اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔اس سے پہلے کی پوری معلوم تاریخ میں کبھی بھی انسانی مساوات کسی قابلِ لحاظ حیثیت سے کہیں موجود نہ تھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہر عمل کی پشت پر ایک تائیدی نظریہ درکار ہوتا ہے۔ مگر اسلام سے پہلے مساوات کے حق میں ایسی کوئی نظریاتی بنیاد (ideological base) سرے سے پائی نہیں جاتی تھی۔ قدیم زمانہ کے نظریات کے مطابق عدم مساوات کی صورت حال ہی فطری صورت حال تھی۔ ایسی حالت میں مساوات کا اصول کس طرح لوگوں کے لیے قابل قبول ہوتا۔
زمین کے ایک خطہ میں آوا گمن یا پنر جنم کا عقیدہ لوگوں کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ اس عقیدہ کے مطابق ایک انسان اور دوسرے انسان کا فرق خود اس کے پچھلے عمل کا نتیجہ تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی موت کے بعد اگلے جنم ہی میں ممکن ہوسکتی تھی۔
ایسی حالت میں انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔اسی طرح جب لوگوں نے دیکھا کہ کچھ انسان سیاہ فام ہیںاور کچھ انسان سفید فام تو اس کی بنیاد پر یہ نظریہ بنایا گیا کہ سفید فام برتر نسل (superior race) سے تعلق رکھتے ہیں، اور سیاہ فام کمتر نسل (inferior race) سے۔ یہ نظریہ، خاص طورپر اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں بہت زیادہ پھیلا یہاں تک کہ وہ انسانوں کے درمیان مساوات کے قیام میں مستقل رکاوٹ بن گیا۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔ اس رواج کے تحت یہ تفریقی نظریہ لوگوں کے ذہنوں پر چھاگیا کہ سیاسی اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حاکم اور دوسرے محکوم یا رعایا۔ یہ ذہن بھی ہزاروں سال تک انسانی سماج کو دو طبقوں میں بانٹنے کا سبب بنا رہا۔ چوں کہ یہ تفریق حاکموں کے لیے نہایت مفید ِمطلب تھی اس لیے وہ اس کو راسخ کرنے کے لیے ہر قسم کے ذرائع استعمال کرتے رہے۔
اس قسم کے مختلف تفریقی نظریات نے قدیم زمانہ میں انسانی مساوات کے تصور کو ایک غیر عملی چیز بنا دیا تھا۔ اسلام نے پہلی بار تفریق انسانیت کے اس ذہن کو توڑا اور وہ حقیقی نظریہ (ideology) فراہم کی جس کی بنیاد پر انسانی مساوات کا قیام عمل میںآسکے۔
اسلام نے یہ تصور دیا کہ جو کچھ تفریق ہے وہ خدا اور انسان یا خالق اور مخلوق کے درمیان ہے، خود انسانوں کے درمیان باہمی طورپر کوئی تفریق نہیں۔ ہر انسان یکساں طور پر خدا کا بندہ ہے۔ اس اصول کے تحت عرب میں جو سماجی انقلاب آیا وہ دھیرے دھیرے تمام دنیا میں پھیل گیا، یہاں تک کہ مساوات کا وہ زمانہ آگیا جس کو آج ہم ساری دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.