بائبل (نیا عہد نامہ) کے باب متّی میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا کہ — یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:
Do not suppose that I have come to bring peace to the earth. I did not come to bring peace, but a sword. (Matthew, 10:34)
مسیحی علما ء اِس قول میں ’’تلوار‘‘ کے لفظ کو تمثیل کے معنی میں لیتے ہیں- اُن کے نزدیک، یہاں تلوار کا لفظ تمثیل کے معنی میں ہے- اِس سے مراد نظریاتی ٹکراؤ ہے- مسیح نے اپنے اِس قول میں عملی تشدد کی وکالت نہیں کی ہے:
Many Christians believe that the sword is a metaphor for ideological conflict and that Jesus is not advocating physical violence.
مسیحی علماء کی یہ تاویل بالکل درست ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ تلوار کا لفظ تمثیل کے طورپر بھی استعمال ہوتا ہے، ادبی لٹریچر میں بھی اور مذہبی لٹریچر میں بھی- اسلام میں بھی تلوار کا تمثیلی استعمال پایا جاتا ہے- اصل یہ ہے کہ تلوار یا جنگ کا لفظ اپنے ادبی استعمال کے لحاظ سے اکثر شدت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یعنی بھر پور جدوجہد کرنا-
مثلاً کہا جاتا ہے: فائٹ ٹو فنش (fight to finish)- اِس جملے کا مطلب جنگ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنی کوشش میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ کرو-لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ تنقید کو اتنا ہی برا سمجھتے ہیں، جتنا کہ تشدکو- مگر یہ لوگوں کی حساسیت کی بات ہے، ورنہ تنقید ایک پرامن اصلاحی عمل ہے- انسان کو چاہئے کہ وہ تنقید کو مثبت انداز میں لے- وہ تنقید کو برا سمجھنے کے بجائے اس پر غور کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔