Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2017
Al-Risala November 2017

سماجی آداب

Urdu · 2 min read

ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک صحابی، وابصہ الاسدی پیغمبر اسلام کے پاس آئے۔ وہ نیکی اور بدی کے تمام سوالات آپ سے پوچھنا چاہتے تھے(لا أدع شیئا من البر والإثم إلا سألتہ عنہ)۔ رسول اللہ نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا، بلکہ یہ فرمایا: یا وابصة استفت قلبک، واستفت نفسک ’’ ثلاث مرات‘‘، البر ما اطمأنت إلیہ النفس، والإثم ما حاک فی النفس، وتردد فی الصدر، وإن أفتاک الناس وأفتَوک(مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی اے وابصہ ، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اور اپنے جی سے فتویٰ پوچھو (یہ بات آپ نے تین بار کہی، اس کے بعد فرمایا) نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو، اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے۔ اور تمھارے دل میں تردد پیدا ہو۔ چاہے لوگ کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی ہر معاملے میں اپنا مفتی خود بن جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرمسئلے کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ کھلی ممنوعات کے سوا جو چیزیں ہیں، ان میں کامن سنس (common sense) پر عمل کرو۔

مثلا انڈیا میں ملاقات کے وقت پاؤں چھونے کا رواج ہے۔ یہ عمل کوئی مذہبی عمل نہیں ہے، بلکہ وہ بطور احترام (as a mark of respect) ہوتا ہے۔ ملاقات کے وقت احترام کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلا سر کو یا ہاتھ کو بوسہ (kiss) کرنا، یا رکوع کی مانند جھک جانا، وغیرہ۔ جس طرح سے یہ علامتی طریقے جائز ہیں، اسی طرح علامتی طور پر پاؤں کا چھونا بھی جائز ہے۔

قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کے سامنے بوقت ملاقات ایک فعل کیا تھا، جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَخَرُّوا لَہُ سُجَّدًا (12:100)۔ اس آیت میں معروف سجدہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد بطور تعظیم جھک جانا ہے۔ اس کا تعلق آداب حیات سے ہے، نہ کہ شرعی عبادت سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content