Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala november 2016
Al-Risala november 2016

موت کا سبق

Urdu · 4 min read

میں ایک جنازہ میں شریک ہوا۔ موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا۔ اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر وہ میت کو اپنے کاندھوں پر لے کر چلے، یہاںتک کہ قبر میں احترام کے ساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیاگیا۔ میںنے سوچا کہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح اِدھر اُدھر پھینک نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ ’’مٹی‘‘ کے ساتھ ’’انسان‘‘ جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔ مردہ انسان کے ذریعہ زندہ انسانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ بالآخر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں۔ وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقرر دن میں کاغذ کا ایک انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کرکے اس کو مٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔ ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے۔ بولتے بولتے اس کی زبان بند ہوگئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی، وہ سب اچانک ختم ہوگئی۔ اب خدا اِس واقعہ کو استعمال کرتا ہے، تاکہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ وہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلائے۔ لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میںلٹا دیا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میںمٹی لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے :منہا خلقناکم (اسی سے ہم نے تم کو پیداکیاتھا)، جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے: وفیہا نعیدکم (اسی میںہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے : ومنھا نخرجکم تارۃً أخریٰ (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے)۔(دیکھیے، سورہ طٰہ 55 :)یہ تین بار مٹی ڈالنا، اس پورے معاملہ کا کلائمکس ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔ ممتاز ترین ارب پتی ہوورڈ روبارڈ ہیوز (Howard Robard Hughes)امریکاکا ایک ممتاز ترین ارب پتی تھا۔ اپریل 1976 میں ایک ہوائی سفر کے دوران اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس کے ہوائی جہاز کو فوراً ہاؤسٹن میں اتارا گیا۔ مگراسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہوچکا تھا۔ اپنے قانون داں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالر بطور وراثت ملے تھے۔ مگر اس نے اپنی غیرمعمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو 20,000 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھا لیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تاثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکہ تیار کیا ہے۔ اس خاکہ میں اس کے سفر حیات کے آخری لمحات کو مصوّر کیاگیا ہے — امریکا کا کامیاب ترین تاجر اُس خاکہ میں وحشت، مایوسی، بے چارگی ، ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے۔ امریکی تاجر کی یہ وحشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کررہی ہے جو ایک آدمی کی اس وقت ہوتی ہےجب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو، اس کے پیچھے وہ زندگی ہو جس کو وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوجائے گا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content