Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2015
Al-Risala November 2015

کریڈٹ لینے کا مزاج

Urdu · 2 min read

احساسِ برتری (superiority complex) کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ آدمی ایسے عمل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے جس کو اس نے کیا نہیں۔ اس کردار کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیاہے: وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا (3:188)۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ فارسی شاعر فردوسی (وفات: 1025) نے اپنی مشہور نظم شاہنامہ میں ایرانی پہلوان رستم کا ذکر کیا ہے۔ رستم اپنی قابلیت سے ایک مشہور پہلوان بنا تھا۔ لیکن فردوسی نے شاہنامہ میں اس کی بابت یہ شعر لکھا ہے کہ میں نے اس کورستم پہلوان بنایا ہے، ورنہ وہ اکھاڑےکا ایک معمولی آدمی تھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

منش کردہ ام رستمِ پہلواں وگرنہ یلے بود در سیستاں

قومی مزاج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندستان کے مسلمان اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی (1947) کے بعد یہاں کے مسلم قائدین نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ہمارا ووٹ اس ملک میں بیلنسنگ(balancing) ووٹ ہے۔ہم اس ملک میں بادشاہ گر (kingmaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہم جس کو چاہیں جتائیں اور جس کو چاہیں ہرائیں۔اس مزاج کا مظاہرہ بڑے پیمانے پر مئی 2014 کے جنرل الیکشن میں ہوا۔ اس موقعے پر ہندوستان کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر یہ کوشش کی کہ الیکشن میں بی جےپی کو ہرائیں۔ مگر نتیجہ الٹا بر آمد ہوا۔ بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی ہوئی کہ مسلمانوںکے نزدیک سب سے زیادہ معتوب آدمی ملک کا پرائم منسٹر بن گیا۔

فرضی کریڈٹ لینے کا مزاج دوسروں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا لیکن جن لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو، ان کو ضرور اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ اس صفت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندانہ مزاج بنتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے، اور دوسروں کو کم۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content