Maulana Wahiduddin Khan
20 min left
0:00

← Al-Risala May 2022
Al-Risala May 2022

ڈائری 1986

Urdu · 20 min read

1 جنوری1986

آج جناب دانیال لطیفی صاحب ایڈوکیٹ (پیدائش 1917) ہمارے دفتر(نظام الدین ویسٹ ،نئی دہلی )میں آئے۔ان سے بہت ہی دلچسپ قانونی باتیں معلوم ہوئیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ کوئی اچھے سے اچھا وکیل بھی ایک سچے گواہ کو توڑ نہیں سکتا۔بشرطیکہ وہ صرف وہی کہے جو اس نے دیکھا ہے۔ وہ اس پر نہ ایک لفظ بڑھائے اور نہ ایک لفظ گھٹائے۔اس سلسلے میں کچھ واقعات بھی انہوں نے بتائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر انہوں نے ایک لطیفہ بتایا کہ برطانیہ کورٹ نے ایک مجرم کے لیے سولی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بارے میں کورٹ کے الفاظ یہ تھے

He shall be hanged

مجسٹریٹ نے فیصلہ دیکھا تو اس نے کہا کہ میں اس کو سولی نہیں دے سکتا۔کیونکہ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ’’ اس کو لٹکا دیا جائے‘‘ مگر یہ نہیں بتایا کہ کیسے۔اب میں اس کو سر کی طرف سے لٹکاؤں یا پاؤں کی طرف سے۔اس طرح کے واقعات مختلف ملکوں کی عدالتوں میں پیش آئے۔چنانچہ قانون کے الفاظ زیادہ مکمل کیے گئے۔دانیال لطیفی صاحب سے میں نے کہا کہ ان الفاظ کو لکھ دیجیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دانیال لطیفی صاحب کو ایک کیسٹ ’’جدید امکانات‘‘ دیا گیا تھا۔ آج شام کو ان کا ٹیلی فون آیا کہ انہوںنے اس کیسٹ کو دوبار سنا۔ان کو یہ کیسٹ بہت پسند آیا۔اس بار ان کو ’’حل یہاں ہے‘‘ پڑھنے کے لیے دی گئی ہے۔

ابو الطیب احمد بن الحسین المتنبی (وفات 965ء)عربی زبان کا ایک نامور شاعرہے۔ اس کے اشعار حکمت اور فلسفۂ حیات کے لیے مشہور ہیں۔آج دہلی میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ان سے میں نے یہ کہا کہ زندہ قوم کے افراد میںا عتراف کی صفت ہوتی ہے، اور زوال یافتہ قوم کے افراد میں اعتراف کی صفت کا فقدان ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے کچھ مثالیں دیں۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے۔اس کے بعد انہوں نے متنبی کا ایک شعر پڑھا جو یہ تھا— اگر تم شریف کو عزت دو تو تم اس کو اپنا غلام بنا لوگے۔ اور اگر تم کمینہ آدمی کو عزت دو تو وہ سرکشی کرے گا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

إِذَا أَنْتَ أَکْرَمْتَ ‌الکَرِیْمَ مَلَکْتَہُ وَإِنْ أَنْتَ أَکرَمْتَ ‌اللَّئِیْمَ ‌تَمَرَّدَا

مسٹر بھیکا رام (پیدائش1942ء) یو پی اسمبلی میں ایم ایل اے ہیں۔ وہ آج صبح کو ہمارے دفتر میں آئے۔ ان کے ہمراہ ان کے ساتھی نذرالاسلام صاحب بھی تھے۔ان سے بڑی مفید باتیں ہوئیں۔

مسٹربھیکا رام نے کہا کہ میرے نزدیک مذہب کی اصل تعلیم یہ ہے کہ سب انسان برابر ہوں۔ہر قسم کی اونچ نیچ ختم ہو اور ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان نفرت نہ رہے۔انھوںنے کہا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے اور اگر اس ملک میں سچا اسلام پیش کیا گیا ہوتاتو آج ہمارا ملک مسلمان ہوتا۔یہاں وہ سب جھگڑے موجود ہی نہ ہوتے جو اب دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ ہندی زبان میں اسلام کا مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو ’’انسان اپنے آپ کو پہچان‘‘ کا ہندی ترجمہ بطور تحفہ دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے مسٹر بھیکا رام سے مزید پوچھا کہ اپنا کوئی خاص تجربہ (انوبھو) بتایئے۔انہوںنے کہا کہ لالچ اور ذاتی فائدہ کو چھوڑ کر سبھی لوگوں کے بارے میں سوچنا،سب کے فائدے کو سامنے رکھ کر سوچنا یہی کامیابی کا راز ہے۔آپ لالچ کو تیاگ دیں، تبھی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4جنوری 1986

ایک مسلمان لیڈر دہلی آئے اور مجھ سے ملے(نام بتانا مناسب نہیں) ۔ ان کے پاس انگریزی زبان میں تیار شدہ ایک میمورنڈم تھا۔اس کی ایک نقل انہوں نے مجھے دی۔یہ میمورنڈم وہ وزیراعظم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔اس میمورنڈم میں مسلمانو ں کی معاشی پسماندگی کا تذکرہ تھا۔اس کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمان چونکہ معاشی دوڑ میں ملک کے اکثریتی فرقہ سے پیچھے ہو گئے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس وقت تک خصوصی رعایت دی جائے جب تک کہ وہ معاش کے میدان میں اکثریتی فرقہ کے برابر نہ ہو جائیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مذکورہ لیڈر صاحب کو میں پہلے سے جانتا تھا۔مجھ کو معلوم ہے کہ ان کا اپنا بزنس ہے اور ان کےپاس کرائے کے مکانات ہیں۔ان سب سے انھیں (1986ء میں )کم از کم دس ہزار روپے ماہوار آمدنی ہوتی ہے۔جب کہ انھیں لیڈر صاحب کے ایک سگے بھائی ہیں جو مہینہ میں بمشکل پانچ سو روپے کماتے ہوں گے۔میں نے لیڈر صاحب سے کہا کہ آپ کے فلاں سگے بھائی معاش کے اعتبار سے آپ سے پیچھے ہو گئے ہیں۔اس لیے آپ ایسا کریں کہ اپنی آمدنی کا نصف حصہ ہر ماہ اپنے بھائی کو دیتے رہیں،یہاں تک کہ وہ معاشی اعتبار سے آپ کے برابر ہو جائیں۔

یہ سن کر مذکورہ لیڈر ہنسنے لگے۔ ان کی ہنسی کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔میں نے کہا آپ پر تعجب ہے کہ جو رعایت آپ اپنے سگے بھائی کے ساتھ نہیں کر سکتے ہیں، جو کہ مسلمان بھی ہے، اسی رعایت کا مطالبہ آپ مسلمانوں کے لیے ایک نان مسلم وزیر اعظم سے کرنے جا رہے ہیں۔

ہماری مسلم قیادت آج سب سےزیادہ جس چیز سے بے خبر ہے وہ یہ کہ موجودہ دنیا رعایتوں کی دنیا نہیں،بلکہ مقابلے کی دنیا ہے۔رعایتوں کو تلاش کرنے والا اس دنیا میں اپنے لیے کچھ نہیں پاسکتا۔ ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں کو مذکورہ قسم کے جھوٹے نعروں میں نہ الجھائیں ،بلکہ انھیں صاف طور پر بتائیں کہ تم مقابلہ کی دنیا میں ہو۔یہاں تم اہلیت کا ثبوت دے کر پا سکتے ہو۔ اگر تم اہلیت کا ثبوت نہ دے سکو تو یہاں تم کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔

شاہ واصف امام صاحب (پٹنہ) اپنے کسی کام سے دہلی آئے تھے۔وہ آج مجھ سے ملنے کے لیے ہمارے مرکز (نظام الدین ویسٹ،نئی دہلی) میں آئے۔وہ دو سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں اور اردو اور انگریزی دونوں رسالوں کی ایجنسی بھی چلا رہے ہیں۔ان کو میں نے دو کتابیں ہدیۃً دیں— ’’حقیقت کی تلاش ‘‘اور ’’حل یہاں ہے‘‘۔

ان سے میں نے پوچھا کہ ’’الرسالہ‘‘ سے آپ کو کیا ملا۔انہوں نے اس کے جواب میں جو کچھ کہا وہ انھیں کے الفاظ میں یہ تھا’’الرسالہ کے مطالعہ سے پہلے میں کسی شہر کو دیکھ کر اس کے بنانے والے انسانوں کی عظمت میں گم ہو جاتا تھا۔لیکن الرسالہ کے مطالعہ کے بعد یہ حال ہے کہ میں شہر بنانے والے انسانوں کے خالق کی عظمت میں گم رہتا ہوں۔میں سوچنے لگتا ہوں کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم ہے جس نے انسان کو یہ صلاحیت دی‘‘۔انہوںنے مزید کہا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں شاہ واصف امام ہوں۔اب میں سمجھتا ہوں کہ میں رب کا بندہ ہوں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ آج ہزاروں لوگ ہیں جن کے اندر الرسالہ پڑھنے کے بعد اس قسم کا ذہن بنا ہے۔اللہ تعالیٰ الرسالہ کی آواز کو مزید پھیلائے اور اس کو دنیا کی ہر زبان میں پہنچانے کا انتظام فرمائے۔

تقریباً روزانہ ایسے خطوط آتے ہیں یا ایسے افراد سے ملاقات ہوتی ہے جو اس قسم کے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔مسلمانوں کے قائدین نے اگرچہ ابھی الرسالہ کی آواز کو اہمیت نہیں دی ہے۔مگر غیرقائدین میں الرسالہ کی آواز بہت بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اور روزانہ پھیل رہی ہے۔تاہم اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔حق کی بے آمیز دعوت کے ساتھ ہمیشہ یہی صورت حال پیش آئی ہے۔

ایک مسلمان بزرگ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔انہوں نے بیٹھتے ہی کہا’’مطلقہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں ہندوستان کی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ شریعت میں جارحانہ مداخلت ہے۔ آپ اس کے خلاف کیوں نہیں لکھتے‘‘۔موصوف کی مراد شاہ بانو بیگم-محمد احمد اندوری کے مقدمہ سے تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ آپ سب سے پہلے اپنے جملے کو صحیح کیجیے۔یہ جملہ میرے نزدیک صحیح نہیں۔اصل بات جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون(شاہ بانو بیگم) ہندوستانی عدالت میں گئیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے فلاںملکی قانون کے تحت میرے شوہر سے گزارہ (maintenance) دلوایا جائے۔عدالت نے معاملے کی تفصیلی سماعت کے بعد مسلم خاتون کے دعویٰ کو تسلیم کیا اور خاتون کے اپنے مطالبے کے مطابق فیصلہ دیا کہ مدعا علیہ ان کو 180 روپے ماہوار ادا کرے۔

اس کو آپ عدالت کی جارحیت نہیں کہہ سکتے، کیونکہ جارحیت کرنے والا وہ ہوتا ہے جو اقدام کرے۔اس معاملے میں عدالت نے اپنی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ وہ کوئی اقدام کر سکتی تھی۔اس معاملے میں اگر جارحیت ہوئی ہے تو وہ سراسر مسلم خاتون کی طرف سے ہوئی ہے۔یہ مسلم خاتون(شاہ بانو بیگم) تھیں جنہوں نے بطور خود عدالت میں جاکر مقدمہ پیش کیا اور عدالت سے کہا کہ وہ ان کو ملکی قانون کے تحت مذکورہ رقم دلوائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عدالت کو جارح قرار دینا اپنی غلطی کو دوسرے کے اوپر ڈالنا ہے۔اگر آپ کو اسلام کا درد ہے تو آپ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کی اصلاح کیجیے۔ان کے اندر یہ ذہن بنایئے کہ وہ اپنے ذاتی جھگڑوں کو عدالت میں نہ لے جائیں، بلکہ کسی کو ثالث (mediator) بناکر آپس میں بیٹھ کر سلجھائیں۔مدینہ کے منافقین اپنے جھگڑے یہودیوں کی عدالت میں لے جاتے تھے تو قرآن نے خود منافقین کو ملزم ٹھہرایا، نہ کہ یہودی عدالت کو(4:60)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پاکستان کے ایک صاحب ملاقات کے لیے تشریف لائے۔وہ مکتبہ اسحاقیہ(کراچی) کے مالک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے انڈین ایئر لائنز میں سفر کیا۔میں نے دیکھا کہ پاکستانی لوگ فیاضی کے ساتھ جہاز کے اندر شراب خرید رہے ہیں۔ حالاں کہ پاکستان میں شراب پر پابندی ہے۔

یہی حال ان تمام مسلم ملکوں کا ہے جہاں اسلامائزیشن کی نام نہاد تحریک چل رہی ہے۔کاغذ پر اور تقریروں میں اسلام کی دھوم ہے، مگر عملاً پورا معاشرہ اسلام کے خلاف چل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک معاشرے کے افراد میں آمادگی پیدا نہ ہو جائے اسلامی قانون کا نفاذ ایک بے نتیجہ کام ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق، اسلامی کام کا آغاز قلب ودماغ پر اسلام کے نفاذ سے ہوتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)، نہ کہ حکومت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ نفاذِاسلام کا قانون بنا کر اسے بزور نافذ کرنے کی کوشش کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب ملنے کے لیے آئے۔انہوںنے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک عالم آئے تھے۔ انہوں نے سورہ العصر کی تفسیر بیان کی۔اس میں انہوںنے کہا کہ اللہ نے اس سورہ میں یہ فرمایا ہے

’’اے نبی! لوگوں کو بتا دو کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے محمد کو دے دیا۔اب جس کو لینا ہے وہ تمہارے پاس آ کر لے۔ میرے پاس اب کچھ نہیں‘‘۔

other sourceWords of another person or source

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے خدا کی کتاب میںکیا کیا تحریفات کی ہیں۔وہ قرآن کے’’متن‘‘ میں تو کوئی اضافہ نہ کر سکے،مگر انہوںنے قرآن کے حاشیے میں وہ سب کچھ لکھ دیا جو پچھلی امتوں نے’’متن‘‘ میں لکھا تھا۔

مسلمانوں نے اگر قرآن کے متن میں کوئی تحریف نہیں کی تو اس کا انھیں کوئی انعام ملنے والا نہیں۔کیونکہ متن میں تحریف سے تو ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔پھر وہ متن میں تحریف کرتے تو کیسے کرتے۔وہ صرف حاشیے میں تحریف کر سکتے تھے اور یہ کام انہوںنے اتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا ہے جتنا پچھلی قوموں نے اس سے پہلے متن میں کیا تھا۔

9جنوری 1986

ایک مسلمان بزرگ نے ایک ہندی کتاب کا ذکر کیا۔جو بچوں کے نصاب میں داخل ہے۔انہوںنے بتایا کہ اس میں تغلق بادشاہ پر ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں یہ الفاظ ہیں

’’تغلق تھا تو مسلمان، مگر تھا بڑا دیالو‘‘

مذکورہ مسلمان بزرگ نے شکایت کی کہ نصاب کی کتاب میں اس طرح کی باتیں شامل کرکے نہایت منصوبہ بند طریقے سے بچوں کا ذہن بگاڑا جا رہا ہے کہ مسلمان وحشی اور خونخوار ہوتے ہیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

میں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں بلکہ خود مسلم قوم پر ہے۔مسلمانوں نے اپنی یہی تصویر بنائی ہے تو دوسرے لوگ اس کے سوا مسلمانوں کو اور کیا سمجھیں۔میں نے کہا کہ آپ کے ایک بڑے ملی شاعر نے فخر کے ساتھ کہا ہے

تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

پھر جب خود آپ کا نمائندہ یہی کہہ رہا ہو تو دوسرے لوگ اس کے سوا کچھ اور کیسے کہہ سکتے ہیں۔ ایک اور صاحب ان کے ساتھ تھے۔انہوںنے کہا کہ انگریز مؤرخین نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ذہنوں کو بگاڑا ہے۔مثلاً ہندوستان کی ایک انگریزی تاریخ میں تین دور کے لیے اس طرح مختلف الفاظ لکھے گئے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Advent of Aryans

Invasion of Muslims

Influence of the British

یعنی آریہ کی آمد، مسلمانوں کا حملہ اور برطانیہ کے اثرات۔

10جنوری1986

کہا جاتا ہے کہ خدا کے 99 نام ہیں۔لوگ ان ناموں کو یاد کرکے ان کا ورد کرتے ہیں۔مگر یہ نام محض نام نہیں،وہ دراصل خدا کی صفتیں ہیں۔خدا ایک ہے، اس لیے اس کا نام بھی حقیقتاً ایک ہے۔مگر اس کی صفتیں بے شمار ہیں۔ایک حدیثِ رسول کے مطابق، اللہ کے 99 سے زیادہ نام ہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 3712)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میںنے خدا کی بعض ایسی صفتیں دریافت کی ہیں جو میری اپنی دریافت ہیں، جن کو میں نے اس سے پہلے کتابوں میں نہیں پڑھا تھا۔

مثلاً میںایک باروسیع خلا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں خدا کی ایک نئی صفت دریافت کر رہا ہوں۔اس صفت کو self-confidenceکہہ سکتے ہیں۔یعنی خوداعتمادی۔ وسیع خلا میں اتنے بے شمار اجرام کو متحرک کرنا ایک بے حد نازک کام تھا۔خدا نے اتنی بڑی کائنات بنائی اور دوسری طرف انسان کو آنکھ دے دی کہ وہ دیکھے کہ کیا وہ اس میں کوئی بدنظمی یا انتشار پاتا ہے؟غیر معمولی سیلف کانفیڈنس کے بغیر اتنا بڑا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح میں نے ایک روز خدا کی ایک اور صفت دریافت کی۔اور وہ ہےپرفکشنسٹ ہونے کے باوجود امپرفکشن سے ڈسٹرب نہ ہونا۔

میرا اپنا یہ خیال ہے کہ مجھے دھوئیںسے چکر آ جاتا ہے۔شور سے میرا ذہن منتشر ہو جاتا ہے۔گندگی کا دیکھنا میں برداشت نہیں کر پاتا۔اسی لیے موجودہ دنیا مجھے وحشت خیز چیز معلوم ہونے لگی ہے۔مگر خدا کامل اختیار کے باوجود انسانوں کی تمام خرافات کو گوارا کیے ہوئے ہے۔خدا حددرجہ معیار پسند ہونے کے باوجود مسلسل طور پرغیر معیاری چیز کو دیکھتا ہے اور وہ ڈسٹرب نہیں ہوتا۔کیسا عجیب قدرت والا ہے خدا۔

11جنوری1986

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔انھیں الرسالہ کے بارے میں یہ شکایت تھی کہ اس میں مسلمانوں پر تنقید ہوتی ہے۔انہوںنے کہا کہ مسلمانوں پر تنقید کرنا اغیار کو خوش ہونے کا موقع دینا ہے۔اس لیے ان کا مشورہ تھا کہ مسلمانوں پرکھلی تنقید نہ کی جائے۔میںنے کہا کہ یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔یہ وہی چیز ہے جس کو قوم پرستی کہا جاتا ہے۔یہ اصولی معاملہ میں حساس ہونے کے بجائے قومی معاملہ میں حساس ہونا ہے۔حقیقت کامجروح ہونا آپ کو نہیں تڑپاتا۔البتہ قومی فخر مجروح ہو تو آپ تڑپ اٹھتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے اس مشورے کو قبول نہیں کر سکتا۔

12جنوری1986

تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ایک عالم سے اپنی گفتگو نقل کی۔مذکورہ عالم نے ان سے یہ شکایت کی کہ تبلیغی جماعت کے لوگ جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے جہاد کو نہیں چھوڑا ہے۔البتہ قتال سے ہم الگ رہتے ہیں۔آپ نےخود کتاب’’نورالانوار‘‘ (جلد 1، صفحہ 170-172)میں ہم کو یہ پڑھایا ہے کہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہاد حسن لذاتہ ہے، قتال حسن لغیرہ ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ جہاد ہے، نہ کہ قتال۔چنانچہ دعوت کا جو کام ہم کر رہے ہیں وہ عین جہاد ہے،اگرچہ وہ قتال نہیں۔پھر آپ کو ہمارے اوپر کیا اعتراض ہے۔

13جنوری 1986

پچھلی ڈائری دیکھ رہا تھا۔اس میں2نومبر1979 کی تاریخ کے ساتھ حسب ذیل تحریر ملی۔یہ میںنے جمعیۃ بلڈنگ(پرانی دہلی) میں لکھی تھی

آج مولانا محمد شعیب کوٹی اور مسٹرغلام نبی شاہین کشمیری سے گفتگو ہوئی۔یہ دونوں جماعت اسلامی کے سیاسی فکر سے اتفاق رکھتے تھے۔میں نے کہا کہ اس وقت بظاہر لوگوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم دنیا میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کافکر غالب ہے۔مگر بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ یہ فکر مغلوب ہو جائے گا اور الرسالہ کا فکر مسلم دنیا میں غالب فکر کی حیثیت حاصل کر لے گا۔آپ لوگوں کو آج میری یہ بات بہت عجیب معلوم ہوگی۔مگر،ان شاءاللہ، آپ لوگ یہ دیکھنے کے لیے زندہ رہیں گے۔اگرچہ میں شاید اس وقت مر چکا ہوںگا۔

پھر میں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا جو فکر ہے اس کے اندر صرف وقتی قدر ہے۔وہ دائمی قدر کا حامل نہیں ہے۔انیسویں صدی عیسوی کی دنیا میں جو سیاسی افکار اٹھے اور مسلمانوں کے اندر نوآبادیاتی غلبہ کےنتیجے میں دوسرے اسباب سے جو رد عمل پیدا ہوا، اس کے ماحول میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین کا فکر بنا۔یہ فکر مخصوص سیاسی دور کی پیداوار ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی پیداوار۔ چنانچہ انہوںنے اسلام کو سیاسی انقلاب کے روپ میں پیش کردیا۔

اسلام کی سیاسی تعبیر بنیادی طور پر اپنے زمانے کے سیاسی حالات کا رد عمل ہے۔ اوریہ زمانہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔آج کا انسان فطرت کی زمین پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔اسلام کی سیاسی تعبیر کی ساری اہمیت سیاسی حالات کی زمین پر ہے۔آنے والا انسان جو فطرت کی زمین پرکھڑا رہنا چاہے گا، اس کے لیے فکری تسکین صرف الرسالہ کے پیغام میں ہوگی اور اس وقت کے آنے میں شاید دس سال سے زیادہ نہیں لگیں گے۔

114جنوری 1986

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مجھ پر بعض لمحاتی تجربے گزرتے ہیں۔یہ تجربے انتہائی لطیف اور انتہائی حد تک ناقابل بیان ہوتے ہیں۔ان کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ الفاظ صرف اصل تجربہ کی علامت ہوںگے، نہ کہ اصل تجربہ کا بیان۔ مثلاً میری سابقہ ڈائری میں22 مارچ،1980 کی تاریخ کے ساتھ ایک تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے

آج میں اپنی کتاب ’’عظمت قرآن‘‘ کا دیباچہ لکھ رہا تھا۔اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزرا۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اس کو لکھ رہا ہوں اور خدا کی خصوصی تائید اترر ہی ہے، جس کو میں سکینت کہا گیا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3614) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میرے اندر کا غم کچھ الفاظ کی صورت میں ٹپک پڑتا ہے۔یہ سارا عمل بالکل بے اختیارانہ ہوتا ہے۔یعنی میں سوچ سمجھ کر یہ الفاظ نہیں بولتا۔بلکہ یہ الفاظ اپنے آپ ایک بے حد درد انگیز کیفیت کے ساتھ زبان پر آ جاتے ہیں۔مثلاً ایک مرتبہ یہ فقرہ میری زبان پر آ گیا

’’لوگ جنت کا نام لیتے ہیں ۔حالانکہ ان کے اعمال بتاتے ہیں کہ انھیں جنت سے کوئی دلچسپی نہیں‘‘۔

22فروری 1985 کا ایک لمحاتی تجربہ میری ڈائری میں ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے

’’آج دن میں ایک عجیب تجربہ گزرا۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ہر آن ختم ہو رہا ہوں اور ہرآن دوبارہ زندہ ہو رہا ہوں۔جیسے کہ ہرآن میں اپنے موجودہ لمحہ میں ختم ہو رہا ہوں اور ہر آن اپنے اگلے لمحہ میں دوبارہ موجود ہو رہا ہوں‘‘۔

15جنوری1986

ایک بزرگ نےقرآن کی تفسیر لکھی۔اس کے بعد انہوںنے یہ شعر کہا

روز قیامت ہر کسے با خویش دارد نا مۂ من نیز حاضر می شوم تفسیرقرآں در بغل

Qur'anQuotes the Qur'an

ایک معروف عالم دین نے اپنی سیرت کی کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے

other sourceWords of another person or source

’’...سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ (کتاب) خدا کے یہاںقبول اورمصنف کے لیے ذریعۂ مغفرت اور وسیلۂ شفاعت ہو تو وہ سمجھے گا کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اسی کو یہ کہنے کا حق ہوگا

other sourceWords of another person or source

شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

میرا مزاج اس معاملے میں سراسر مختلف ہے۔میرے ذہن میںکبھی بھی یہ خیال نہیں آتا کہ قیامت کے دن جب خدا پوچھے گا کہ تو کیا لایا تو میں کہہ دوںگا کہ فلاں کتاب لکھ کر لایا ہوں۔

اس قسم کی باتیں مجھے خدا کاکمتر اندازہ(underestimation)معلوم ہوتی ہے۔خدا اس سے بہت برترہے کہ اس کے یہاں ہم اپنی کتاب پیش کریں۔درخت کی ایک پتی بھی انسانوں کی لکھی ہوئی تمام کتابوں سے زیادہ عظیم ہے۔اسی طرح آخرت کی غیر فانی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ کوئی فانی عمل اس کی قیمت دلا سکے۔

میری زبان سے تو جب بھی دعا نکلتی ہے یہی نکلتی ہے کہ خدایا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔میں اکثر یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا میرے نامۂ اعمال سے میرے تمام کاموں کو حذف کر دے اور صرف اپنی رحمت کو اس میں لکھ دے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو آدمی کو نجات دینے والی ہو۔

16جنوری 1986

مولانا رومی کا شعر ہے

دین حق را چار مذہب ساختند رخنہ در دین نبی انداختند

(خدا کے سچے دین کو لوگوں نے چار دین بنا دیا اور اس طرح پیغمبر کے دین میں رخنہ ڈال دیا)

اسی طرح کے اشعار اقبال کے یہاں بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔مثلاً ان کا یہ شعر

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی

اس طرح کی سخت باتوں کے باوجود مسلمان کے یہاں رومی اور اقبال بہت زیادہ مقبول ہیں۔ اس کے مقابلے میں راقم الحروف نے اپنی کتاب’’ تجدید دین‘‘ اور بعض دوسری تحریروں میں اس طرح کی باتیں کہیں تو مسلمان بے حد خفا ہو گئے۔

اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رومی اور اقبال اس بات کو شعر کی زبان میں کہتے ہیں اور میں اس کو علمی تجزیہ کی زبان میں کہتا ہوں۔ شعر کے اسلوب میں کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔شعر کے ردیف و قافیہ میںکوئی بات نہ فی الواقع غلط ثابت ہوتی ہے اور نہ صحیح۔وہ تو صرف ردیف و قافیہ ہوتا ہے اور بس۔

اس کے برعکس، میرے تجزیاتی مضامین ان باتوں کو ثابت شدہ حقیقت بنا رہے ہیں۔اس میں صحیح صحیح ہو جاتا ہے اور غلط غلط۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کو پڑھ کر ناراض جاتے ہیں۔رومی اور اقبال کے اشعار کو گنگنانے سے ان کے عقیدے متزلزل نہیں ہوتے۔جبکہ میرے مضامین پڑھ کر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے روایتی عقیدے کی دیوار منہدم ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں رومی اور اقبال پسند کیے جاتے ہیں اور ٹھیک اسی قسم کی بات میں کہتا ہوں تو مجھ سے ناراض جاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17جنوری1986

’’دور جدید‘‘ میں مسلمان سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر پٹرو ڈالر کی طاقت ظاہر نہ ہوئی ہوتی تو آج مسلمان ایک قسم کے بین الاقوامی اچھوت بن چکے ہوتے۔

اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری لیڈروں پر ہے۔19ویں صدی عیسوی میں جب مغربی اقوام نے مسلم قوتوں پر غلبہ حاصل کیا تو مسلمانوں نے اس اعتبار سے کچھ بھی نہ سوچا کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جس سے مسلح ہو کر مغرب کی قومیں دنیا پر چھا گئی ہیں۔مسلم لیڈر نفرت اور منفی رد عمل کے سوا اس وقت کسی اور چیز کا ثبوت نہ دے سکے۔

اس زمانے میں ایسے شعرا اور خطبا پیدا ہوئے جن کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کا مذاق اڑاتے ہیں۔اسی میں ایک مثال اکبر الہ آبادی (1846-1921ء) کی ہے۔ان کے اشعار کی کثیر تعداد ایسی ہے، جو مغرب سے نفرت اور استہزا پر مبنی ہیں۔حتیٰ کہ انہوں نے مغرب کی انتہائی مفید چیزوں کا بھی مذاق اڑایا۔مثلاً ان کا ایک شعر ہے

حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا پانی پینا پڑا ہے پائپ کا

اسی طرح ان کا ایک شعرہے

بچوں کے کبھی قتل سے بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اسی قسم کی منفی باتیں تھیں جنھوںنے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے دو سو سال دور کر دیا۔وہ مغرب کی ہر چیز کو نفرت کی نظر سے دیکھتے رہے۔یہاں تک کہ جاگے تو اس وقت جاگے جب کہ دنیا ان سے بہت آگے جا چکی تھی۔ ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں— میں ایک لمحہ کے لیے غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content