احساسِ برتری (superiority complex) کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ آدمی ایسے عمل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے جس کو اس نے کیا نہیں۔ اس کردار کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیاہے: وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا (3:188)۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ فارسی شاعر فردوسی (وفات: 1025) نے اپنی مشہور نظم شاہنامہ میں ایرانی پہلوان رستم کا ذکر کیا ہے۔ رستم اپنی قابلیت سے ایک مشہور پہلوان بنا تھا۔ لیکن فردوسی نے شاہنامہ میں اس کی بابت یہ شعر لکھا ہے کہ میں نے اس کورستم پہلوان بنایا ہے، ورنہ وہ اکھاڑےکا ایک معمولی آدمی تھا:
منش کردہ ام رستمِ پہلواں وگرنہ یلے بود در سیستاں
قومی مزاج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندستان کے مسلمان اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی (1947) کے بعد یہاں کے مسلم قائدین نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ہمارا ووٹ اس ملک میں بیلنسنگ(balancing) ووٹ ہے۔ہم اس ملک میں بادشاہ گر (kingmaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہم جس کو چاہیں جتائیں اور جس کو چاہیں ہرائیں۔اس مزاج کا مظاہرہ بڑے پیمانے پر مئی 2014 کے جنرل الیکشن میں ہوا۔ اس موقعے پر ہندوستان کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر یہ کوشش کی کہ الیکشن میں بی جےپی کو ہرائیں۔ مگر نتیجہ الٹا بر آمد ہوا۔ بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی ہوئی کہ مسلمانوںکے نزدیک سب سے زیادہ معتوب آدمی ملک کا پرائم منسٹر بن گیا۔
فرضی کریڈٹ لینے کا مزاج دوسروں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا لیکن جن لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو، ان کو ضرور اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ اس صفت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندانہ مزاج بنتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے، اور دوسروں کو کم۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔