Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala october 2008
Al-Risala october 2008

روزہ کی عظمت

Urdu · 4 min read

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: کل عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃ بعشر أمثالھا إلی سبع مأۃ ضعف، قال اﷲ تعالیٰ: إلا الصوم، فإنہ لی وأنا أجزی بہ، یدع شہوتہ وطعامہ من أجلی، للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرہ، و فرحۃ عند لقاء ربہ، و لخُلوف فم الصائم أطیب عند اﷲ من ریح المسک، والصیام جُنۃ، و إذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفُث و لایصخَب، فإن سابّہ أحد أو قاتلہ فلیقل: إنی امرؤ صائم (صحیح مسلم، کتاب الصّیام، باب: فضل الصیام)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطارکے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بد گوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لئے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے (البقرۃ: 185)۔ اس کے مطابق، نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے ذریعہ اپنے آپ کو تیار کریں کہ وہ قرآن کے حامل اور مبلغ بن سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو اپنی ذات کے لئے جینے والے نہ ہوں، بلکہ وہ تمام تر اللہ کے لیے جینے والے ہوں۔ جن میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ ایک ربانی مشن کے لئے اپنی خواہشات پرر وک لگادیں۔ جو پر رونق زندگی کے بجائے خشک زندگی پر راضی ہوجائیں۔ جن کے اندر یہ برداشت ہو کہ وہ لوگوں کی منفی باتوں کا بھی مثبت جواب دے سکیں۔ جو شعوری اعتبار سے اتنا بلند ہوں کہ لوگوں کی مخالفتیں ان کو قرآنی مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

قرآن کے پیغام ہدایت کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچانا خالص اللہ کا کام ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کو صرف اپنا کام قرار دیا اور اس پر خصوصی انعام کا اعلان فرمایا۔

جو لوگ قرآن کا علم حاصل کریں، وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کریں، وہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بنانے میں اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالیں ، جو یک طرفہ طورپر اس ذمہ داری کو قبول کریں کہ انھیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا ہے، تا کہ اللہ کا پیغام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکے، حتی کہ اس مقصد کے لیے وہ بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے لیے راضی ہو جائیںـــایسے لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں، وہ اس کے مستحق ہیں کہ اللہ اُن پر اپنی خصوصی نوازشوں کی بارش کرے۔

روزے دار کا اللہ کے لیے اپنی خواہشوں کو چھوڑنا یہ ہے کہ وہ ذاتی کامیابی کے بجائے اللہ کے دعوتی مشن کو اپنا مقصد بنائے۔ وہ خدا کی کتاب کے نزول کے مہینہ میں خصوصی تربیتی کورس کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرے کہ وہ خدا کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچائے گا۔ وہ قرآن کی دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے گا، نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کو۔ اس کی زندگی کا مرکز و محور قرآن ہوگا اور صرف قرآن۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content