Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala November 2020
Al-Risala November 2020

علم کا سفر

Urdu · 1 min read

قرآن خدا کی کتاب کی حیثیت سے ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں توہم پرستی کا کلچر رائج تھا۔ قرآن کے بعد علمی دریافتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ دور بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ قرآن کی صداقت کا یہ علمی ثبوت ہے کہ بعد کی علمی تحقیقات قرآن کی باتوں کی تصدیق بنتی چلی گئیں۔ اس سلسلے میں برٹش سائنسداں سرجیمس جینز کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The stream of knowledge is heading towards a non-mechanical reality;kthe universe begins to look more like a great thought than like a great machine. (The Mysterious Universe, James Jeans, p. 137)

other sourceWords of another person or source

یہ بات برٹش سائنسداںنے 1930 میں کہی تھی۔ اس کے بعد کی تمام دریافتیں اس بات کی تصدیق بنتی چلی گئیں کہ حقیقت کا جو تصور قرآن میں دیاگیا ہے، وہی درست تصور ہے۔ اس درمیان سائنسی دریافتوں کے ذریعے ملحدانہ تصورات رد ہوتے چلے گئے، اور موحدانہ تصورات ثابت شدہ بنتے چلے گئے۔

مثلاً قدیم ملحدین یہ سمجھتے تھے کہ کائنات ابدی ہے، وہ جیسی آج ہے ،ویسی ہی وہ ابد سے چلی آرہی ہے، اس لیے کائنات کو خالق کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر بعد کی سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) کی صورت میں کائنات کا آغاز ہوا۔اسی طرح قدیم ملحدین مانتے تھے کہ کائنات میں کوئی نظم نہیں،مگر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میںایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی تمام دریافتیں مذہبِ توحید کی تصدیق کرتی ہیں، خواہ براہِ راست طورپرہوں، یا بالواسطہ طورپر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content