ایک حدیث رسول میں موت کو ھادم اللذات (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258) کہا گیا ہے۔ یعنی کوئی انسان اگر اپنی موت کو یاد کرے تو یہ یاد اس کے لیے لذتوں کو ڈھادینے والی بن جائے گی۔ اس کے لیے پھر کوئی لذت ، لذت نہیں رہے گی۔جن مادی چیزوں کو لے کر لوگ خوش ہوتے ہیں، وہ چیزیں اس کو خوشی نہ دے سکیں گی۔ موت کا تصور آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ تمھارے اوپر ایک ایسا دن آنے والا ہے جو اچانک تمھارا سب کچھ بدل دے گا۔ تم اپنے بنائے ہوئے گھر میں ہوگے، تم اپنے بچوں کے درمیان خوش ہوگے، تم اپنے دوستوں کے درمیان یا اپنی معاشی زندگی کے درمیان ہوگے، یا اور کسی حال میں ہوگے، اس وقت اچانک موت کا فرشتہ آئے گا۔ وہ تمھارے جسم کو چھلکے کی طرح پھینک دے گا، اور تمھارے اصل وجود کو لے کر ایک اور دنیا میں چلا جائے گا۔ تمھارے جاننے والے کچھ نہ جانیں گے کہ تم کہاں چلے گیے۔ موت کا یہ تصور آدمی کو بے حد سنجیدہ بنادیتا ہے۔ آدمی کی سب سے بڑی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں کیا ہوں اور میرا مستقبل کیا ہے، میری زندگی کیا ہے اور میری موت کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مجھے کیا کرناہے، موت کے بعد کے دورِ حیات میں میرے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ موت کی یاد آدمی کواس قابل بنادیتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملے میں بے حد سنجیدہ ہوجائے، وہ ہر لمحہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے لگے۔ موت حتمی انداز میں انسان کو بتاتی ہے کہ بظاہر اگرچہ تمھارا حال (present) تمھارے قبضے میں ہے، لیکن تمھارا مستقبل (future)ہر گز تمھارے قبضے میں نہیں۔ موت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حال سے زیادہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات کی تعمیرکے بجائے موت کے بعد کے دورِ حیات میں مشغول ہوجائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔