Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2008
Al-Risala november 2008

ربانیت، رہبانیت

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 57 میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں نے بعد کے زمانے میں رہبانیت کا طریقہ اختیار کرلیا، جس کی تعلیم ان کو پیغمبر کے ذریعے نہیں دی گئی تھی (الحدید: 27 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رہبانیت (monasticism) کیا ہے۔ رہبانیت دراصل، خدا کی طلب میں دنیا کو چھوڑنے کا نام ہے۔ اِسی لیے ایسے افراد کو تارک الدنیا کہا جاتا ہے۔ رہبانیت کا فلسفہ یہ ہے کہ ترکِ دنیا سے خدا کی قربت حاصل ہوتی ہے۔اِسی ذہن کے تحت لوگوں نے وہ طریقے ایجاد کیے جن کو تجرد اور میڈی ٹیشن اور مراقبہ، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اِسی ذہن کی انتہا پسندانہ صورت یہ ہے کہ آدمی انسانی آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلاجائے اور وہاں وہ روحانی ورزشوں کے ذریعے خدا کی قربت تلاش کرے۔ اِسی کے اثر سے، مسلمانوں کے اندر تصوف یا صوفی ازم کا نظریہ پیدا ہوا۔

اسلام میں اِس قسم کی رہبانیت نہیں (لارَہبانیّۃَ فی الإسلام۔مسند احمد، جلد 6، صفحہ 226)۔ اسلام کی رہبانیت فکری رہبانیت ہے، نہ کہ جسمانی یا مقامی رہبانیت، یعنی ذکر و فکر کی سطح پر خدا سے تعلق قائم کرنا، دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو کر زندگی گزارنا۔ اِسی کو قرآن میں ربانیت (آلِ عمران: 79) کہاگیا ہے، یعنی خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے (الملک: 2 )۔ یہاں ملنا بھی آزمائش ہے اور نہ ملنا بھی آزمائش۔ اسلامی رہبانیت یہ ہے کہ آدمی کی سوچ اتنی بلند ہوجائے کہ وہ دونوں حالتوں پر یکساں طورپر راضی رہے، وہ منفی تجربات کو بھی مثبت تجربے میں تبدیل کرسکے، وہ دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طورپر آخرت کا طالب بن جائے، وہ انسانوں کے درمیان اِس طرح رہے کہ ہر چیز اُس کو خدا کی یاد دلانے والی بنی ہوئی ہو۔ ایسے افراد کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (الفجر:27 ) کہاگیا ہے، اوریہی وہ نفوس ہیں جن کو آخرت کی دنیا میں خدا کا پڑوس ملے گا۔ وہ جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ راحتوں اورخوشیوں کی زندگی گزاریں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content