Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2008
Al-Risala november 2008

اشجارِ ممنوعہ کا جنگل

Urdu · 2 min read

خدا نے جب انسانِ اوّل آدم کو پیدا کیا تو اُن کو ابتداء ً ایک جنت (باغ) میں بسایا گیا۔ اُن سے کہا گیا کہ یہاںتم آزادی کے ساتھ رہو، لیکن تم فلاں درخت کے پاس نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا (البقرۃ: 35)۔ یہ آدم کی ابتدائی قیام گاہ کا شجر ِ ممنوعہ تھا، مگر قرآن کے بیان کے مطابق، آدم صبر نہ کرسکے اور انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا (طٰہٰ: 121)۔ اِس کے نتیجے میں وہ جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بھیج دیے گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم جہاں تک آزمائش کا تعلق ہے، وہ بدستور باقی ہے، البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ ابتدائی جنت میں ایک شجرِ ممنوعہ تھا، جب کہ موجودہ زمین پر اشجارِ ممنوعہ کا ایک جنگل اگا ہوا ہے۔ جنت کی طرف انسان کی دوبارہ واپسی اِسی شرط پر ہوگی کہ وہ ممنوعہ درخت کا پھیل نہ کھائے۔ انسان کو اِس شرط پر پورا اترنے کے لیے بہت زیادہ محتاط (cautious) بننا ضروری ہے۔ کیوں کہ پہلے اگر ایک درخت سے دور رہنا تھا، تو اب درختوں کے جنگل سے دور رہنا اس کے لیے ضروری ہے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو جن حرام چیزوں سے بچنا ہے، ان کی ایک فہرست وہ ہے جو باقاعدہ نام کے ساتھ قرآن اور حدیث میں دے دی گئی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ایسی چیزوں کی فہرست بہت لمبی ہوگئی ہے جو انسان کو بھٹکانے والی اور اس کو صراطِ مستقیم سے دور کردینے والی ہیں۔

اِن ممنوعہ چیزوں کی کوئی کامل فہرست نہیں دی جاسکتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نہایت ہوش مندی کے ساتھ دنیا میں رہے اور جب بھی اس کے سامنے کوئی ایسی چیز آئے جو اس کے لیے صراطِ مستقیم سے انحراف (distraction) کا ذریعہ بننے والی ہو، تو وہ اس کو پہچان لے اور اس سے کامل طورپر دور رہے۔

اِس دنیا میں ہر وہ چیز شجر ِممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے جو آدمی کو خدا کی یاد سے ہٹائے اور آخرت کی پکڑ سے اس کو غافل کردے۔ جو آدمی اپنا محاسب آپ بنے، وہی اِن اشجارِ ممنوعہ سے بچ سکتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content