Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala november 2008
Al-Risala november 2008

آنے والا کل

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 75 کی ایک آیت یہ ہے: کلّا بل تحبّون العاجلۃ، وتذرون الآخرۃ (القیامۃ: 20-21) یعنی ہرگز نہیں، بلکہ اصل یہ ہے کہ تم عاجلہ سے محبت کرتے ہو، اور تم آخرت کو نظر انداز کیے ہوئے ہو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Nay, but you love the present life, and neglect the hereafter.

Qur'anQuotes the Qur'an

کوئی انسان جب پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، تو وہ دیکھتا ہے کہ اِس دنیا میں ہر طرف اس کے لیے مختلف قسم کے مواقع (opportunities) موجود ہیں۔ وہ اِن مواقع کو استعمال کرنے کے لیے اُن کے اوپر ٹوٹ پڑتا ہے، ٹھیک اُسی طرح جیسے کوئی جانور ہری گھاس کو دیکھ کر اس کے اوپر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اِن مواقع کے ذریعے وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرلے۔

یہ سب سے بڑی بھول ہے، جس میں ہر انسان مبتلا ہے۔ موجودہ دنیا کے مواقع اِس لیے نہیں ہیں کہ اُن کے ذریعے صرف وقتی قسم کے دنیوی فائدے حاصل کیے جائیں، بلکہ یہ مواقع اِس لیے ہیں، تاکہ انسان اُن کی مدد سے وہ اعلیٰ کام کرے، جو آخرت میںاُس کے لیے مفید بننے والا ہو۔ مثلاً کسی کے پاس مال ہے تو وہ اِس لیے نہیں ہے کہ وہ اُس کے ذریعے اپنی خواہشوں کو پورا کرے۔ وہ سماج کے اندر اپنے اسٹیٹس (status) کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔ وہ اعلیٰ معیار کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ بلکہ مال کا صحیح مصرف یہ ہے کہ — بقدر ضرورت وہ اس کو اپنے پاس رکھے، اور بقیہ مال کو وہ خدا کی راہ میں خرچ کرے۔ مثلاً دعوت الی اللہ کا کام۔

موجودہ دنیا عارضی ہے، اور بعد کو آنے والی دنیا ابدی۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ عارضی دنیا کی ترقی اور خوش حالی میں لگا دیتا ہے، لیکن آخرت کی ابدی زندگی کے معاملے کو وہ اِس طرح چھوڑے ہوئے ہوتا ہے، جیسے کہ وہ کبھی پیش آنے والا ہی نہیں۔دانش مند وہ ہے جو آخرت کی فکر میں جیے، اور نادان وہ ہے جو آخرت کی فکر سے غافل ہوجائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content