Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala october 2008
Al-Risala october 2008

روزہ کو چھوڑنا

Urdu · 2 min read

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن أفطر یوماً من رمضان من غیر رُخصۃٍ ولا مَرَضٍ، لم یقضِ عنہ صومُ الدّہر کُلّہ وإن صامہ (التّرمذی،کتاب الصوم، باب الإفطار متعمّداً) یعنی جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کردے، جب کہ اُس کے لیے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو، تو اس کے بعد خواہ وہ ساری عمر روزے رکھے، وہ اس کے لیے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیںہوسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اُس کا حکم دیا ہے۔ ایسی حالت میں رمضان کے کسی ایک روزے کو بھی قصداً چھوڑنااپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی اگر ساری عمر روزہ رکھے، تو وہ اس کے اپنے فیصلے کے تحت ہوگا، نہ کہ براہِ راست حکمِ خداوندی کی تعمیل میں۔ اور بلاشبہہ کوئی بھی دوسرا عمل، خدا کے حکم کی قصداً خلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا۔

اِس دنیا میں پانی کا جو ذخیرہ ہے، اس کی ایک ایک بوند کا مالک خداہے۔ اِس دنیا میں مختلف قسم کی جو غذائیں ہیں، ان کا غیر مشترک مالک بھی صرف ایک خدا ہے۔ اِس قسم کی تمام چیزیں جو دنیا میں موجود ہیں، ان کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اور یہ بھی خدا وند ِ ذوالجلال ہی ہے جو یہ تمام چیزیں انسان کو عطا کرتا ہے۔

ایسی حالت میں جب خدا خودیہ حکم دے کہ فلاں مہینے کے دنوں میں تم میرا پانی اور میری پیداکی ہوئی غذائیں استعمال نہیں کروگے، تو یہ انسان کی انسانیت کے سر تا سر خلاف ہے کہ وہ رزق کے خالق و مالک کی ممانعت کے باوجود اس کے دیے ہوئے رزق کا ایک دانہ بھی استعمال کرے۔ حکمِ خداوندی کی ایسی خلاف ورزی کے بعد انسان اپنے آپ کو اِس دنیا میں بے جگہ بنالیتا ہے۔ اِس کے بعد وہ انسان کی سطح سے گر کر غیر انسان کی سطح پر آجاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content