ایک خبر میڈیا میں آئی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا میں یہ خبر حسب ذیل الفاظ میں چھپی ہے: British reality TV star Jade Goody, who has been diagnosed with cancer, says she has started planning for her funeral, adding she wants “people to cry over me”. “Most people plan their weddings. But I am planning my funeral”, Goody told OK Magazine. Goody was diagnosed with cervical cancer in August 2008 just as she prepared to appear in the Indian version of the British reality TV show celebrity Big Brother. (New Delhi, Octobr 9, 2008, p. 21) برطانی ٹی وی اسٹار جیڈ گوڈی اپنے پروفیشن کے اعتبار سے چوٹی (peak) پر تھیں۔ اچانک اگست 2008 کے طبی معائنے میں اُن کو بتایا گیا کہ اُن کو کینسر کی بیماری ہوچکی ہے، یعنی لاعلاج بیماری۔ انھوں نے اپنے مستقبل کے پروفیشنل منصوبوں کو منسوخ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اب مجھے موت کی تیاری کرنی ہے۔ لوگ شادی کا منصوبہ بناتے ہیں، مجھ کو اپنی موت کا منصوبہ بنانا ہے: Most people plan their weddings. But I am planning my funeral. یہی ہر عوت اور ہر مرد کی کہانی ہے۔ لوگ زندگی کا جشن منانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں، حالاںکہ ہر ایک کا آخری انجام یہ ہے کہ جشن کی تکمیل سے پہلے اُس پر موت آئے اور وہ موجودہ دنیا سے نکل کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ قبل از موت مرحلۂ حیات کو صرف ایک وقتی سفر سمجھے اور اپنی ساری توجہ بعد از موت مرحلۂ حیات کی تیاری میں لگادے۔ لوگ اپنا برتھ ڈے مناتےہیں۔ حالاں کہ ہر سالگرہ صرف اِس بات کا اعلان ہے کہ آدمی کی عمر کا ایک سال اور کم ہوگیا۔ ایسی حالت میں، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ہر سال کی تکمیل پر آنے والی موت کو یاد کرے۔ کیوں کہ اگلی سالگرہ کا آنا یقینی نہیں، لیکن موت کا آنا یقینی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اِس سب سے بڑی حقیقت کو یاد رکھے جس کا دوسرا نام موت ہے۔
موت کیا ہے، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔ موت’’اپنی دنیا‘‘ سے نکل کر’’دوسرے کی دنیا‘‘ میں جانا ہے۔ کیسا چونکادینے والا ہے یہ واقعہ۔ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتےہوئے دیکھتا ہے، پھر بھی وہ نہیں چونکتا۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتارہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرا یہی تمھارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو فرشتوں کے حوالہ کردے۔ موت ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے۔موت کا حملہ سراسر یک طرفہ حملہ ہے۔ یہ طاقت اور بے طاقتی کا مقابلہ ہے۔ اس میںانسان کے بس میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ کامل عجز کے ساتھ فریقِ ثانی کے فیصلہ پر راضی ہوجائے۔ وہ یک طرفہ طورپر شکست کو قبول کرلے۔ موت انسانی زندگی کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل ہے۔ موت آدمی کو موجودہ دنیا سے اگلی دنیا کی طرف لےجاتی ہے۔ یہ اختیار سے بے اختیاری کی طرف سفر ہے۔ یہ امتحان کے بعد اس کا انجام پانے کے دور میں داخل ہونا ہے۔موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی صداقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ معقولیت کے آگے جھکنے پر راضی نہیں ہوتا۔ موت اس لیے آتی ہے کہ اس کو بے یارومددگار کرکے حق کے آگے جھکنے پر مجبور کردے۔ جس صداقت کو اس نے باعزت طورپر قبول نہیں کیا تھا اس کو وہ بےعزّت ہوکر قبول کرے۔ جس حق کے آگے، وہ اپنے ارادہ سے نہیں جھکا تھا۔ اس حق کے آگے مجبورانہ طورپر جھکے اور اس کی تردید کے لیے کچھ نہ کرسکے۔انسان آج حق کی تائید میں چند الفاظ بولنا گوارا نہیں کرتا، جب موت آئے گی تو وہ چاہے گا کہ ڈکشنری کے سارے الفاظ حق کی موافقت میں استعمال کر ڈالے، مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جواس کے الفاظ کو سنے۔ انسان آج ڈھٹائی کرتا ہے، موت جب اس کو پچھاڑ ے گی تو وہ سراپا عجزونیاز بن جائے گا۔ مگر اس وقت کوئی نہ ہوگا جو اس کے عجز ونیاز کی قدر دانی کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔