قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أولم نعمّرکم ما یتذکر فیہ من تذکر(35:37)۔ یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ جو شخص یاد دہانی حاصل کرنا چاہے، وہ اس میں یاددہانی حاصل کرسکے۔ اِس مفہوم کی متعدد روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ملاحظہ ہو، ابن حجر کی فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کو لمبی عمر یا بڑھاپے کی عمر ملے، اس کے پاس اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ آدمی کے اوپر پہلے بچپن کا دور آتاہے، اس کے بعد جوانی کا دور آتاہے، اس کے بعد بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ بڑھاپے کا دور موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آخری دور ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد جو مرحلہ آتاہے، وہ موت کا مرحلہ ہے، نہ کہ کوئی اور مرحلہ۔ اِس اعتبار سے بڑھاپا گویا کہ موت کی پیشگی اطلاع (prior notice) کی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑھاپے میں جسم کے تمام اعضا (organs) کمزور ہوجاتے ہیں، حتی کہ بعض اعضا اپنا کام کرنا بند کردیتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا وقت قریب آگیا۔ وہ گویا کہ موت کی جبری یاددہانی (compulsory reminder) ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو قبر کے کنارے کھڑا کردیتاہے۔ اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو بڑھاپے کی عمرکو پہنچ کر وہ سوچنے لگے گاکہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ میری موت واقع ہو اور میں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر کردیا جاؤں۔ اِس طرح بڑھاپے کے تجربات آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کو آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیامیں تمھارا سفر اب ختم ہوچکا۔ اب تمھیں لازماً اگلے دورِحیات میں داخل ہونا ہے اور حشر کی خدائی عدالت کا سامنا کرنا ہے — بلا شبہ وہ انسان سب سے زیادہ بد بخت انسان ہے جس کوبڑھاپے کا زمانہ ملا، لیکن وہ اس سے یاددہانی حاصل نہ کرسکا، وہ بدستور غفلت میں رہا، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مرگیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔