Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala November 2013
Al-Risala November 2013

اجتہاد کی اہمیت

Urdu · 7 min read

اجتہاد کا لفظی مطلب ہے— بھر پور کوشش کرنا (بذل الوسع فی طلب الأمر)- شرعی اصطلاح میں، اجتہاد کا مفہوم یہ ہے کہ نئی صورتِ حال میں اسلام کے کسی اصول کے عملی انطباق کو جاننے کے لیے کامل فکری جدوجہد کی جائے- یہ اجتہاد ایک فطری ضرورت ہے- وہ ہر حال میں جاری رہتاہے- خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتہاد کا عمل صحابہ کے درمیان جاری تھا اور بعد کو وہ امت کے اندر مسلسل طورپر جاری رہا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دورِ جدید ہر اعتبار سے ایک بدلا ہوا دور تھا- فطری طور پر اِس دور میں مسلمانوں کے لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ نئے حالات میں اسلام کے اصول کو ازسرِ نو منطبق کریں- یہ ایک اجتہادی تقاضا تھا، مگر دورِ جدید کے مسلم اہلِ علم اِس اجتہاد میں مکمل طورپر ناکام رہے- وہ نئے حالات کی نسبت سے، اسلامی اصولوں کا ازسرِ نو انطباق (re-application) تلاش نہ کرسکے-یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا بحران (crisis) کہاجاتاہے- بحران کیا ہے- بحران دراصل مسئلہ(problem) ہی کا دوسرا نام ہے- مسئلہ زندگی کا لازمی حصہ ہے- جب کسی پیش آمدہ مسئلے کو حل کرلیا جائے تو وہ صرف مسئلہ رہے گا، اور اگر مسئلہ اتنا پیچیدہ ہو کہ وہ بظاہر ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) نظر آنے لگے تو اِسی کا دوسرا نام بحران ہے- موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ وہ اِسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوگئی ہے-

اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں عرب میں ہوا- وہ بہت تیزی سے پھیلا اور صرف نصف صدی کے عرصے میں اس نے ایک عالمی حیثیت حاصل کرلی- پہلے مسلمانوں کی مقامی حکومتیں قائم ہوئیں- عباسی دور میں مسلمان ایک مسلم ایمپائر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے- سیاسی اقتدار کا یہ دور مختلف قسم کے نشیب وفراز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا-مسلمانوں کے سیاسی عروج کی انتہا اور ان کے سیاسی زوال کا نقطہ آغازاگر متعین کرناہو تو وہ 1799قرار پائے گا- مسلم دنیا میں 1799 میں دو بڑے واقعات پیش آئے- ایک واقعہ بحرِ روم (Mediterranean Sea) میں پیش آیا، اور دوسرا واقعہ میسور (انڈیا) میں- ایک طرف، یہ ہوا کہ یورپی حکومتوں نے 1799 میں ترکی کے طاقت ور بحری بیڑا (naval fleet) پر حملہ کرکے اس کو بحر روم میں تباہ کردیا-یہ واقعہ اتنا بڑا تھاکہ اُس وقت کے انگریز جنرل نے انتہائی خوشی کے عالم میں کہا تھا کہ — آج انڈیا ہمارا ہے(Today India is ours)-

اِس کے بعد رفتہ رفتہ تمام مسلم ملکوں میں مغربی طاقتوں کا دبدبہ قائم ہوگیا- عین اُسی زمانے میں مسلم دنیا میں جوابی تحریکیں شروع ہوئیں- عرب سے عجم تک ہر جگہ مسلم رہنماحرکت میں آگئے- اِن تمام مسلم رہنماؤں کا مشترک نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ تھا مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ (past glory) کو واپس لانا- یہ جدوجہد انیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی- اب وہ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے، لیکن نتیجہ (result)کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم رہنماؤں کی کوشش نے صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کیا، وہ کسی بھی درجے میں اپنے مطلوب نشانے کو پورا نہ کرسکے-

دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسئلہ پیداہوا، اس کے مقابلے میں کامیاب منصوبہ بندی کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ مسئلے کی نوعیت کو دریافت کیا جائے- مگر اِس دور کے مسلم رہنما اِس پہلو سے مکمل طورپر بے خبر رہے- اپنے روایتی ذہنی کے مطابق، انھوںنے اِس مسئلے کو دشمن کے حملے کے مقابلے میں، دفاع کا مسئلہ سمجھا، حالاں کہ وہ بدلےہوئے حالات میں نئے اجتہادکا مسئلہ تھا- نوعیتِ مسئلہ کی دریافت میں مسلم رہنماؤں کی ناکامی نے اُن کی جوابی کارروائی کو مکمل طورپر ایک غیرمتعلق کارروائی کا درجہ دے دیا- نتیجہ یہ ہوا کہ دو سوسال کی جان ومال کی عظیم قربانی کے باوجود نتیجہ (result) کے اعتبار سے، امتِ مسلمہ کو کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا-

دورِ جدید میں جو اجتہاد درکار تھا، وہ بنیادی طورپر وہی تھا جس کو ’فرقان‘ (8:29) کہاگیا ہے، یعنی ایک معاملے کو دوسرے معاملے سے الگ کرنا- امتِ مسلمہ کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- یہی وہ کام ہے جس کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ امتِ مسلمہ اس کو ہرحال میں جاری رکھے- اِس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سیاسی اقتدار کہاجاسکتا ہے- دعوت الی اللہ، امتِ مسلمہ کا مشن ہے، اور سیاسی اقتدار، امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے- موجودہ زمانے میں مسلمان جس بحران کا شکار ہوگئے تھے، اس کا واحد حل یہ تھا کہ مشن اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے، مگر ہمارے رہنما بروقت یہ کام نہ کرسکے- نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلسل طورپر بحران کی حالت میں پڑی رہی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں بہت سے نئے امکانات پیدا ہوئے تھے- یہ امکانات یا مواقع اسلام کے مشن کے اعتبار سےبے حد مفید تھے- مگر مسلم رہنماؤں پر سیاسی ذہن کا اتنا غلبہ تھاکہ وہ اِن غیر سیاسی مواقع کو دیکھ \نہ سکے- وہ دوسری قوموں سے بے فائدہ سیاسی لڑائی لڑتے رہے اور جدید مواقع کو دعوتی مشن کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے-

اِس معاملے کی ایک متوازی مثال یہ ہے کہ عین اسی زمانے میں مسیحی چرچ بھی عین اِسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوا- مسیحی چرچ جس کا مرکز روم تھا، وہ قدیم زمانے میں تقریباً پورے یورپ میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا- اُس زمانے میںپوپ (pope)یورپ کا پولٹکل ماسٹر بنا ہوا تھا-

اس زمانے میں یورپ کے سائنس دانوں نے طبیعی دنیا میں نئی حقیقتیں دریافت کیں- یہ دریافتیں مسیحی طرز کے روایتی عقائد سے ٹکراتی تھیں- چناں چہ سائنس دانوں اور مسیحی چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ شروع ہوگیا- اِس تصادم کی تفصیل اِس کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

History of the Conflict Between Religion and Science by William Draper

other sourceWords of another person or source

اِس مسئلے میں مسیحی چرچ نے حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کیا- وہ چرچ اور اسٹیٹ کی عملی علاحدگی پر راضی ہوگئے- مگر یہ علاحدگی سادہ طور پر مذہب اور سیاست کی علاحدگی کے ہم معنی نہ تھی، بلکہ وہ سیاسی محدودیت کے ہم معنی تھی- دوسرے لفظوں میں یہ کہ پوپ مسیحی ایمپائر کا رقبہ گھٹا کر اس پر راضی ہوگیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک چھوٹے رقبے تک محدود رہے، جس کو ویٹکن (Vatican) کہاجاتا ہے- ویٹکن پورے معنوں میں ایک خود مختار ریاست ہے- اس کا اپنا آزادانہ نظام ہے- ہر ملک میں اس کے سفارت خانے قائم ہیں-

ویٹکن کی صورت میں ایک محدود مسیحی ریاست کا یہ قیام 1929 میں پیش آیا- یہ معاملہ مسیحی پوپ اور حکومتِ اٹلی کے درمیان ایک معاہدہ کے ذریعے انجام پایا- اِس معاملے کو لیٹران معاملہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے- اِس معاہدے پر حکومت اٹلی کی طرف سے اُس وقت کے پریمیر (premier)مسولینی (Benito Mussolini)نے دستخط کئے تھے، اور مسیحی چرچ کی طرف سے کاردینال گاسپیری (Cardinal Gasparri) نے اپنے دستخط کئے تھے-اِس معاہدے کے ذریعے مسیحی چرچ نے اپنی حیثیت کو بدستور برقرار رکھا- یہ بلاشبہہ ایک دانش مندانہ تدبیر تھی جو اُسی قسم کے ایک تخلیقی فکر پر مبنی تھی جس کو اجتہاد کہاجاتاہے- بدقسمتی سے، موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اِس قسم کا اجتہاد نہ کرسکے- چناں چہ موجودہ زمانے میں انھوں نے صرف ناکامی کی تاریخ بنائی، وہ کامیابی کی تاریخ نہ بناسکے-

موجودہ زمانے میں اِسی قسم کے ’’فرقان‘‘ کا ایک واقعہ سیکولر اعتبار سے پیش آیا- اِس واقعے کا تعلق چین (China) سےہے- چین میں 1919 سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے- کمیونسٹ پارٹی نے اپنے نظریے کے مطابق، وہاں اسٹیٹ اکانمی (state economy) کا نظام قائم کررکھا تھا- اِس نظام کے تحت چین کی اقتصادی ترقی رک گئی تھی-

چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک رکن ڈینگ زیوپنگ (Deng Xiaoping) تھا- پہلے اس نے روس میں تعلیم پائی- اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے فرانس گیا- فرانس کے قیام کے دوران اُس نے دیکھا کہ فرانس میں اقتصادی ترقی ہورہی ہے، لیکن چین اُس قسم کی ترقی سے محروم ہے- فرانس سے واپسی کے بعد ڈینگ زیوپنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا چیر مین بن گیا- اس کے بعد اس نے ایک انقلابی کام کیا- اس نے چین میں سیاست اور اقتصادیات کے درمیان علاحدگی کا اصول رائج کیا- اس نے یہ کیا کہ سیاسی اقتدار پر کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ باقی رکھتے ہوئے اقتصادیات کو مکمل طور پر آزاد کردیا- اِس دانش مندانہ تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں اقتصادی ترقی کا دروازہ کھل گیا- آج یہ حال ہے کہ امریکا کے بعد چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکانمی سمجھا جاتاہے-(2012)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content