روزہ ایک سچے انسان کے لیے ایک قسم کی یاد دہانی (reminder) ہے، اِس بات کی یاددہانی کہ— تم خدا کی دنیا میں ہو۔ تم ایک ایسی دنیا میں ہو جس کو خدا نے بنایا ہے۔ اِس دنیا کے مالک تم نہیںہو، بلکہ خدا اُس کا مالک ہے۔ یہاں تم اپنی مرضی کے ساتھ نہیں رہ سکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں کھاسکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں پی سکتے، یہاںتم اپنی مرضی سے نہیں بول سکتے، یہاں تم کو خدا کی مرضی کے مطابق رہنا ہے، نہ کہ خود اپنی مرضی کے مطابق،
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس قسم کی روزہ دارانہ زندگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان، خدا کو معرفت (realization) کے درجے میں پائے۔ وہ اِس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا کی اِس دنیا میں بے قید زندگی گزارنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خدا کی اِس دنیا میں کامیابی کا راز پابند زندگی میںہے، نہ کہ بے قید زندگی میں۔
رمضان کا مہینہ در حقیقت تزکیۂ نفس (purification of soul)کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینے کا یہ تقاضا ہے کہ آدمی اپنی زندگی پر پھر سے غور(reassessment) کرے، وہ اپنے معاملات کا ازسرِ نو جائزہ لے، وہ اپنی دینی اور دعوتی زندگی کی ازسرِ نو منصوبہ بندی (replanning) کرے، وہ اپنے دل ودماغ کی پھر سے تطہیر کرے، وہ اپنے اندر ایک نئی شخصیت کی تعمیر کرے، وہ دینی اور روحانی اعتبار سے، پورے معنوں میں، اپنا اوور ہال(overhaul) کرے۔
یہی تزکیۂ نفس ہے اور یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔ جو شخص اِس طرح رمضان کے شب و روز گزارے، وہی وہ شخص ہے جس نے رمضان کے مہینے کو پایا۔ اُسی شخص کا روزہ حقیقی روزہ ہے جو اِس معنیٰ میںاُس کے لیے تزکیۂ نفس کا ذریعہ بن جائے۔تزکیۂ نفس مومن کے لیے ایک مستقل عمل ہے۔ وہ مومن کی زندگی میں روزانہ جاری رہتا ہے۔ لیکن رمضان کے مہینے میں مزید شدت کے ساتھ تزکیۂ نفس کے اِس عمل کو انجام دینا ممکن ہوجاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.