Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2022
Al-Risala May 2022

آیتِ امید

Urdu · 2 min read

قرآن کی ایک آیت کو آیت ِ امید کہا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی یہ آیت دوسری آیتوں سے بظاہر ایک ڈفرنٹ آیت ہے۔ اس قسم کی دوسری آیتوں میں عام طو رپر یہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر اپنے گناہ سے توبہ کرے اور اللہ سے معافی مانگے تو امید ہے کہ اس کی بخشش ہوجائے گی۔ مگر اس آیت میں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں صرف یہ ہے کہ گناہ گار آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ کیوں کہ اللہ اتنا زیادہ رحیم و کریم ہے کہ وہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔

اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ تمام گناہوں کو معاف کرسکتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس عام معافی کے ساتھ توبہ اور طلبِ عفو کا کوئی ذکر نہیں۔ گویا کہ اگر آدمی کے اندر اللہ کی رحمت پر سچا یقین ہو تو اللہ کی رحمت خود ہی متحرک ہوجائے گی، اور وہ بندے کے تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ کی رحمت پر اگر بندے کے اندر کامل یقین ہے تو اس کا یقین اپنے آپ معافی کی سفارش بن جائے گا۔ اور بندے کے تمام گناہوں کو معاف کرکے اس کے لیے جنت مقدر کردی جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عدم قنوط(مایوس نہ ہونا) ایک ایسا عمل ہے، جس کی وجہ سے انسان کو خدا کی رحمت مل سکتی ہے۔یعنی انسان کے اندر کامل معنی میں عدم قنوط ہو تو اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوگا کہ لفظی اظہار کے بغیر اس کے لیے گناہ سے معافی کا ذریعہ بن جائے۔آیت کا یہ انداز اتنا زیادہ رحمت سے بھرا ہوا ہے کہ اکثر علما نے یہ مانا ہے کہ قرآن کی یہ آیت سب سے زیادہ پرامید آیت ہے (‌‌‌أَرْجَى ‌آیَةٍ ‌فِی ‌الْقُرْآنِ )۔ گویا اللہ کی رحمت سے مایوسی سب سے بڑی خطا ہے، اور اللہ کی رحمت پر یقین سب سے بڑا عمل۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content