Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2020
Al-Risala November 2020

دعوت الی اللہ

Urdu · 2 min read

ریاض موسی صاحب ملیباری ( 1942-2020)انڈیا کے مشہور داعی تھے۔ ان کی ہمارے دل میں بہت قدر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مشن میں ان کا ایک مثبت رول ہے۔ ہمارے دعوتی مشن میں علما کی جو ٹیم شامل ہوئی ہے، وہ لوگ براہِ راست نہیں آئے ہیں، بلکہ ریاض موسی صاحب کے واسطے سے آئے ہیں۔پہلے ریاض موسی صاحب نے ان لوگوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا۔اگرچہ ان کا ذہن عین وہی نہیں ہے، جو ہمارا دعوتی ذہن ہے۔ بلکہ کسی قدر مختلف تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ ان سے عمر آباد میں بات ہوئی تو میں نے ان کے طریقِ کار پر کچھ کریٹیکل تبصرہ کیا۔اس کے جواب میں ریاض موسی صاحب نے اپنے ملیالی لہجے میں کہا تھا:ہم دعوت بھی کرے گا، عداوت بھی کرے گا۔ میں نے اس وقت یہ کہاتھا کہ عداوت چھوڑکر دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے۔ دعوت اور عداوت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں ۔ یہ بات شاید خود ان کی سمجھ میں نہیں آئی، مگر ان کی ٹیم کے کچھ لوگوں کو سمجھ میں آگئی۔ یہ تقریباً وہی لوگ تھے جو بعد میں ہمارے مشن میں شریک ہوئے۔

اصل یہ ہے کہ ریاض موسی صاحب کی تحریک پر جامعہ دار السلام عمر آباد (تامل ناڈو) میں علما کی تربیت کے لیے ایک دعوتی شعبہ کھولا گیا۔ اس میں ان لوگوں نے داخلہ لیا۔ بعد کو یہ لوگ ہمارے پروگرا م میں شریک ہوئے۔ انھوں نے دیکھا کہ ہمارے یہاں دعوت کا مبنی بر نصح تصور ہے۔ ان عمری لوگوں نے ہمارے لٹریچر کو پڑھا، ان لوگوں نے ہمارے پروگرام میں شرکت کی۔ اس طرح دھیرے دھیرے ان کا ذہن بدلا۔ ان لوگوںنے یہ سمجھا کہ دعوت مکمل طور پر ایک مثبت کام ہے۔ دعوت کا عمل اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی بھی منفی سوچ شامل کی جائے۔ اس تجربے نے ان کو متاثر کیا، اس طرح ان علما کے اندر ایک اصلاح یافتہ دعوت کا تصور پیدا ہوا۔ ان کےذہن میں مثبت سوچ پر مبنی دعوت کا تصور قائم ہوا، جو ہر قسم کے منفی سوچ سے خالی تھا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ باقاعدہ طور پر ہمارے مشن میں شامل ہو گئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.