← Al-Risala November 2015Al-Risala November 2015
مخالفین مذہب کا استدلال
Urdu · 12 min read
’’جس طرح ایٹم کے ٹوٹنے سے مادّہ کے بارے میں انسان کے پچھلے تمام تصورات ختم ہوگئے اسی طرح پچھلی صدیوں میں علم کی جوترقی ہوئی ہے وہ بھی ایک قسم کا علمی دھماکہ (knowledge explosion)ہے جس کے بعد خدا اور مذہب کے متعلق تمام پرانے خیالات بھک سے اُڑ گئے ہیں۔ ( ہندستان ٹائمس، سنڈے میگزین، 23 ستمبر 1961) یہ جولین ہکسلے کے الفاظ ہیں۔ جدید بے خدا مفکرین کے نزدیک مذہب کوئی حقیقی چیز نہیںہے۔ وہ انسان کی صرف اس خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ وہ کائنات کی توجیہہ کرنا چاہتا ہے۔ توجیہہ تلاش کرنے کا انسانی جذبہ بذاتِ خود غلط نہیں ہے ۔ مگر کم تر معلومات نے ہمارے پرانے اجداد کو ان غلط جوابات تک پہنچا دیا جس کو خدا یا مذہب کہاجاتا ہے، اب جس طرح بہت سے دوسرے معاملات میں انسان نے اپنی علمی ترقی سے ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے، اسی طرح توجیہہ کے معاملے میں بھی وہ آج اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی انتہائی غلطیوں کی اصلاح کرسکے۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس طریق فکر کے مطابق مذہب، حقیقی واقعات کی غیر حقیقی توجیہہ ہے، پہلے زمانے میں انسان کا علم چونکہ بہت محدود تھا اس لیے واقعات کی صحیح توجیہہ میں اسے کامیابی نہیں ہوئی اور اس نے مذہب کے نام سے عجیب عجیب مفروضے قائم کرلیے مگر ارتقاء کے عالم گیر قانون نے آدمی کو اس اندھیرے سے نکال دیا ہے اور جدید معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اٹکل پچو عقائد پر ایمان رکھنے کے بجائے خالص تجرباتی اور مشاہداتی ذرائع سے اشیاء کی حقیقت معلوم کی جائے، چنانچہ وہ تمام چیزیں جن کو پہلے مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔ اب بالکل فطری اسباب کے تحت ان کی تشریح معلوم کرلی گئی ہے۔ جدید طریق مطالعہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا کا وجود فرض کرنا انسان کی کوئی واقعی دریافت نہیں تھی بلکہ یہ محض دور لاعلمی کے قیاسات تھے جو علم کی روشنی پھیلنے کے بعد خود بخود ختم ہوگئے ہیں۔ جولین ہکسلے کہتا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’نیوٹن نے دکھا دیا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے جو سیاروں کی گردش پر حکومت کرتا ہو۔ لاپلاس نے اپنے مشہور نظریے سےاس بات کی تصدیق کردی ہے کہ فلکی نظام کو خدائی مفروضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈارون اور پاسچر نے یہی کام حیاتیات کے میدان میں کیا ہے اور موجودہ صدی میں علم النفس کی ترقی اور تاریخی معلومات کے اضافے نے خدا کو اس مفروضہ مقام سے ہٹا دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور تاریخ کو کنٹرول کرنے والا ہے‘‘۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
(Religion without Revelation, N. Y. 1958. p. 58)
طبیعاتی دنیا میں اس انقلاب کا ہیرو نیو ٹن ہے جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کچھ ناقابل تغیر اصولوں میں بندھی ہوئی ہے۔ کچھ قوانین ہیں جن کے تحت تمام اجرام سماوی حرکت کررہے ہیں۔ بعد کو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک اٹل نظام کے تحت ظاہر ہوتےہوئے نظر آئے جس کو قانون فطرت (law of nature) کا نام دیاگیا۔ اس دریافت کے بعد قدرتی طورپر یہ تصور ختم ہوجاتا ہے کہ کائنات کے پیچھے کوئی فعال اور قادر خدا ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔زیادہ سے زیادہ گنجائش اگر ہوسکتی ہے تو ایسے خدا کی جس نے ابتداء ً کائنات کو حرکت دی ہو۔ چنانچہ شروع میں لوگ محرک اول کے طورپر خدا کو مانتے رہے۔ والٹیر نے کہا کہ خدا نے اس کائنات کو بالکل اسی طرح بنایا ہے جس طرح ایک گھڑی ساز گھڑی کے پرزے جمع کرکے انھیں ایک خاص شکل میں ترتیب دے دیتا ہے اور اس کے بعد گھڑی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد ہیوم نے اس ’’بے جان اور بے کار خدا‘‘ کو بھی یہ کہہ کر ختم کردیا کہ ہم نے گھڑیاں بنتے ہوئے دیکھی ہیں۔ لیکن دنیائیں بنتی ہوئی نہیں دیکھیں۔ اس لیے کیوں کر ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کو مانیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سائنس کی ترقی اور علم کے پھیلاؤ نے اب انسان کو وہ کچھ دکھا دیا ہے جس کو پہلے اس نے دیکھا نہیں تھا۔ واقعات کی جن کڑیوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہم سمجھ نہیں سکتے تھے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔وہ اب واقعات کی تمام کڑیوں کے سامنے آجانے کی وجہ سے ایک جانی بوجھی چیز بن گیا ہے۔ مثلاً پہلے آدمی یہ نہیں جانتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا اور کیسے ڈوبتا ہے۔اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خدا ہے جو سورج کو نکالتا ہےاور اس کو غروب کرتاہے۔ اس طرح ایک مافوق الفطری طاقت کا خیال پیدا ہوا۔ اور جس چیز کو آدمی نہیں جانتا تھا، اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ اسی طاقت کا کرشمہ ہے۔ مگر اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سورج کا نکلنا اور ڈوبنا اس کے گرد زمین کے گھومنے کی وجہ سے ہوتا ہے تو سورج کو نکالنے اور غروب کرنے کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی ان دیکھی طاقت کام کررہی ہے وہ سب جدید مطالعہ کے بعد ہماری جانی پہچانی فطری طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ نظر آیا۔ گویا واقعہ کے فطری اسباب معلوم ہونے کے بعد وہ ضرورت آپ سے آپ ختم ہوگئی جس کے لیے پہلے لوگوں نے ایک خدا یا فوق الفطری طاقت کا وجود فرض کرلیا تھا۔ ’’اگر قوس قزح گرتی ہوئی بارش پر سورج کی شعاعوں کے انعطاف (refraction) سے پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ آسمان کے اوپر خدا کا نشان ہے‘‘ — ہکسلے اس قسم کے واقعات پیش کرتا ہوا کس قدر یقین کے ساتھ کہتا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یعنی واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے تحت پیدا کئے ہوئے نہیں ہوسکتے۔
اب اس دلیل کو لیجئے جو طبیعاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔ یعنی کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں جو واقعات ہورہے ہیں وہ ایک متعین قانون فطرت کے مطابق ہورہے ہیں۔ اس لیے ان کی توجیہہ کرنے کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ معلوم قوانین خود اسکی توجیہہ کے لیے موجود ہیں۔ اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جو ایک عیسائی عالم نے دیا۔ اس نے کہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Nature is a fact, not an explanation.
یعنی فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے۔ تمھارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کرلیےہیں مگر تم نے جو چیز معلوم کی ہے وہ اس مسئلے کا جواب نہیں ہےجس کے جواب کے طور پر مذہب وجود میں آیا ہے۔ مذہب یہ بتاتا ہے کہ وہ اصل اسباب ومحرکات کیا ہیں جو کائنات کے پیچھے کام کررہے ہیں۔ جب کہ تمھاری دریافت صرف اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ کائنات جو ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے اس کا ظاہری ڈھانچہ کیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جدید علم جو کچھ ہمیں بتاتا ہے وہ صرف واقعات کی مزید تفصیل ہے نہ کہ اصل واقعہ کی توجیہہ۔ سائنس کا سارا علم اس سے متعلق ہے کہ ’’جو کچھ ہے وہ کیاہے‘‘۔ یہ بات اس کی دسترس سے باہر ہے کہ ’’جو کچھ ہے وہ کیوں ہے‘‘ جب کہ توجیہہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھئے ۔ مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کےاندر پرورش پاتا ہے۔ اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آتا ہے۔ یہ واقعہ کیوں کر ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہر نکل آئے۔ پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ’’خدا ایسا کرتا ہے‘‘۔ مگر اب خردبینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہوا کہ جب 21 روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سی سخت سنگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کرکے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کردیتا ہےکہ بچہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے۔ کیونکہ خوردبین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھا رہی ہے کہ ایک 21 روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں۔ مگر یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں، اس نے واقعہ کا اصل سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدہ کے بعد صورت حال میں جو فرق ہوا ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ پہلے جو سوال خول کے ٹوٹنے کے بارےمیں تھا، وہ ’’سینگ‘‘ کے اوپر جاکر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا، واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے، وہ واقعہ کا سبب نہیں ہے۔ واقعہ کا سبب تو اس وقت معلوم ہوگا جب ہم جان لیں کہ بچہ کی چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگالیں جو بچہ کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کے لیے کسی سخت مددگار کی ضرورت ہے اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین وقت پر ٹھیک 21 روز بعد وہ بچہ کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد جھڑ جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھاکہ ’’خول کیسے ٹوٹتا ہے‘‘۔ اور اب سوال یہ ہوگیا کہ ’’سینگ کیسے بنتی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت کی توجیہہ کا نام نہیں دے سکتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات Cecil Boyce Hamann کے الفاظ نقل کروں گا:
other sourceWords of another person or source
’’غذا ہضم ہونے اور اس کے جزو بدن بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیاجاتا تھا۔ اب جدید مشاہدہ میں وہ کیمیائی رد عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہوگئی۔ آخر وہ کون طاقت ہے جس نے کیمیائی اجزا، کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید ردّ عمل ظاہر کریں۔ غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب وغریب خود کار انتظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے، اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ یہ حیرت انگیز انتظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتا ہے جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے۔‘‘
(The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 221)
یعنی فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے۔
اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے، تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔
’’درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں‘‘۔
’’ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیمو گلوبن (Haemoglobin) ہے۔ یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتاہے تو گہرا سرخ ہوجاتا ہے‘‘۔
other sourceWords of another person or source
’’ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات کہاں سے آئے‘‘۔
’’وہ آپ کی تلی میں بن کر تیار ہوتے ہیں‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بہت عجیب ہے۔ مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں اور اس قدر صحت کے ساتھ اپنا اپنا عمل کررہی ہیں‘‘۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
’’یہ قدرت کا قانون ہے‘‘۔
’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں‘‘۔
’’اس سے مراد ہے — Blind interplay of physical and chemical forces. (طبیعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل)۔
’’مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میںعمل کرتی ہیں جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ہوسکے۔ ایک مچھلی تیر سکے، ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے‘‘۔
’’میرے دوست، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہاہے وہ کیاہے، اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہےکہ جوکچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہورہا ہے‘‘۔
other sourceWords of another person or source
یہ سوال وجواب واضح کررہا ہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیا ہے۔ بلا شبہہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میںاربوں، کھربوں گنا بڑھ جائیں ، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی۔ کیونکہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے۔ اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ہے۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کرے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی مشین کےاوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے۔ اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہرکا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے۔ اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتاہے۔ یہاں تک کہ ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ لیں۔ مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کےخالق اور اس کے سبب حرکت کار از بھی معلوم کرلیا۔ کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ خود بخودبن گئی ہےاور اپنے آپ چلی جارہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہو اہے اور اپنے آپ چلا جارہا ہے۔ ہیریز (A. Harris) نے یہی بات کہی تھی جب اس نے ڈارونزم پر تنقید کرتےہوئے کہا:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest.
(The Revolt against Reason by A. Lunn, p. 133)
یعنی انتخاب طبیعی کے قانون کا حوالہ صرف زندگی کے بہتر مظاہر باقی رہنے کی توجیہہ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود میں آئیں۔