خود کشی سب سے بڑی دیوانگی ہے۔ کیوں کہ خود کشی آدمی اُس وقت کرتا ہے، جب کہ وہ زیادہ کامیاب انداز میں کوئی عمل کرنے کی پوزیشن میں ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خود کشی کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ کوئی بھی آدمی نارمل حالت میں اِس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی مارڈالے۔ پھر کوئی شخص خود کشی جیسا انتہائی اقدام کیوں کرتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو اُس وقت یہ ہوتا ہے کہ فطری نظام کے تحت اُس کا دماغ محفوظ انرجی کور یلیز (release)کردیتا ہے۔ اِس بنا پر اُس وقت آدمی کی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اضافہ شدہ طاقت اِس لیے ہوتی ہے کہ آدمی پیش آمدہ مسئلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرسکے، مگر وہ اِس بڑھی ہوئی طاقت کا منفی استعمال کرکے خود کشی کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جولوگ خود کشی کا اقدام کریں اور کسی بنا پر مرنے سے بچ جائیں، تو وہ اپنی بعد کی زندگی میں زیادہ بڑا کام کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اقدامِ خود کشی کا واقعہ اُن کو شعوری یا غیرشعوری طورپر اپنی برتر طاقت سے متعارف کردیتاہے۔ چناں چہ موت سے بچنے کی صورت میں وہ اس کو بھر پور طورپر استعمال کرتے ہیں اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ فطرت کے اِس قانون کو شیخ سعدی نے سادہ طورپر اِس طرح بیان کیا ہے: نہ بینی کہ چوں گُربہ عاجز شود بَرآرد بہ چَنگال، چشمِ پلنگ انسان کی اکثر غلطیاں فطرت کے قانون کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کے دماغ میں ہمیشہ محفوظ انرجی موجود رہتی ہے۔ جب کوئی سخت مسئلہ پیش آئے تو دماغ آٹومیٹک طورپر اِس محفوظ انرجی کو ریلیز کردیتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دریا میں پانی کی قلّت کے وقت بَیراج کو کھول کر مزید پانی جاری کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر فطرت کے قوانین کو سمجھے تو وہ بہت سی نادانیوں سے بچ جائے، بہت سی ناکامیوں سے وہ کبھی دوچار نہ ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔