قرآن میں انسان کے بارے میں ایک عمومی تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَیَذَرُوْنَ وَرَاۗءَہُمْ یَوْمًا ثَــقِیْلًا(76:27) یعنی یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں اور انھوں نے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ رکھا ہے-
انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات کے دو حصے ہیں — موت سے قبل (pre-death period) اور موت کے بعد (post-death period)- انسان کی عام کمزوری یہ ہے کہ وہ قبل از موت زندگی کو لے کر سوچتا ہے، بعد از موت زندگی کو لے کر وہ سوچ نہیں پاتا- یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہے-یہ کوئی سادہ بات نہیں- یہی بات ہے جو انسان کی پوری سوچ کو صحیح رخ یا غلط رخ دیتی ہے- جو شخص موت سے قبل کے مسائل کو لے کر سوچے، اس کے اندر دنیا رخی سوچ (world-oriented thinking) ڈیولپ کرے گی- اس کی سوچ ہر اعتبار سے، غیر حقیقت پسندانہ سوچ بن جائے گی- اس کے برعکس، جو شخص موت کے بعد کے مسائل کو لے کر سوچے، اس کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking) ڈیولپ ہوگی- اس کی سوچ ہر اعتبار سے حقیقت پسندانہ سوچ بن جائے گی- حقیقت پسندانہ سوچ ہی کا دوسرا نام صحیح طرزِ فکر (right thinking) ہے- اِسی طرح غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہی کا دوسرا نام غلط طرزِ فکر (wrong thinking) ہے-
انسان کے بننے یا بگڑنے کا تمام تر انحصار اِسى بات پر ہے۔ جو شخص اپنے اندر دنیا رخی مزاج ڈیولپ کرے گا تو یہ اس کی پوری سوچ کو غلط رخ پر ڈال دے گا- اِس کے برعکس، جس آدمی کا ذہن آخرت رخی ذہن ہو، اس کے اندر آخرت رخی مزاج ڈیولپ کرے گا جو اس کی پوری سوچ کو صحیح سمت میں جاری کردے گا — یہی وہ چیز ہے جو انسان کی شخصیت کی تعمیر (personality building) میں اصل اہمیت رکھتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔