Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2018
Al-Risala November 2018

خدا موجود ہے

Urdu · 2 min read

نظام الدین ویسٹ میں ہمارے آفس کے قریب ایک پارک ہے۔ ایک عورت وہاں اپنے بچوں کے ساتھ آئی۔ کچھ دیر وہ پارک میں ٹھہری، پھر بچوں کو چھوڑ کر کسی کام سے باہر جانے لگی۔ اس وقت چھوٹی لڑکی اماں اماں کہہ کر رونے لگی۔ لڑکے نے کہا کہ کیوں روتی ہو۔ لڑکی نے جواب دیا کہ میری ماں چلی گئی۔ اس کے جواب میں لڑکے نے کہا : ماں کے جانے پر روتی کیوں ہو، میں جو ہوں۔

تمثیل کی زبان میں یہ واقعہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو بتاتا ہے۔ مسلمان ساری دنیا میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شکایت کی بولی بول رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مظلوم بتاکر احتجاج کررہے ہیں۔ یہ حال دنیا کے تمام مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں تقریباً ایک سو بیس کروڑ ہیں۔ مگر اس معاملے میں شاید کسی مسلمان کا کوئی استثناء نہیں۔

قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تمھارے قریب ہے۔ تم اللہ کو پکارو وہ تمھاری پکار کا جواب دے گا (غافر ، 40:60)۔ قرآن کی یہ آیت گویا خاموش زبان میں کہہ رہی ہے کہ تم مظلومیت کی فریاد کیوں کر رہے ہو۔ اللہ موجود ہے، تم اللہ رب العالمین کو پکارو، وہ تمھاری پکار کا جواب دے گا۔قرآن کی اس طرح کی آیات کی موجودگی کے باوجود جو لوگ احساسِ مظلومیت یا احساس محرومی میں جی رہے ہوں، وہ بلاشبہ قرآن کی اس آیت کے مصداق ہیں: وَمَنْ کَانَ فِی ہَذِہِ أَعْمَى فَہُوَ فِی الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِیلًا (17:72)۔ یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہوگا راستے سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانوں کا اس طرح اپنی مظلومیت کی داستان بیان کرنا، کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ اللہ پر بے اعتمادی کا اظہار ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے اللہ کی معرفت حاصل نہیں کی، وہ اللہ کے بارے میں یقین سے محروم ہیں۔ ایسے لوگوں کو خود اپنی اصلاح کرنی چاہیے ، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content