علامہ اقبال (وفات: 1938) بر صغیر ہند کی نہایت مشہور شخصیت تھے، مسلمانوں کے ہر حلقے میں ان کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا ایک مشہور شعر یہ ہے:
چین وعرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
یہ شعر ایک عرب اسکالر ڈاکٹر عبد الوہاب عزام (وفات: 1959 ء) کو اتنا زیادہ پسند آیا کہ انھوں نے عربی زبان میں اس کا ترجمہ کرکے اس کو شائع کیا۔ اُن کا عربی ترجمہ یہ تھا:
الصین لنا والعُرب لنا والہند لنا والکل لنا
لیکن یہ شعر صحیح اسلامی ذہن کی ترجمانی نہیں-اِس کا ایک ثبوت یہ ہےکہ کسی صحابی یا کسی تابعی نے مسلم کی تعریف اِن الفاظ میں نہیں کی۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات درست نہیں کہ ساری دنیا مسلمانوں کی دنیا ہے، بلکہ ساری دنیا انسانوں کی دنیا ہے، نہ کہ کسی قوم یا کسی امت کی دنیا۔ قرآن وسنت میں تخلیقِ عالم کا جو تصور دیاگیا ہے، وہ یہی ہے-
صحیح بات یہ ہے کہ ہر مسلم اُسی طرح ایک انسان ہوتا ہے جس طرح دوسرے انسان۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا پر کسی مسلم کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دوسرے انسانوں کا حق۔ اللہ نے یہ دنیا کسی خاص امت کے لیے نہیں بنائی، بلکہ سارے انسانوں کے لیے بنائی ہے-
البتہ مسئولیت کے اعتبار سے، مسلم یا مسلم امت کی ایک ذمہ داری ہے، اور وہ دعوت الی اللہ کی عالمی ذمے داری ہے۔ مسلمان خاتم النبیین کی امت ہیں۔ اِس اعتبار سے، مسلمانوں کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے پیغمبر سے ملے ہوئے دینِ خداوندی کو ساری دنیا کے انسانوں تک پہنچائیں اور قیامت تک پہنچاتے رہیں۔ ساری دنیا مسلمانوں کی دنیا نہیں ہے، البتہ ساری دنیا کے انسان مسلمان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں-قرآن وحدیث کے اعتبار سے یہی صحیح اسلامی ذہن ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔