Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala May 2022
Al-Risala May 2022

اظہارِ آیات کا دور

Urdu · 4 min read

قرآن کے نزول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ انسانی ترقی ابھی سائنس کی دریافتوں تک نہیں پہنچی تھی۔ دنیا میں ابھی امن کا زمانہ نہیں آیا تھا، دنیا میں ابھی دورِ شمشیر باقی تھا۔ اس وقت قرآن میں مستقبل کے بارے میں ایک تاریخی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

قرآن کی ایک متعلق آیت کے الفاظ یہ ہیں سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس پیشین گوئی پر ہزار سال سے زیادہ کی مدت گزرچکی ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی یہ پیشین گوئی ساتویں صدی کے بعد کے زمانے میں یقینی طور پر ظہور میں آنی چاہیے۔ اس لیے اب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ تبیینِِ حق کا یہ دور کب آیا۔ تبیین حق کا معاملہ تبیینِ آیات(کائناتی نشانیوں کے ظہور) سے پہلے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ آیات کی تبیین کے بعد کا معاملہ ہے۔اور ماڈرن سائنس نے کائناتی نشانیوں کو ظاہر کرنا شروع کردیا ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر کائناتی سطح پر وقوع میں آنے والا تبیین حق، یعنی حق کے اظہار کا ایک درجہ پیغمبر اسلام کے زمانے میںباقی تھا، یہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا۔ اور یقینی طو رپر کہا جاسکتا ہے کہ اب ، سائنسی دور میں وہ ظاہر ہوچکا ہے۔دوسرے الفاظ میں، قرآن کی ایک تبیین وہ ہے جونزول قرآن کے زمانےمیں ہوئی۔ لیکن ایک اور تبیین باقی تھی، جو بعد کے زمانے میں پوری ہوئی۔یعنی سائنسی ڈسکوریز کی بنیاد پر ہونے والی تبیین (manifestation)۔

راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق،آیت میں جس تبیینِ حق کا اعلان ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں کیا گیا تھا، وہ اب یقینی طو رپر ایک واقعہ بن چکا ہے۔اس لیے اب یہ دریافت کرنے کا وقت ہے کہ اس تبیین حق سے مراد کیا ہےتا کہ اس کو اپنے علم کا حصہ بنایا جائے۔ اور ایسی تفسیرِ قرآن لکھی جائے، جو سلف کے استنباط اور تشریحات پر مبنی نہ ہو، بلکہ دورِ حاضر کی دریافت شدہ معلومات پر مبنی ہو۔

جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر میں قرآن کے تقاضوں کا جاننا ممکن نہ ہوگا۔دورِ حاضر کے سوالوں کا جواب علمائے سلف کی کتابوں میں نہیں ملےگا، بلکہ اس کا جواب جب بھی ملےگا، وہ دورِ حاضر کےاہل علم کی کتابوں میں ملے گا۔ قیاساً اس میں وہ غیر مسلم افراد یا اقوام شامل ہیں، جن کے بارے میں حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ دین کی تائید کریں گے(إِنَّ اللہَ جَلَّ وعَزَّ لَیُؤَیِّدُ الإِسْلَامَ بِرِجَالٍ ‌مَا ‌ہُمْ ‌مِنْ ‌أَہْلِہِ)المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640۔ اس روایت کے مطابق، جو لوگ اس حقیقت کو کھولیں گے، وہ غیر اہل ایمان ہوسکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثال کے طور پر سائنسی اندازے کے مطابق،تقریبا13.8 بلین سال پہلے ایک عظیم کائناتی دھماکہ ہوا۔ اس عظیم دھماکے کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی ڈسکوری سیکولر اہل علم نے کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ عظیم دھماکہ ہماری کائنات کا آغاز تھا۔ غالباً یہی کائناتی واقعہ ہے، جس کا قرآن میں ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہےأَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا(21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان رتق کی شکل میں تھے۔ رتق کا مطلب ہےمنضم الاجزاء(joined together)یعنی انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے۔ پھراللہ نے ان کا فتق کیا، یعنی یہ تمام اجزاء ایک دوسرے سے الگ الگ کردیےگئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب اس سے غافل ہونا، مجرمانہ فعل ہوگا، اور یہ بھی کہ جن ایشوز کو لے کر ساری دنیا کے مسلمان بڑے بڑے مظاہرے کررہے ہیں، وہ سب نہ صرف بے سود بلکہ غیر متعلق ہیں۔ اب کرنے کا صرف ایک کام ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تبیینِ حق کاجو موقع دیا ہے، اس کو استعمال کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content