غذا انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے، لیکن متوازن غذا (balanced diet) کا نام صحیح غذا ہے۔ متوازن غذا وہ ہے جس میں حسب ذیل اجزا شامل ہوں— کاربو ہائڈریٹ، پروٹین، فَیٹ، وٹامن، منرل سالٹ، فائبر:
A balanced diet is one which contains carbohydrate, protein, fat, vitamins, mineral salts and fibre in the correct proportions.
اگر آپ غذا کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیںاور اُس سے متوازن غذا کا علم حاصل کرکے اپنی فہرستِ طعام (menu) بنائیںاور اس کے مطابق کھانا کھائیں، تو یہ علم کی بنیاد پر غذا کی دریافت ہوگی۔ لیکن جب آپ بھوک سے تڑپ رہے ہوں اور اِس حالت میں کھانا کھا کر غذا کی اہمیت کو جانیں، تو یہ حساسیت (sensitiveness) کی سطح پر غذا کی اہمیت کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔
دونوں صورتوں میںانسان، کھانے کی چیز کو اپنی خوراک بناتا ہے، لیکن دونوں میںاتنا زیادہ فرق ہے کہ پہلی صورت کا مطلب اگر کھانے سے صرف پیٹ بھرنا ہے، تو دوسری صورت کا مطلب کھانے سے معرفتِ خداوندی کا تجربہ حاصل کرنا۔
سچا روزہ، آدمی کو یہی ربانی نعمت عطا کرتاہے سچے روزہ کے ذریعے آدمی، رازقِ حقیقی کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ سچاروزہ کسی آدمی کے لیے غذا کو اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنادیتا ہے۔ عام حالت میں خوراک صرف مادّی خوراک ہے، لیکن روزہ اِس خوراک کو ایک سچے مومن کے لیے کامل معنوں میں ایک روحانی خوراک بنادیتا ہے، ایک ایسی خوراک جو اُس کے لیے رازقِ حقیقی کی دریافت کے ہم معنیٰ بن جائے، جو اُس کو سچائی کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کردے۔
جو آدمی حساسیت کی سطح پر غذا کی اہمیت کو در یافت کرے، اُسی کا روزہ روزہ ہے۔ اِس کے بغیر روزہ ایک حیوانی عمل ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں انسانی عمل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.