مذہبی آئڈیالوجی وہ ہے جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہرہ ہے کہ سیکولر آئڈیالوجی اب اپنی ناکامی کے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتارہے ہیں کہ مذہبی آئڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
جدید مادّی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کرلیا کہ بہت جلد ہمارے سیّارۂ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اِس آئڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ اِس کتاب میں مصنف نے تیقن کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کرکے سُپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادّی خواہشیں اپنا مکمل فلفل مینٹ (fulfilment)پالیں۔
مگر اکیسویں صدی کاآغاز اِس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہرہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ (global warming)کہاجاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کثافت نے سیارۂ زمین پر ایسے حالات پیدا کئے، جب کہ یہ دنیا سرے سے انسان کے لیے قابلِ رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری رسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اِس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ غیر منقلب (irreversible) ہوچکی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (18 نومبر 2007 ) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اِس رپورٹ کے عنوان کے لئے اُس نے بامعنی طور پر اِن الفاظ کا انتخاب کیا تھا— قیامت اب زیادہ دور نہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Doomsday not Far
یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئڈیالوجی کی تنسیخ کررہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اِس معاملے میں مذہبی آئڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بَرحقیقت ہے۔ مذہبی آئڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین اِس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاںانسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کرسکے۔ یہاں کے ناقص اسباب قطعیّت کے ساتھ کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں مانع ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے میں درست اورمطابقِ واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگریہ چیزیں بطور انعام ہوتیں، تو وہ اپنی ذات میںکامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور اِن چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طورپر نہیں دی گئیں۔
یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اِس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اِس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اِس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اِس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میںاپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرچکے ہوں۔
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور رہ نما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوشش کے باوجود اُنھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ اِس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ کہ ساری دنیا میںانارکی اور کرپشن اور استحصال اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اِس معاملے میںمزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ اب تمام قرائن کے مطابق، یہ ناممکن ہوچکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ جدید ترقیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔یہ ضمیر جس طرح پہلے، لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہوچکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف عدالت کی بے انصافیوں میںاضافہ ہوا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے عمل کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اِس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے، ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اورانصاف کو قائم کرے۔یہ صورتِ حال اِس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومُ الحساب (day of judgment) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہوجائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیںہوا تھا۔
پیغمبرانہ آئڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دَور ہیں— قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طورپر ثابت ہوچکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلا شبہہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے— یہ مطلوب دنیا ایک زیر تعمیر دنیا ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔
پیغمبر ِ انقلاب
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طورپر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصہ بن گیا۔
پیغمبرآخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمّہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزماں سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا جُز نہ بن سکی، مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت ایک مسلّم تاریخی پیغمبر کی ہے، آپ کی نبوت پورے معنوں میں ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔انسانی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے، اُس میں پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ابدی تعلیم کے اثرات نمایاں طورپر دکھائی دیں گے۔ وہ تمام بہترین روایات اور وہ تمام اعلیٰ قدریں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کے براہِ راست نتائج ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانِ کامل بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔ خدا نے پیغمبرآخرالزماں کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینارکھڑا کردیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اُٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے۔ جب وہ اپنے رہنما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑے۔ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اُس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرلے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادیٔ اعظم اور رہبرِ کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِسی لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (33: 40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ دوسرے انبیا صرف اللہ کے رسول تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اِس کتاب میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ الفاظ لکھے تھے، جونہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (17: 79) ۔ چناں چہ نہ صرف اہلِ اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے پیغمبر اسلام کی عظمت کو کھلے طورپر تسلیم کیا ہے۔بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہاجاتا ہے۔ اِن جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابلِ ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات 1881 ) ہے۔ اُس نے جرأت مندانہ طورپر اِس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیروورشپ(On Heroes, Hero Worship) پہلی بار1841 میں چھپی۔ اِس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبر اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیا۔
اِس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں۔ اِن کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طورپر اعتراف کیا گیا۔ مثلاً انڈیا کے ایک اسکالرایم این رائے (وفات 1954 ) کی کتاب (Historical Role of Islam) 1939 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔ اِس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبر اسلام، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Every prophet establishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, before or after him. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقامِ محمود کا درجہ عطا کیا جائے گا(17: 79) ۔ مقامِ محمودیت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقامِ محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلّم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ سے پہلے جو انبیا آئے، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہوسکے۔آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر بنایا ـتھا۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اِس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طورپر محفوظ ہوجائے، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کرلے۔ کیوں کہ قانونِ الٰہی کے مطابق، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کادرجہ حاصل کرلے تو اس کے بعداُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے، اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
خاتم النبیین
قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیاگیا ہے کہ ماکان محمد أبا أحدٍ من رجالکم، ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (33: 40) یعنی محمد تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اِس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں— رسول اللہ، اور خاتم النبیین۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ دوسرے تمام رسولوں کی مانند تھے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے لا نفرّق بین أحدٍ من رُسُلہ (2: 285)یعنی رسول ہونے کے اعتبار سے، ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن مذکورہ آیت کے مطابق، اِس کے سوا آپ کی ایک اور حیثیت ہے، اور وہ یہ کہ آپ رسول ہونے کے علاوہ خاتم النبیین ہیں، یعنی سلسلۂ نبوت کے آخری پیغمبر۔ آپ کا خاتم النبیین ہونا دراصل آپ کی ایک مزید (additional) صفت کو بتاتا ہے، یعنی آپ کی آمد کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قرآنی آیت میں ’خاتم‘ کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے ’خاتَم‘ اور ’خاتِم‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے، یعنی آپ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اِس فیصلے کو غیر مشتبہ بنانے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ کیا کہ آپ کی کوئی اولادِ نرینہ (male offspring)نہیں۔ ورنہ یہ امکان تھا کہ لوگ آپ کے بیٹے کو پیغمبر کا درجہ دے دیں۔
نبیوں کا خاتم ہونا صرف فہرست کی تکمیل کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ اُس ضرورت کے ختم ہوجانے کا معاملہ تھا جس کی بناپر پچھلی تاریخ میں بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ نئے پیغمبر کو بھیجنے کی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب کہ خدا کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہے ۔ جیسا کہ قرآن میںارشاد ہوا ہے لیحکم بین النّاس فیما اختلفوا فیہ (2: 213)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین مکمل طورپر محفوظ ہوگیا، اِس لیے بطور حقیقت اِس کی ضرورت باقی نہ رہی کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی آئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئی چیزیں ایسی ملتی ہیں جو دوسرے پیغمبروںکے یہاں موجود نہیں۔ مثلاً سیاسی غلبہ۔ اِس قسم کی چیزیں تکمیلِ نبوت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وہ ختمِ نبوت کے لازمی تقاضے کے طورپر ہیں۔ اگر یہ مزید چیزیں آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہوجائے۔ حالاں کہ منصوبۂ الٰہی کے مطابق، ایسا ہونا ضروری تھا۔
اصل یہ ہے کہ پیغمبر کے آنے کا مقصد صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ شخصی طورپر اپنے زمانے کے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا دے، بلکہ اِسی کے ساتھ پیغمبر کے آنے کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے، وہ ہدایتِ ربّانی کے معاملے کو خود تاریخی عمل (historical process) میںشامل کردے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد یہ سب کچھ بہ تمام وکمال پیش آگیا، اِس لیے اب نبیوں کی آمد کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ تمام اضافی پہلو قرآن میں بتا دیے گیے ہیں۔
مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ (8: 39) یعنی تم اُن سے قتال (جنگ) کرو، یہاںتک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم بادشاہی زمانے میں لمبی مدت سے دنیا میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ اِس قسم کا نظام نہ اچانک قائم ہوتااور نہ وہ اچانک ختم ہوتا۔ اِس قرآنی حکم کا مدّعا یہ تھا کہ تاریخِ بشری میں ایک ایسا عمل (process) جاری ہوجائے، جس کے نتیجے میںایساہو کہ مذہبی جبر مکمل طورپر ختم ہوجائے اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کی حالت مکمل طورپر قائم ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذہبی آزادی (religious freedom)کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ وہ براہِ راست خدا کے تخلیقی پلان(creation plan) سے جُڑا ہوا معاملہ ہے۔ خدا نے انسان کو امتحان (test) کے مقصد کے تحت اِس دنیا میں رکھا ہے۔ اِس مقصد کے تحت، دنیا میں آزادی کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ اِسی حکمت کی بنا پر پیغمبر اسلام کو استیصالِ فتنہ کا حکم دیاگیا اوراس کے مطابق، آپ کے لیے اسباب فراہم کیے گیے۔ چناں چہ آپ نے اِس کام کو انجام دیا، یہاں تک کہ انسانی تاریخ میںمذہبی آزادی (religious freedom)کا دور کامل طورپر آگیا۔
دعوت اور حجت
خدا کی ہدایت کے دو پہلو ہیں— دعوت اور حجت۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ ہدایت الٰہی کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر بتانا۔ خدا کا صحیح تعارف، خدا کے تخلیقی نقشے کا اعلان، جنت اور جہنم کے معاملے سے انسان کو با خبر کرنا، وغیرہ۔ انھیں حقیقتوں کی وضاحت کا نام دعوت ہے۔
دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میںکیا۔ نُکاتِ دعوت کے اعتبار سے، ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ ایسا ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا دعوتی کلام اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دعوتی ذخیرہ (قرآن اور حدیث) مکمل طورپر اپنی اصل زبان میں محفوظ ہوگیا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیاکہ بعد کی نسلیں بھی آپ کے دعوتی پیغام سے اُسی طرح باخبر ہوسکیں،جس طرح آپ کے ہم زمانہ لوگ باخبر ہوئے تھے۔
جہاں تک حجت کا سوال ہے، اُس کے دو درجے ہیں—روایتی استدلال اور علمی استدلال۔ استدلال ہمیشہ معلوم اشیا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی معلومات کا دائرہ روایتی اشیا تک محدود تھا، اِس لیے قدیم زمانے میں ہمیشہ روایتی استدلال پر اکتفا کیاگیا۔ مثلاً حضرت یوسف خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ 1910 تا1800 قبل مسیح تبایاگیا ہے۔ انھوںنے قدیم مصر میں توحید کی دعوت دی۔ اُس وقت انھوںنے فرمایا اے میرے جیل کے ساتھیو، کیا جُدا جُدا کئی معبود بہتر ہیں، یا اللہ اکیلا زبردست (12: 39) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ روایتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ مگر یہاں ایک اور استدلال موجود تھا، اور وہ تھا علمی استدلال (scientific reasoning) ۔ یہ استدلال وہ تھا جو خدا کی پیدا کردہ نیچر (فطرت) میں موجود تھا، مگر یہ استدلال قدیم زمانے میں صرف امکان کے درجے میںتھا، وہ ابھی تک واقعہ نہیں بنا تھا۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے جو انقلاب پیش آیا، اس نے تاریخ میںایک نیا پراسس جاری کیا۔ اِس کے نتیجے میں ایساہوا کہ یہ امکانی استدلال واقعہ بن کر سامنے آگیا۔
فطرت کی تسخیر
نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیا ئے مخلوقات ہوتی ہے
Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe.
یہ نیچر ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن قدیم زمانے میں انسان شرک میںمبتلا ہوگیا۔ شرک دراصل مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ چوںکہ انسان نیچر کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اِس لیے وہ اس کو تحقیق وتفتیش (exploration) کی نظر سے نہ دیکھ سکا۔ اِس طرح، شرک ایک مستقل ذہنی رکاوٹ (mental block) بن گیا۔ علمی دلائل جن کو قرآن میںآیات (نشانیاں) کہاگیا ہے، وہ عالم فطرت میں موجود تھیں، مگر وہ ظاہر ہو کر سامنے نہ آسکیں۔
قرآن میںپیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا وقاتلوہم حتّی لا تکون فتنۃ، ویکون الدّین کلُّہ للہ(8: 39) ۔مفسرین کے مطابق، اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد شرک ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو حکم دیاگیا کہ شرک کو ختم کرو، خواہ اربابِ شرک کی جارحیت کی بنا پر اُن کے مقابلے میںجنگ کرنا پڑے، چناںچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اوراصحابِ پیغمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شرک کا سیاسی اور اجتماعی غلبہ دنیا سے ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کے بعد دنیا میںیک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک لفظ میں اس کو فطرت کی پرستش کے بجائے، فطرت کی تسخیر کا عمل کہاجاسکتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ فطرت (نیچر) میں چھپے ہوئے دلائل سامنے آگئے۔ یہ تاریخی عمل اسلام کے ابتدائی زمانے میں شروع ہوا اور یورپ کی نشأۃِ ثانیہ کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ خدائی حقیقتوں کو روایتی دلائل کے بجائے سائنسی دلائل کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جاسکے۔ چند مثالوں سے اِس کی وضاحت ہوتی ہے
1 - خدا کے وجود پر قرآن میںایک دلیل یہ دی گئی تھی کہ أفی اللہ شکّ، فاطر السموات والأرض (14: 10) یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ قرآن کی اِس آیت میںلفظ فاطر (پھاڑنے والا) خدا کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔ کیوں کہ پھاڑنا ایک بالقصد مداخلت (intervention) کا عمل ہے۔ اور بالقصد مداخلت کاعمل ایک مداخلت کار(intervener) کا ثبوت ہے۔ اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہوجائے تو اپنے آپ خدا کا وجود (existence of God) ثابت ہوجاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میںخدا کے وجود (existence of God)کا ایک علمی ثبوت موجود ہے، لیکن اِس علمی ثبوت کی وضاحت صرف دورِ سائنس کے بعد ہوئی۔بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں سائنس دانوں نے اُس کائناتی واقعے کو دریافت کیا، جس کو بگ بینگ (Big Bang) کہاجاتاہے۔ بگ بینگ کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہوگیاکہ مذکورہ قرآنی آیت میں چھپے ہوئے سائنسی دلائل کو سمجھا جائے اور اس کو استعمال کیاجائے۔
2 - قرآن کی سورہ الجاثیہ میں خدا کی ایک نعمت کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیا ہے اللہ الذي سخّر لکم البحر لتجري الفلک فیہ بأمرہ (45: 12)یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کردیا، تاکہ اُس کے حکم سے سمندر میں کشتیاں چلیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے کا انسان اس معاملے کو صرف ایک پُراسرار عقیدے کے طورپر لیتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس کی توجیہہ، ایک معلوم فطری قانون کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک جدید سائنس ظہور میں آئی ہے، جس کو علمِ سکونِ سیّالات (science of hydrostatics) کہاجاتا ہے۔ اِس کے مطابق، پانی یا سیّال چیزیں ایک خاص قانون کے تابع ہیں۔ اور وہ تخفیفِ وزن (buoyancy) یا ٹھوس اَجسام کو پانی میں ڈالنے سے اس کو بہ حال رکھنے یا ابھارنے کی صلاحیت ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
(Buoyancy) The upward pressure by any fluid on a body, partly or wholly, immersed therein, it is equal to the weight of the fluid displaced.
اِس جدید سائنس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کی مذکورہ آیت کو خالص علمِ انسانی کی بنیاد پر سمجھا جاسکے۔ اور خدا کے اِس عظیم احسان پر یقین کیا جائے کہ اُس نے سمندر کو ایک محکم قانون کا پابند بنادیا۔ اِس بنا پر یہ ممکن ہوگیا کہ وسیع سمندروں کی سطح پر انسان کشتی اور جہاز کے ذریعے سفر کرسکے اور وہ دور دراز منزل تک بہ آسانی پہنچ جائے۔
3 - خدا کی ایک نعمت کا ذکر قرآن کی سورہ ق میںاِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ونزّلنا من السماء ماء ً مبارکاً (50: 9) یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اِس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں بارش کا حوالہ دیاگیا ہے۔ بارش کیا ہے۔ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتاہے۔ ایسا اِس لیے ہے کیوںکہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظی مادّہ (preservative) کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اِس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ اِزالۂ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کوشیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اِس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابلِ استعمال ہی نہ ہوتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کولریج (Coleridge) ایک برٹش شاعرہے۔ اس کی وفات 1834 میں ہوئی۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میںاس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے۔ ایک مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اِس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس کے آس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اِس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ— ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں
Water everywhere, nor a drop to drink.
قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پانی کو مبارک (purified) بنا کر آسمان سے اُتارا۔ یہ بلاشبہہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ قدیم زمانے میں یہ معاملہ ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اس کو ایک عظیم قابلِ شکر حقیقت بنا دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اتفاق سے اُسی دن پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کا کم عمری میں انتقال ہوگیا تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ — پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا، اِس لیے آج یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے (کشفت الشمس لموت إبراہیم)۔ لوگوں کا ایسا کہنا قدیم زمانے کے رواج کی بنا پر تھا۔ کیوں کہ اُس زمانے میں لوگ اِسی قسم کے واقعات کو گرہن کا سبب سمجھتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو وہاں کی مسجدمیں اکھٹا کیا اور انھیں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا إنّ الشّمس والقمر لایخسفان لموت أحدٍ ولا لحیاتہ، ولٰکنّہما اٰیتان من اٰیات اللہ، فإذا رأیتموہما فصلّوا وادعوا اللہ حتّی یُکشف ما بکم (صحیح البخاري، کتاب الکسوف) یعنی کسی کے مرنے اور کسی کے جینے سے چاند اور سورج میں گرہن واقع نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدائی نشانیوں میں سے دو نشانی ہیں۔ پس جب تم اُن کو دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں سورج گرہن اور چاند گرہن (solar eclipse & lunar eclipse) کو نشانی (signs) کہاگیا ہے۔ قدیم زمانے کے مخاطبین اپنے روایتی فریم ورک کے اعتبار سے اتنا ہی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں کا فریم ورک سائنٹفک فریم ورک بن چکا ہے۔ اب آج کا انسان اِس قابل ہوگیا ہے کہ وہ خالص علمی معنوں میں اِس حقیقت کو سمجھ سکے۔ اور اِس طرح زیادہ گہرائی کے ساتھ وہ معرفت کا رزق حاصل کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں جدید فلکیات کے تحت مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین اور سورج اور چاند تین انتہائی مختلف سائز کے متحرک اَجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں اُن کو ایک ناقابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک خاص پوزیشن کے تحت ایک سیدھ میںلایا جاتا ہے، اِسی خاص پوزیشننگ کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے
Eclipse is a result of unimaginably well-calculated aligning of three different moving bodies in the vast sapce.
دعوت کا نیا دور
سیرت کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اُس میں میں نے ایک حدیث نقل کرتے ہوئے لکھا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو ’العصابۃ‘ سے تعبیر کیا تھا۔ میںنے لکھا تھا کہ یہ العصابۃ کوئی سادہ گروہ نہ تھا، بلکہ یہ وہ گروہ تھا، جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اِس طرح اُس کے افراد اِس قابل ہوئے کہ تاریخ میںوہ ایک عظیم انقلابی دورکا آغاز کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصحابِ رسول نے نبوت محمدی کے اظہارِ اوّل کے لیے کام کیا تھا۔ اب نبوتِ محمدی کے اظہارِ ثانی کا زمانہ ہے۔ اِس دوسرے رول کے لیے آج پھر ایک العصابہ درکار ہے۔ اِسی دوسرے العصابہ کو حدیث میں ’اخوان رسول‘ کہاگیا ہے۔ یہ دوسرا العصابہ وہ ہوگا، جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ میں نے اپنے دوسرے مضامین میں واضح کیا ہے، پہلے دورِ تاریخ کا آغاز ہاجرہ اُمِّ اسماعیل نے چار ہزار سال پہلے کیا تھا۔ اِس تاریخی عمل کی تکمیل میں ڈھائی ہزار سال لگے۔ اِس کے بعد اِس تاریخی نسل میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔اِسی تاریخی نسل سے اصحابِ رسول نکلے، جنھوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر پہلے دور کا کارنامہ انجام دیا۔
اصحابِ رسول نے جس دورِ تاریخ کا آغاز کیا تھا، تقریباً ڈیڑھ ہزار سال میں وہ اپنے نقطۂ کمال پر پہنچ چکا ہے۔ اب دوبارہ اِس نئی نسل سے ایک فرد اٹھے گا، جس کو حدیث میں ’المہدی‘ کا نام دیاگیا ہے۔ اِس فرد کا ساتھ دینے کے لیے بہت سے اللہ کے بندے اٹھیں گے، غالباً اِنھیں افراد کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ کہاگیا ہے۔ یہ گروہ نئے حالات میں اپنی غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے نبوت محمدی کا دوبارہ اظہار کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نبوتِ محمدی کا یہ اظہارِ ثانی، تاریخ انسانی کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ اِس کے بعد موجودہ عارضی دنیا کو بدل کر نئی ابدی دنیا بنائی جائے گی، تاکہ اہلِ حق کو خدا کا ابدی انعام دیا جائے، اور اہلِ باطل کو ابدی طور پر رُسوائی کے عذاب میں ڈال دیا جائے۔