زیر نظر کتاب موت و حیات کے موضوع پر ہے۔یعنی اس موضوع پر کہ انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے۔ اور موت کے بعد جب وہ زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ یہ موضوع قرآن کا ایک اہم باب ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کے خالق نے قرآن اس لیے اتارا تاکہ انسان زندگی کے مقصد کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا درست منصوبہ بنائے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ معاملہ ہے کہ وہ ایک دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر دنیا میں داخل ہوتا ہے، اور پھر سوسال سے کم مدت تک زندگی گزار کر اگلے مرحلۂ حیات کی طرف چلا جاتا ہے۔ قرآن میں اس سوال کا نہایت واضح جواب ملتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ پہلا کام ہے کہ وہ اس سوال کا مستند جواب معلوم کرے۔ تاکہ وہ اس کے مطابق زندگی گزار کر اپنے ابدی دورِ حیات میں کامیابی کا درجہ حاصل کرے۔ زیر نظر کتاب){ FR 1561 } ( دعوتی لٹریچر میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ تزکیہ کے موضوع پر بھی ایک اہم کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک اعتبار سے یہ کتاب ایک دعوتی کتاب بھی ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ محاسبہ خویش (self-introspection)کا ذریعہ بھی ۔ وحید الدین، نئی دہلی 20 اگست 2016
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.