Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2022
Al-Risala November 2022

گناہ خدا سے قربت کا ذریعہ

Urdu · 2 min read

گناہ کے حوالے سے ایک پرامید حدیثِ رسول یہ ہے:اللہ ایک بندہ کو اس کے گناہ سے بھی فائدہ پہنچاتا ہے، جس گناہ کا ارتکاب وہ کرگزرتا ہے(إِنَّ اللہَ لَیَنْفَعُ ‌الْعَبْدَ بِالذَّنْبِ یُذْنِبُہُ) مسند الشہاب ، حدیث نمبر 1095۔ گناہ سے انسا ن کیسے خدا سے قریب ہو سکتا ہے۔اصل یہ ہے کہ گناہ اپنے آپ میں غلط عمل ہے، مگر وہ آپ کو نیکی کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ یعنی غلطی کا ارتکاب ہونے پرآپ سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ ندامت کا احساس کرکے خدا کے آگے جھک جائیں۔ یہی عمل توبہ کہلاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

واقعہ یہ ہے کہ کبھی روٹین میں کیا جانے والا نیک عمل انسان کو خدا سے قریب نہیں کرپاتا ہے۔ لیکن ایک گناہ انسان کو خدا سے بہت زیادہ قریب کردیتا ہے۔ بشرطیکہ انسان کو اپنے گناہ پر شرمندگی کا احساس ہو، اور وہ سنجیدگی کے ساتھ توبہ و استغفار کا طریقہ اختیار کرے۔گویا گناہ آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ خدا سے قریب ہوجائیں۔ احساسِ گناہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ یہ آپ کی شخصیت میں تبدیلی کا دروازہ ہے۔ وہ خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔ آپ کی شخصیت جو گناہ سے پہلے عام شخصیت تھی، وہ گناہ کے بعد ایک ربانی شخصیت میں بدل سکتی ہے۔

احساسِ گناہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ احساسِ کمتری (inferiority complex) کا شکار ہو کریہ سمجھ لیں کہ میں کوئی نیک عمل نہیںکرسکتا۔ ہر وقت مجھ سے گناہ اور غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ پھر اس کے بعدآپ ناامیدی کا شکار ہو کر دھیرے دھیرے ڈپریشن کا شکار ہوجائیں۔یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کی تعلیم ہے توبہ یعنی رپنٹنس (repentance) پھر نئی انرجی کے ساتھ نیک عمل۔

رسول اللہ اہل ایمان کو توبہ و استغفار پربہت زیادہ ابھارا کرتے تھے۔ایک صحابی حبیب بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ!مجھ سے گناہ ہوتے رہتے ہیں۔ آپ نے کہا:توبہ کرلیا کرو۔اس نے کہا: اے اللہ کے رسول، میں توبہ کروں گا، لیکن دوبارہ میں گناہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا، جب جب گناہ کرو توبہ کرلو۔ اس نے کہا: تب میرے گناہ بہت زیادہ ہوجائیں گے۔ رسول اللہ نے کہا: اللہ کی معافی تیرے گناہوں سے بہت وسیع ہے (عَفْوُ اللہِ أَکْثَرُ مِنْ ذُنُوبِک) المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر 4854۔ (مولانا فرہاد احمد)

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content