← Al-Risala November 2022Al-Risala November 2022
مطالعۂ حدیث
Urdu · 20 min read
شرح مشکاۃ المصابیح
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ اس کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور وہ زکاة ادا کریں۔ پھر جب وہ ایسا کریں تو وہ اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچالیں گے، سوااسلامی حق کے، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ (متفق علیہ:صحیح البخاری، حدیث نمبر25، صحیح مسلم، حدیث نمبر22)
quoted sourceQuoted from another author or source
اس حدیث میں وہی بات بتائی گئی ہے، جو سورہ التوبہ کی ابتدائی آیتوں میں بیان کی گئی ہے۔اس حدیث میں لوگوں (الناس) سے مراد قدیم عرب کے وہ مشرکین ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر تھے۔ ان کے اوپر براہِ راست پیغمبر کے ذریعہ اتمام حجت کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ لوگ دشمنی پر اڑے ہوئے تھے۔ اس لیے قانونِ الٰہی کے مطابق، ان کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا — وہ یا تو اسلام قبول کریں یا قتال کے لیےتیار ہو جائیں۔ مگر ابتدائی مخالفت کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا، اس لیے ان پر مذکورہ قانونِ الٰہی کے نفاذ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام کی معاصر قوم کے سوا دوسری قوموں کے لیے ایسا قانون نہیں۔ دوسری قوموں کے لیے صرف پر امن دعوت ہے اور بس۔ پیغمبر کے بعد اب کسی بھی قوم سے اس قسم کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے۔ اور ہمارے ذبیحہ کو کھائے تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ تو تم اس کے ذمہ کو نہ توڑو (صحیح البخاری، حدیث نمبر391)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث میں ذمہ سے مراد وہ امن یا امان ہے جو ایک مسلم معاشرہ میں کسی کو دیا جاتا ہے۔ ایک شخص اگر مسلمان ہونے کا دعوی کرے اور اسلام کے ظاہری احکام پر عمل کرے تو اس کو مسلم معاشرہ کے ایک فرد کی حیثیت سے قبول کرلیا جائے گا۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اس کی مخفی نیت کی بنیاد پر اس کے خلاف کوئی حکم لگائے اور نہ کسی کو یہ حق ہوگا کہ وہ کسی شخص کو بطور مسلمان قبول کرنے کے لیے مذکورہ شرطوں کے سوا کسی اور عملی شرط کا مطالبہ کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا۔ اس نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں چلا جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تم فرض نماز کو قائم کرو اور فرض زکاة ادا کرو۔ اور تم رمضان کے روزے رکھو۔ اعرابی نےکہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں ان پر نہ کسی چیز کو بڑھاؤں گا اور نہ کسی چیز کو گھٹاؤں گا۔ جب وہ واپس ہونے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی ایک جنتی انسان کو دیکھنے کی خوشی حاصل کرنا چاہے وہ اس اعرابی کو دیکھ لے۔(متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر1397، صحیح مسلم، حدیث نمبر14)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس حدیث میں جو اعمال بتائے گئے ہیں وہ اسلام کے بنیادی اعمال ہیں۔ یہ اعمال جس آدمی کے وجود میں حقیقی طورپر شامل ہوجائیں وہ اس کی پوری زندگی میں سما جائیں گے، وہ اس کی پوری شخصیت کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بتاتےہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ پھرمیں اس کے بارے میں کسی اور سے نہ پوچھوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر تم اس پر جم جاؤ (صحیح مسلم، حدیث نمبر38)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اللہ پر ایمان لانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ میں نے شعوری فیصلہ کے تحت اللہ کو اپنا رب ومعبود بنا لیا۔ اس قسم کا شعوری فیصلہ پورے معنوں میں آدمی کے فکر وعمل کے لیے ایک کامل رہنما بن جاتاہے۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر آدمی سے تقاضا کرتاہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ ایسے تمام مواقع پر اپنے فیصلہ کے اوپر پوری طرح قائم رہنا، اسی کا نام مذکورہ حدیث میں استقامت ہے۔ اور جنت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو ایمان کے بعد عملی استقامت کا ثبوت دیں۔
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجد کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ (وہ دور تھا) اس لیےہم اس کی دھیمی آواز سن رہے تھے۔ مگر یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگیا۔ تو وہ اسلام کے بارےمیں پوچھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں دن میں اور رات میں۔ اس نے کہا کہ کیا میرے اوپر ان کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، الا یہ کہ تم نفل نماز پڑھو۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا کہ کیا میرےاوپر اس کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں، إلا یہ کہ تم نفل روزے رکھو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاة کے بارے میں کہا۔ اس نے کہا کہ کیامیرے اوپر اس کے سوا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں،إلا یہ کہ تم نفل صدقہ کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ آدمی لوٹا اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں اس پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ اس پر کمی کرونگا۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آدمی کامیاب ہوگا، اگر اس نے سچ کہا۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر46،صحیح مسلم، حدیث نمبر11)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسلام میں متعین کچھ عبادتی فرائض ہیں۔ آدمی اگر سچا عبادت گزاربن جائے تو وہ فرض کے سوا زائد عبادت بھی کرنے لگتا ہے جس کو شریعت میں نفل کہاگیا ہے۔ اسی طرح جب آدمی کی زندگی میں عبادت کی روح پوری طرح پیدا ہوجائے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طورپر ایسا ہوتاہے کہ اخلاق ومعاملات میں بھی اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ خدا کی نسبت سے وہ عابد بن جاتاہے، اور بندوں کی نسبت سے عادل۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبد القیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کون لوگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ (ہم )ربیعہ( قبیلہ سے ہیں)۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اچھے آئے کہ نہ رسوا ہوئے اور نہ شرمندہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ کے پاس صرف حرام مہینے میں ہی آسکتے ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان (مخالف) قبیلہ مضر آباد ہے۔ پس آپ ہمیںکچھ بنیادی رہنمائی کردیں جس سے ہم ان لوگوں کو باخبر کردیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ اور اس کے ذریعہ ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ انہوں نے آپ سے مشروبات کے بارے میں پوچھا ۔ آپ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ آپ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم جانتےہو کہ ایک اللہ پر ایمان رکھنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتےہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکاة ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور آپ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا (الحنتم) سے اور توبنی (الدباء) سے اور نقیر سے اور تارکول والے پیالے (المزفت) سے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اورتمہارے پیچھے جو لوگ ہیں ان کو بتادو (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر53،صحیح مسلم، حدیث نمبر17)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مدینہ میں جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو بااقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تو آپ نے مختلف عرب قبائل کے پاس تبلیغی وفود بھیجنا شروع کیا۔ اس کے بعدیہ ہوا کہ عرب قبائل مدینہ آکر آپ کی اطاعت قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ عرب کے تمام قبائل مدینہ کی ریاست کی ماتحتی میں آگئے۔ اس حدیث میں ایک اصول یہ ملتا ہے کہ ایسے حالات میں جب کہ آدمی کے سامنے دو میں سے ایک کا انتخاب ہو — وہ یا تو اپنی مرضی سے ماتحتی قبول کرلے ورنہ اُس کو رسوائی اور شرمندگی کے ساتھ ماتحتی کو قبول کرنا ہوگا۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ باعزت صلح کو اختیار کرلیا جائے اور بےنتیجہ جنگ کا طریقہ چھوڑ دیاجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نوٹ حدیث میںقدیم عرب کے چار برتنوں کا ذکر ہے جو شراب بنانے اور پینے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ "حنتم "شراب کی ٹھلیا۔ "دُباء" اندر سے کھوکھلا کیا ہوا کدو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔" نقیر" درخت کی جڑ کواندر سے کھوکھلا کر کے اس میں شراب رکھتے تھے۔ "مزفت" تارکول سے بنا ہوا شراب کا برتن— رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے حرام پر روک لگانے کے ساتھ اسباب حرام پر بھی روک لگا دی۔
عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا— اس وقت صحابہ کی ایک جماعت آپ کے پاس تھی— مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے۔ اور تم چوری نہ کروگے اور تم زنا نہیں کروگے اور تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے اور تم کسی پر جھوٹا بہتان نہ لگاؤگے اور تم معروف میں نافرمانی نہ کروگے۔ پھر تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرےتو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے کوئی شخص ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرلے اور وہ دنیا میں سزا پالے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔اور کوئی شخص ان میں سے کسی گناہ میں مبتلا ہوجائے، پھر اللہ اس کی پردہ پوشی کرے تو اس کا معاملہ اللہ کے اوپر ہے، چاہے وہ اس کو معاف کرے یا وہ اس کو سزا دے۔ پھر ہم نے آپ سے اس پر بیعت کی۔(متفق علیہ:صحیح البخاری، حدیث نمبر18، صحیح مسلم، حدیث نمبر41)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسلام میں جن چیزوں سے منع کیاگیا ہے ان سے اپنے آپ کو دور رکھنا لازمی طورپر ضروری ہے۔ اگر کبھی کوئی شخص نفس سے مغلوب ہوکر وقتی طورپر گناہ میں مبتلا ہوجائے تو اس کو فوراً توبہ کرنا چاہیے۔ ایسے آدمی کو کبھی دنیا ہی میں کوئی تکلیف دے کر اس کے گناہ کو دھودیاجاتا ہےاور کبھی اس پر پردہ ڈال دیاجاتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ اللہ کےاوپر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندے سے آخرت میں کس طرح کا معاملہ فرمائے۔ یہ وقتی طورپر گناہ میں مبتلا ہونے کا معاملہ ہے۔ گناہ میں مستقل طورپر مبتلا رہنا اور توبہ کے بغیر مرجانا قابل معافی نہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ انسان نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اسے سزاوار نہ تھا۔ اور اس نے مجھے گالی دی حالاں کہ یہ اس کے لیے سزاوار نہ تھا۔ پس اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ خدا مجھے دوبارہ نہ بنا سکے گا جس طرح اس نے مجھے پہلی بار بنایا۔ حالانکہ دوسری بار پیدا کرناپہلی بار پیداکرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ حالانکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں جس نے نہ جنا ور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4974)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جب کوئی شخص خدا کے وجود پر شبہ کرتا ہے یا وہ اس کی صفات کمال کا انکار کرتاہے تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک جھوٹ ہوتا ہے۔ خدا کے تخلیقی مظاہر خدا کے وجود کا یقینی ثبوت ہیں۔ اسی طرح کائنات کی معنویت خدا کی صفات کمال پر گواہی دیتی ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی خداکو نہ پائے، جو خدا کی تخلیق میں خدا کے جلووں کو نہ دیکھے وہ یا تو اندھا ہے یا وہ جان بوجھ کر سرکشی کررہا ہے۔
ایک اور روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالى عنہ کہتے ہیں کہ (اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ) انسان کا مجھ کو گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ کوئی میرا بیٹا ہے۔ حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کسی کو اپنی بیوی یا اپنا بیٹا بناؤں (صحیح البخاری، حدیث نمبر4482)۔
hadithQuotes a hadith
کسی انسان کے لیے یہ کہا جائے کہ اس کی ایک بیوی یا اس کا ایک بیٹا ہے تو یہ صرف ایک واقعہ کا اظہارہوگا۔ لیکن اس قسم کی بات خداوندِ عالم کے لیے سخت ترین بہتان ہے۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی کوئی بیوی یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ انسان ایک نامکمل مخلوق ہے۔ اس کو اپنی تکمیل کے لیے بیوی اور بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے مگر خدا اپنی ذات میں آخری حد تک ایک مکمل وجود ہے۔ ایک کامل اور مکمل خدا ہی موجودہ عظیم کائنات کو پیدا کرسکتا ہے۔
ایسی حالت میں کسی کو خدا کا بیٹا بتانا خدا کے رتبہ کو گھٹانا (degradation)ہے۔ اور اس قسم کا قول بلاشبہ بدترین قسم کا سب ّوشتم ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ انسان مجھ کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں ہے معاملہ، میں رات اور دن کو پلٹتا ہوں (متفق علیہ:صحیح البخاری، حدیث نمبر4826،صحیح مسلم، حدیث نمبر2246)
hadithQuotes a hadith
انسان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کو زمانہ کا نتیجہ سمجھ کر زمانہ کو برا بھلا کہنے لگتا ہے۔ مگر اس قسم کے کلمات زمانہ پر نہیں بلکہ خدا پر پڑتے ہیں کیوں کہ زمانہ کوئی آزاد اور بااختیار چیز نہیں۔ وہ خدا کے حکم کے تابع ہے۔ یہ دراصل خدا ہے جو اپنے فیصلہ کو احوال زمانہ کی صورت میں ظاہر کرتاہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر موقع پر خدا کی طرف رجوع کرے نہ کہ زمانہ کو ذمہ دار سمجھ کر شکایت کرے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف دہ بات کو سن کر اس پر صبر کرنے والا خدا سے زیادہ اور کوئی نہیں۔ لوگ خدا کی طرف بیٹے کی نسبت کرتے ہیں۔ مگر وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں رزق دیتا رہتا ہے(متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر2099، صحیح مسلم، حدیث نمبر2804)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان اگر کسی تکلیف دہ بات پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے۔ کیوں کہ انسان کا اختیار بہت محدود ہے۔ محدود اختیار کی بنا پر اس کے لیے یہ موقع نہیں کہ وہ کسی سے بھر پور انتقام لے سکے۔ لیکن خدا کامل اور لا محدود اختیار کا مالک ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی مرضی کے خلاف باتوں کو دیکھتا ہے اور اس پر صبر کرتا ہے۔ اس کا سبب خود خدا کا قائم کردہ قانونی امتحان ہے۔ خدا ہر ایک کو آزادی دے کر اس کا امتحان لےرہاہے۔ جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو، یہ آزادی بھی ختم ہونے والی نہیں۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کے پچھلے حصہ کی سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، کیا تم جانتےہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں کے اوپر کیا ہے۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر کیا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
میںنےکہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریںاور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو خوش خبری نہ دو ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرلیں گے۔(متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2856، صحیح مسلم، حدیث نمبر30)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نجات کا دارومدار ہر ایک کے لیے شرک کے انکار اور توحید کے اقرارپر ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف زبان سے کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ آدمی اندر سے لے کر باہر تک اور قول سے لے کر عمل تک ایک ربانی رنگ میں رنگ جاتاہے۔ یہ تبدیلی اتنی گہری ہوتی ہے کہ اگر اتفاقی سبب کے تحت وہ اپنے عقیدہ کے خلاف کوئی غلطی کر بیٹھے تو اس کی پوری شخصیت آخری حد تک تڑپ اٹھتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ غلطی اس کے لیے مزید اضافے کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس حدیث میں بھروسہ کرنے (فَیَتَّکِلُوا) کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ باتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھتے وہ اس کو صرف رسمی عقیدہ کے معنی میں لے لیں گے، اور کچھ الفاظ کو اپنی زبان سے دہرا کر یہ سمجھیں گے کہ انھوں نے آخرت میں اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنا لیاہے۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کجاوہ پر تھے اور معاذ بن جبل ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، انھوںنے کہا میں حاضر ہوں خدمت میں ۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، انھوں نے کہا میں حاضر ہوں خدمت میں۔ آپ نے تین بار اس طرح فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ ضرور آگ کو اس پر حرام کر دے گا۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول، کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ بھروسہ کرلیں گے۔ پھر معاذ نے اپنی موت کے وقت اس کی خبر دی، گناہ سے بچنے کے لیے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر128، صحیح مسلم، حدیث نمبر 32)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایک سچائی جب کسی آدمی کے دل ودماغ میں آخری حد تک اتر جائے، وہ اس کے یقین واعتماد کا لازمی حصہ بن جائے، اس وقت جو کلمۂ اعتراف آدمی کی زبان سے نکلتا ہے اسی کا نام گواہی (شہادت) ہے۔ جو آدمی اس طرح کمال درجہ میں خدا اور رسول کی معرفت حاصل کرلے اور پھر اس کا سچا اعتراف کرے تو یہ اعتراف اس کی پوری شخصیت کا نمائندہ ہوتاہے۔ ایسا اعتراف اللہ کی نظر میں اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اس کے اوپر جہنم کی آگ حرام کردی جاتی ہے۔
جو آدمی شہات کےدرجہ میں پہنچ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے، اس کا پورا وجود معرفت رب میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا مزکیّٰ شخصیت (purified soul) بن جاتا ہے جو جہنم کی دسترس سے باہر ہوچکا ہو۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ کے اوپر ایک سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے۔ پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ جاگ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی بندہ جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر وہ اسی پر مر جائے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا، اگر چہ اس نے زناکیا اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی۔ میں نے کہا،اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی۔ میں نے کہا، اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی۔ آپ نے فرمایا اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی، ابوذر کی ناپسندیدگی کے باوجود۔ اور ابو ذر جب بھی اس حدیث کو بیان کرتے تو اس کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ابو ذر کی ناپسندیدگی کے باوجود۔ (متفق علیہ:صحیح البخاری، حدیث نمبر5827، صحیح مسلم، حدیث نمبر94)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کلمۂ توحید کےاقرار سے مراد وہ اقرار ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کا نمائندہ بن کر ظاہر ہو، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو۔ ایسے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا فکری اور روحانی وجود مکمل طورپر توحید کی حقیقت میں ڈھل گیا ہے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے گا۔
حدیث میں وإن زنى وإن سرق (اگر چہ اس نے زناکیا ،اگر چہ اس نے چوری کی)کا لفظ ہے، نہ کہ وإن یزنی وإن یسرق (اگرچہ وہ زنا کرتا رہے، اگرچہ وہ چوری کرتا رہے)کا لفظ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد بھی مستقل طورپر زنا اور سرقہ میں مبتلا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتفاقی طور پر وقتی سبب سے کبھی اس قسم کا گناہ سرزد ہوجائے۔ اور پھر اس پر غلطی کا شدیداحساس طاری ہو اور پھر وہ توبہ اور گریۂ ندامت سے اپنے آپ کو پاک کرلے۔ اس حدیث میں خدا سے ڈرنے والے انسان کا ذکر ہے، اور جس انسان کے دل میں خدا کا ڈر سمایا ہو وہ اگر کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اتنی شدت کے ساتھ اس کے اوپر گناہ کا احساس طاری ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاک انسان بن جاتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ عیسی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور وہ اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا۔ اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے۔ اللہ ایسے آدمی کو جنت میں داخل کرے گا، اس عمل کے مطابق جس پر وہ تھا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3435، صحیح مسلم، حدیث نمبر28)۔
hadithQuotes a hadith
ایمان دراصل معرفت کا نام ہے۔ یعنی آدمی کو خدائی حقیقتوں کی شعوری دریافت حاصل ہو۔ اور پھر وہ اس کو بھر پور طور پر اپنی زندگی میں شامل کرلے۔ ایسے ہی انسان کو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا۔ آپ نے کہا کہ اے عمرو، یہ کیا ۔میں نے کہا کہ میں شرط لگانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : کیا شرط لگانا چاہتے ہو۔ میں نے کہا:یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمرو، کیاتم نہیں جانتے کہ اسلام پچھلے کیے کو ڈھا دیتا ہے۔اور ہجرت اپنے سے پہلے کیے کو ڈھا دیتی ہے۔ اورحج اس سے پہلے کے کیے کو ڈھادیتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر121)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایمان انسانی شخصیت میں مکمل تبدیلی کا نام ہے۔ حقیقی ایمان کے بعد کوئی آدمی اپنی شخصیت کے اعتبار سے وہ نہیں رہتا جو کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ یہ تبدیلی اس کی پوری شخصیت میں ایک مثبت انقلاب کا باعث بن جاتی ہے۔ایمان کے بعد انسا ن کی سوچ، اس کا بولنا، اور اس کا کردار سب ایک نئے رنگ میں رنگ جاتا ہے، یعنی اللہ کا رنگ۔ اس کے بعد انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ انسان کے ذہنی ارتقا میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔اب اس کے اندر ایک تخلیقی شخصیت جاگتی ہے۔ اب اس کا ذکر رب العالمین کا ذکر بن جاتا ہے۔ اب اس کا شکر اعلیٰ شکر بن جاتا ہے— خدا کے یہاں بعداز ایمان حالت کا اعتبار ہے، نہ کہ قبل از ایمان حالت کا۔