آدمی سمجھتا ہے کہ وہ زندگی میں جی رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد موت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہے۔ جب موت کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہر لمحہ موت کا لمحہ ہے۔ انسان کا ہر اگلا قدم موت کی طرف جانے والاقدم ہے۔ زندگی ہر انسان کے لیے صرف آج کا تجربہ ہے، کل کا تجربہ نہیں۔ ہر آدمی کے لیے آج کا دن زندگی کا دن ہے اور کل کا دن موت کا دن۔ موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر کا نام ہے۔ آدمی روزانہ سفر کرتا ہے۔ کبھی چھوٹا سفر اور کبھی بڑا سفر، کبھی ملک کے اندرسفر اور کبھی ملک کے باہرسفر۔ یہ تمام اسفار ایک معلوم مقام سے چل کر دوسرے معلوم مقام تک جانے کے ہم معنی ہوتے ہیں۔اس قسم کے سفروں سے آدمی اتنا زیادہ مانوس ہوچکا ہے کہ وہ اس کو کوئی سنگین چیز نہیں سمجھتا۔ لیکن موت کے سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ موت کے سفر میں ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایک معلوم دنیا سے نکل کر دوسری نامعلوم دنیا کی طرف جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ہر آدمی کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ مگر آدمی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتا۔ وہ دنیا میں جن اسفار کا تجربہ کرتا ہے، ان سے وہ اتنا مانوس ہوجاتا ہے کہ وہ گہرے شعور کے تحت، موت کے سفر جیسے سفر کا ادراک نہیں کر پاتا ۔ اسی بنا پر ہر آدمی کے لیے موت ایک دور کی خبر بنی ہوئی ہے، وہ اس کے لیے قریب کا کوئی واقعہ نہیں۔ آدمی اپنے مزاج کی بنا پر ہمیشہ کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ یہی انسان کی بے حسی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ موت کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آکر موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے شعور کو کامل طورپر بیدار کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی موت کی حقیقت کو سمجھے، جو بلاشبہ ہر انسان کا سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔