Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2008
Al-Risala november 2008

سچا عمل، سچی دعا

Urdu · 2 min read

ہر انسان جو اِس دنیا میں پیدا ہوتاہے، وہ بہر حال ایک مختصر مدت کے بعد مرنے والا ہے۔ اِس کے بعد ہر عورت اور ہر مرد کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اِس کے بعد خدا ہر ایک کے ابدی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ یہ ابدی مستقبل، یا تو جنت کی صورت میں ہوگا، یا جہنم کی صورت میں۔ اِس معاملے کو نجات (salvation) کہاجاتا ہے۔

یہ نجات اُن لوگوں کو ملے گی جو خدا کے یہاں اِس حال میں پہنچیں کہ اُن کے پاس دو میں سے کوئی ایک چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہو۔وہ دو چیزیں یہ ہیں— سچا عمل، یا سچی دعا۔ سچا عمل وہ ہے جو خالص رضائِ الٰہی کے لیے کیا جائے۔ اور سچی دعا وہ ہے جو کامل عجز کی سطح پر کی گئی ہو:

The criterion of true ‘amal’ is that it is performed purely for the sake of God. And the criterion of true ‘dua’ is that it is performed with a sense of total helplessness.

سچے عمل کی توفیق اس کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو منافقت سے کامل طورپر پاک کرے، جس کے قول اور جس کے عمل میں کوئی فرق باقی نہ رہے، جو اپنے آپ کو کم زور شخصیت (weak personality) بننے سے بچائے، جس کے لیے اس کا عمل اس کی پوری شخصیت کا اظہار بن جائے۔

اِسی طرح، سچی دعا کی توفیق اُس انسان کو ملتی ہے جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی دے کہ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے مقابلے میں، اپنے عجزِ کامل کو دریافت کرے۔ شعور کی اِسی سطح پر پہنچ کر کسی کو وہ دعا حاصل ہوتی ہے جس کو سچی دعا کہاجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سچی دعا اور سچا عمل دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ سچی دعا میں سچا عمل شامل ہے، اور سچا عمل ہمیشہ سچی دعا کی زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے، سچے عمل اور سچی دعا کو ایک دوسرے الگ نہیں کیا جاسکتا۔سچا عمل دراصل، حقیقی عمل کا دوسرا نام ہے۔ اور سچی دعا حقیقی دعا کا دوسرا نام۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.