Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala November 2005
Al-Risala November 2005

یہ نمبر موجود نہیں!

Urdu · 3 min read

آپ اگر اپنے ٹیلی فون پر کسی شخص کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جائے تو آپ کی کال مطلوب شخص تک نہیں پہنچے گی۔ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آوازنہیں آئے گی بلکہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت یہ ہوگا کہ ٹیلی فون ایکسچینج سے ریکارڈ کی ہوئی ایک آواز سنائی دے گی۔ ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۰۴ کو میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میںنے اپنے ٹیلی فون پر دہلی کے ایک صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے یہ آواز سنائی دی—یہ نمبر موجود نہیں:

This number does not exist.

ایکسچینج کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان بَرپا ہوگیا۔ میںنے سوچا کہ اس مادی واقعہ میں ایک بہت بڑا روحانی سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی انسان خدا سے ربط قائم کرنا چاہے اور وہ اپنے غلط ذہن کی بنا پر خدا کے سوا کسی اور کو اپنا خدا سمجھ بیٹھے اور خدا سمجھ کر اس کو پکارنے لگے تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کہ براہِ راست خدا کی طرف سے تو اس کو کوئی جواب نہیں ملے گا۔ البتہ ایک اور آواز اس کو سنائی دے گی جو اس سے کہہ رہی ہوگی کہ تم نے جس خدا کو پکارا ہے وہ خدا سرے سے موجود نہیں:

This God does not exist

خدا کی طلب انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طورپر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے یہ غلطی کی کہ خدا کے سوا کسی اور کو خدا کا درجہ دے دیا۔حقیقی خدا سے رشتہ قائم ہونا انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس عورت یا مرد کا رشتہ خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس کی زندگی میں ہدایت کی روشنی آجائے گی۔ اس کے اندر روحانی شخصیت پیدا ہوگی۔ اس کو ذہنی ارتقاء کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص کسی غیرِ خدا کو خدا کا درجہ دے دے وہ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی خدا کا نام لیتا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کو خدا کا درجہ دے کراس کو اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جہاں تک روحانی شخصیت کا تعلق ہے، اس کا حقیقی معنوں میںکہیں وجود نہیں۔ اس کا سبب واضح طورپر یہی ہے کہ لوگ غیرخداؤں کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں۔وہ کسی نہ کسی غیر خدا کو ٹیلی فون کررہے ہیں۔ مگر جواب میں ہر ایک کے پاس یہ آواز آرہی ہے کہ جو نمبر تم نے ڈائل کیا ہے وہ نمبر موجود نہیں، جس کو تم خدا سمجھ کر پکاررہے ہو اس خدا کا کہیں وجود ہی نہیں، اس لیے تم کو اس کی طرف سے کوئی جواب بھی ملنے والا نہیں۔

ہر آدمی کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے ربط قائم کرنے کا ذریعہ اس کے لیے کیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسانی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے، یہی انسان کی جدوجہد کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلاشبہہ سب سے بڑا مفلس ہے، خواہ بظاہر اس نے مادی چیزوں کا ڈھیر اپنے گرد اکھٹا کرلیا ہو۔

خدا کی دریافت سے مُراد بَرتَر سچائی (higher truth) کی دریافت ہے۔ اور اس بَرتَر سچائی کی دریافت اور اس سے تعلق قائم کرنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی کو با معنٰی بناتی ہے۔ یہ دریافت نہیں تو زندگی بامعنٰی بھی نہیں۔

مزید سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ موقع صرف قبل ازموت مدت حیات میں ملتا ہے۔ بعد ازموت کی مدت حیات میں کسی انسان کو یہ موقع ملنے والا نہیں۔ انسان کے لیے اُس کے خالق کا بنایا ہوا قانون یہ ہے—موت سے پہلے کی زندگی میں کرنا، اور موت کے بعد کی زندگی میں اُس کا انجام پانا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.