ایمان پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں- ایمان ایک زندہ حقیقت ہے- ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے- اِس حقیقت کو قرآن میں ازدیادِ ایمان ( 48:4) کہاگیا ہے- یعنی ایمان کا مسلسل بڑھتے رہنا- یہ اضافۂ ایمان، تدبر کے ذریعہ ہوتا ہے- مومن قرآن میں اور خدا کی نشانیوں میں برابر غور کرتاہے، اِس طرح اُس کو نئے نئے پہلوؤں کی دریافت ہوتی رہتی ہے- اِن دریافتوں کے ذریعہ اُس کے ایمان ویقین میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے-
اِس کی ایک مثال سورج گرہن اور چاند گرہن کا معاملہ ہے- ہزاروں سال پہلے کے زمانے میں جب ایک انسان اِس ظاہرہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا تو اُس وقت بھی یہ ظاہرہ اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بنتا تھا- وہ سوچتا تھا کہ اللہ کتنا زیادہ قدرت والا ہے- وہ روشن اجسام (سورج، چاند) پر اندھیرے کا پردہ ڈال دیتا ہے- اور پھر اندھیرے کا پردہ ہٹا کر، اُس کو دوبارہ روشن کردیتا ہے- یہ بھی اضافۂ ایمان کا واقعہ ہے- یہ واقعہ بھی صاحب ایمان کے لیے یقینی طورپر اضافۂ ایمان کا ذریعہ بنا ہوا تھا-موجودہ زمانے میں دور بین (telescope) کی ایجاد نے اضافۂ ایمان کے معاملے کو بہت زیادہ بڑھا دیا- آج جب دور بین کی مدد سے سورج گرہن اور چاند گرہن کا مطالعہ کیاگیا، تو معلوم ہوا کہ یہ ظاہرہ اللہ کی عظیم قدرت کا انوکھا نشان ہے- اب دور بینی مشاہدے کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ گرہن اُس وقت ہوتا ہے، جب تین مختلف سائز کے متحرک اجسام وسیع خلا میں، ایک بے حدمتناسب دوری کے ساتھ ایک وقتِ خاص میں ایک سیدھ میں آجائیں:
Alignment of three moving bodies of different sizes at a particular point in time, in the vast space.
ازدیادِ ایمان کی نعمت اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے، جس کے اندر مسلسل تدبر کے ذریعہ تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوگئی ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔